پاک بھارت فوجی ڈاکٹرائنز

پاکستان اور بھارت نے 1947 سے لے کر آج تک کئ بڑی اور چھوٹی جنگیں لڑی ھیں ۔ ان میں 1948 میں کشمیر کی جنگ ، 1965 کی جنگ ، 1971 کی جنگ ، سیاچن تنازعہ اور کارگل کی جنگ شامل ھیں ۔ فوجی یا جنگی ڈاکٹرائن ایک ایسی عسکری پالیسی ھے۔ جو کسی جنگ کی صورت میں عمل میں لائی جاتی ھے۔ اگرچہ کوئی بھی فوجی ڈاکٹرائن چند اصولوں اور ضابطوں پر وضع کی جاتی ھے۔ لیکن اس پالیسی کا مرکزی خیال تھیوری سے زیادہ عملی پلاننگ پر ھوتا ھے۔ ایک ایسا رہنما ایکشن پلان جس پر جنگ کے دوران عمل کرنا اور کامیابی حاصل کرنا بنیادی مقصد ٹھہرتا ھے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزرے سالوں میں بدلتے حالات و واقعات اور فوجی قوت کے تناظر میں کئی ڈاکٹرائنز بنیں۔ تبدیل ھوئیں اور یہ عمل ھنوز جاری ھے۔ ان ڈاکٹرائنز کی ایک فہرست مندرجہ ذیل ھے۔ جس پر ھم ایک ایک کرکے مختصر گفتگو کریں گے۔ تاکہ معلوم ھو سکے۔ پاک بھارت تعلقات میں ان ڈاکٹرائنز کا کیا عمل دخل رھا ھے۔ اور خاص طور پر ان ڈاکٹرائنز نے پاکستان کے جمہوری ، سماجی ، سیاسی اور معاشی معاملات پر کیا اثرات مرتب کیے ھیں۔ اور ان ڈاکٹرائنز کے پس منظر میں سول ملٹری ریلیشن شپ کی کیا صورتحال رھی ھے۔ چیدہ چیدہ ڈاکٹرائنز یہ ھیں۔
1- بھارت پر فوجی بالادستی کی ایوب ڈاکٹرائن
2۔ بھارت کا مسلسل خون بہانے کی ضیاءالحق ڈاکٹرائن
3- اسلم بیگ ایٹمی پھیلاو کی ڈاکٹرائن
4۔ سندر جی دفاعی ڈاکٹرائن
5۔ کولڈ سٹار جارحانہ ڈاکٹرائن
6۔ مشرف کی پاکستان فسٹ ڈاکٹرائن
7۔ اے ایف پاک ڈاکٹرائن
8۔ کیانی مزاحمتی ڈاکٹرائن
9۔ راحیل شریف اینٹی دھشت گردی ڈاکٹرائن
10۔ باجوہ امن ڈاکٹرائن
اگر ھم ان تمام ڈاکٹرائنز کا صرف ناموں کی حد تک تقابلی جائزہ لیں۔ تو ھمیں پہلی ڈاکٹرائن سے لے کر آخری ڈاکٹرائن تک ایک خاص قسم کا سفر نظر آتا ھے۔ جسے سمجھنا بہت ضروری ھے۔
1- بھارت پر فوجی بالادستی کی ڈاکٹرائن
اس ڈاکٹرائن کی بنیاد اس تصور پر رکھی گئی۔ کہ مسلمانوں نے چونکہ 800 سال تک ھندوستان پر حکومت کی ھے۔ چناچہ پاکستان جو کہ ایک اسلامی ریاست ھے۔ یہاں کے مسلمان آج بھی ھندوستان کے اوپر عسکری اور فوجی برتری کے اھل ھیں۔ اور ھمارا ایک فوجی بھارت کے دس فوجیوں کے برابر ھے۔ اس اسلامی جہادی اور عسکری تصور کی کامیابی کے لیے ایسا ادب تخلیق کیا گیا۔ جس میں ھندوستان اور اسلام کی تواریخ سے اسلامی مجاہدوں کے رومان پرور امیج کو گلوری فائ کیا گیا۔ بھارت کو ایک ایسا دشمن سمجھا گیا۔ جو پاکستان کی تخلیق کے خلاف ھے اور موقع پاتے ھی پاکستان کے وجود کو مٹا دے گا۔ اس تصور کو کشمیر کی جنگ اور کشمیر کے تنازع سے توانائی ملتی رھی۔ اور دو قومی نظریہ پاکستان کے وجود کا لازمی حصہ بن گیا۔ بھارت کے ساتھ مخاصمت نے پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کو متاثر کیا اور پاکستان کی سماجی اور معاشی اور فوجی ترقی پر اس کے اثرات مرتب ھوے۔ بھارت پر برتری کے اس تصور کو پہلے 1965 کی جنگ اور پھر 1971 کی جنگ میں شدید ضرب لگی۔ پاکستان دولخت ھو گیا۔ اور اندرا گاندھی نے اعلان کیا۔ اس نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ھے۔
بھارت کے ساتھ دشمنی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو پرو امریکہ بنا دیا۔ جس کا آغاز وزیر اعظم لیاقت علیخان کے مئی 1950 میں امریکہ کے دورے سے ھوا۔ حالانکہ روس اس سے قبل لیاقت علی خان کو دورہ روس کی دعوت دے چکا تھا۔ لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر لیاقت علی خان امریکی یاترا پر چلے گئے۔ کہا جاتا ھے۔ پاکستان کے وزیر خزانہ ملک غلام محمد اور سیکرٹری ڈیفینس اسکندر مرزا نے لیاقت علی خان کو انفلوئنس کیا۔ 1951 میں جنرل ایوب پاکستان کی فوج کے کمانڈر انچیف بن گئے۔ ایوب خان ایک جونیئر جرنیل تھے۔ اور ایک خیال کے مطابق انہیں اسکندر مرزا کی سفارش پر پہلا پاکستانی سپہ سالار مقرر کیا گیا۔ لیاقت علی خان نے جس پرو امریکی خارجہ پالیسی کا آغاز کیا تھا۔ آنے والے سالوں میں اس میں شدت آ گئ۔ پاکستان کولڈ وار کا حصہ بن گیا۔ نیٹو اور سینٹو جیسے روس مخالف معاہدوں میں شمولیت اختیار کی گئ۔ اور جنرل ایوب کے دور میں پشاور کے قریب بڈھ بیر کا فضائی اڈا امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔ امریکہ کے ساتھ اس سانجھے داری کے نتیجے میں پاکستان کو بے بہا امریکی فوجی اور مالی امداد حاصل رھی۔ پالیسی یہ تھی۔ ضرورت پڑنے پر اس فوجی امداد کو بھارت کے خلاف استعمال کیا جاے گا۔ اور جس کا آغاز آپریشن جبرالٹر کی شکل میں کشمیر میں کیا گیا۔ اس امریکی مالی امداد کی وجہ سے پاکستان کی معاشی ترقی بھی ھوئ ۔لیکن روس ھمارا دشمن بن گیا۔ جس نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں کھل کر بھارت کی مدد کی۔ جبکہ ھم ساتویں امریکی بحری بیڑے کا انتظار ھی کرتے رھے۔ امریکی موقف یہ تھا۔ کہ وہ پاکستان کی مدد کولڈ وار کا ساتھی ھونے کی وجہ سے کر رھا ھے۔ نہ کہ بھارت کے خلاف۔ جبکہ ھم اس کولڈ وار کا حصہ بنے ھی بھارت کی وجہ سے تھے۔ مسلسل فوجی آمریت کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں سیاسی بے چینی کا آغاز ھوا۔
1971 تک بھارت پر سپریمیسی کی ڈاکٹرائن دم توڑ گئ۔ یہ معلوم ھو گیا۔ امریکہ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ کہ روائتی ھتیاروں سے بھارت کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ھی بھارت کے ساتھ روائتی جنگ لڑی جا سکتی ھے۔ چناچہ ذوالفقار علی بھٹو نے جنگی توازن قائم رکھنے کے لیے ایٹمی پروگرام پر عمل شروع کیا۔ روس کے ساتھ از سر نو تعلقات استوار کیے گئے۔ پاکستان اسٹیل مل جس کا ایک ثبوت تھا۔ اسلامی یکجہتی کے لیے اسلامی کانفرنس کروائی گئی۔ تاکہ امریکہ پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اور عرب ملکوں سے تیل کو بطور ھتیار استعمال کروایا گیا۔ افغانستان میں تزویراتی گہرائی کا تصور معرض وجود میں آیا۔ اور افغان مجاہدین تیار کرواے گئے۔ یہ ایک طرح سے 1971 تک کی تمام پالیسیوں کی الٹ سمت میں چلنا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *