کیا موجودہ حکومت نے ملک کو کچھ نہیں دیا؟

ہوا میں بہت زیادہ مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ بہت مشکل ہے ایسے داکار کو ڈھونڈ نکالنا جو کسی انجان کی دھمکیوں سے نہ گھرا ہو اور مایوس نہ ہو۔ حتی کہ جو حادثے سے بچ گئے ان کو بھی بجائے حل نکالنے کے کسی نہ کسی طرح گھسیٹا ہی گیا۔ اسی وبا کی وجہ سے 2018 2013 سے بہت مختلف ہے2013 کے الیکشن کا لمحہ واقعی جشن کا موقع تھا ۔ قوم کی تاریخ میں پہلی دفعہ جمہوری اطرز کے انتخابات کے ذریعے حکومت تبدیل ہوئی۔ پانچ سال کے وقفے میں پاکستان نے دو تاریخی قدرتی آفتیں جھیلیں؛ ایک تو بے مثال بین الاقوامی تیل کی قیمت میں اضافہ اور دوسرا بلا روک ٹوک کی دہشت گردی۔ البتہ PPP گورنمنٹ افراط زر کو 25٪ سے 10٪ پر لانے میں کامیاب رہی۔ اس تیل کی بڑھتی قیمت کے نتیجے میں لوگ ضروری اشیاء خریدنے سے قاصر تھے۔ اور اب یہ وقت امیدوں سے بھرا ہے۔ مخالفوں نے یہ سارے الزامات آصف علی زرداری پر لگا دیے ہیں اور وہ اپنے رستے ہو لیے ہیں۔ یہ امیدی اور مایوسی دونوں وبائی ہیں اور معاشرت حقیقتا تیز۔ ٌپاکساتن سٹاک مارکیٹ آسمان پر پہنچ گئی ہے ؛ اور جائیداد کی خریدوفروخت یعنی رئیل اسٹیٹ بھی۔ ایک سازگار بینالاقوامی فضاء اور تیل کی قیمت میں کمی نے لوگو ں کو ایک بڑی سہولت مہیا کی ہے۔ انفلیشن اپنی حد میں رہی اور گروتھ میں اضافہ
ہوا۔ خوش رہنے والے ممالک کی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 2013 میں 81 جب کہ 2018 میں 75ویں نمبر پر ہے۔ اس حساب سے  پاکستان ایشیا کا سب سے زیادہ خوش رہنے والے لوگوں کا ملک ہے۔ کرپشن کی آگاہی سے متعلق رپورٹ میں بھی پاکستان 130 سے ترقی کرتا ہوا 117 نمبر پر پہنچ گیا ۔ 11000 میگاواٹ بجلی قومی گرِڈ میں شامل ہوئی اور سی پیک کے ذریعے ملک کی ترقی کے امکانات روشن نظر آنے لگے۔ پچھلے پانچ سال کی بہترین چیز 18 ویں ترمیم کی وجہ سے صوبائی حکومتوں کے درمیان مقابلہ بازی تھی ۔ چونکہ کارکردگی کی ڈیمانڈ مرکزی حکومت سے صوبائی حکومتوں پر منتقل ہو چکی تھی اس لیے کے پی کے اور پنجاب کے درمیان شدید کشمکش دیکھنے کو ملی۔ سندھ میں بھی ایک محنتی وزیر اعلی لگا کر پیپلز پارٹی نے مقابلے میں رہنے کی کوشش کی۔ پنجاب اور کے پی کے حکومتوں نے ووٹرز کو متاثر کرنے کے لیے اعلی طریقے کی حکومتی کارکردگی دکھائی ۔ شہباز کی حکومت کا سٹائل جمہوری نہیں تھا۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی کو اپنے بھائی کی مرکزی اسمبلی کے مقابلے میں بھی کم اہمیت دی۔ البتہ ان کی حکومت نے سٹیٹ بلدنگ میں بہت ہی شاندار کارکردگی کے زریعے اپنی ویبیرن بیوروکریسی کی دھاک بٹھائی۔ کئی دھائیوں کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ سول سروس کی ڈیلیوری میں کئی گنا تیزی آئی ہے۔ 60 ء کی دھائی کے بعد پہلی بار یہ دیکھنے کو ملا کہ ڈی سی اوز اب منتخب نمائندوں کو چائے نہیں پلاتے اور منتخب نمائندے انہیں ٹرانسفر کرنے کا بھی اختیار نہیں رکھتے۔ سٹیٹ ڈیلیوری اور پولیٹکس کے بیچ کا توازن کافی حد تک بہتر ہو چکا ہے۔ یہ ایک اچھا سیاسی اقدام تھا۔ حکومت کے سائز کو بھی چھوٹا کیا گیا ۔ اب 90ء کے دور کی سیاست سے الیکٹوریٹ کو مطمئن کرنا آسان نہیں رہا۔ کے پی کے حکومت نے بھی پنجاب کی تقلید کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کا زیادہ تر کام دعووں تک ہی محدود رہا۔ اسے بعض معاملات میں پنجاب حکومت کے منصوبوں کی نقل کرنا پڑی ۔ میٹرو بس پر تنقید کے باوجود کے پی حکومت نے بھی میٹرو پراجیکٹ پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ دونوں حکومتوں کے بیچ مکمل موازنہ مشکل ہے لیکن یہ طے ہے کہ 2013 کے بعد ایک واضح بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ یہ نا امیدی اور مایوسی اس طبقہ میں پائی جاتی ہے جس نے اس ٹرن راونڈ سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا یعنی شہری مڈل کلاس۔ ہر بار کی طرح اس کلاس کی وجہ سے جمہوریت خطرے میں ہے۔ اگرچہ یہ کلاس صرف بیس فیصد آبادی پر مشتمل ہے لیکن یہ مال غنیمت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرنا چاہتی۔ جیسے کہ سوکویاما نے ایک موقع پر کہا تھا: جب تک مڈل کلاس اقلیت میں رہے گی، جمہوریت خطرے میں رہے گی۔ کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ 2018 میں جمہوریت کے تسلسل سے ملک کو فائدہ پہنچے گا یا جمہوریت مضبوط ہو گی۔ جمہوریت رہے یا نہ رہے لیکن پورے نظام میں ایک مایوسی کی حالت چھا گئی ہے ۔ ن لیگ کی مایوسی کی وجہ کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ اس کے پاس ووٹرز ہیں اور حکومت بھی ہے لیکن پھر بھی اسے ڈر ہے کہ یہ سب کچھ کھو سکتی ہے۔ اگر نواز شریف زرداری کی طرح غیر مقبول ہوتے تو معاملہ بہت آسان ہوتا۔ لیکن نواز شریف ایک بہت مقبول لیڈر ہیں اور انہوں نے لڑائی
لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی چیز نے عمران خان کو بھی پریشان کر رکھا ہے اور وہ اب عامر لیاقت اور خادم حسین رضوی کے استعمال شدہ سیاستدانوں کو ساتھ ملانے پر مجبور ہیں۔ جیسے جیسے ان کے حمایتی لوگوں میں کمی ہو رہی ہے وہ کسی بھی طرح اپنے سوشل میڈیا بریگیڈ کو وسیع کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اپنے آن لائن بریگیڈ کے ذریعے مخالفین کو خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ ان کا بلندیوں کا سفر جاری رہے۔ زرداری کو فارمولا میں فٹ کیا جائے تو وہ بھی بادشاہ بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف شیخ رشید جو عمران خان کے سائیڈ کک کی حیثیت رکھتے ہیں وہ ملک میں جوڈیشل مارشل لا کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ پی پی اس لیے پریشان ہے کہ یہ پارٹی سندھ تک مقید ہو کر رہ گئی ہے اور اگر بلوچستان کی ہوا سندھ پہنچی تو یہ صوبہ بھی اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ مختصر یہ ہے کہ پارٹی بہت مشکل صورتحال کا شکار ہے اور زرا سی چوک بھی اس پارٹی کے
اختتام کا زریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مذہبی جماعتیں بھی بہت مشکل وقت سے گزر رہی ہیں۔ پہلی پریشانی یہ ہے کہ مین سٹریم پارٹیاں ان کے ووٹر چرا لیتی ہیں۔ پی ٹی آئی نے وہ کام جو ن لیگ نے تیس سال پہلے شروع کیا تھا اب ختم کر دیا ہے۔ نئی مذہبی جماعتیں بھی سامنے آ رہی ہیں جس کی وجہ سے سابقہ پارٹیوں کے ووٹ تقسیم ہو رہے ہیں۔ ایم ایم اے کی بحالی بھی مذہبی جماعتوں کی مایوسی کی علامت ہے ۔ ایک سسٹم سے دوسرے سسٹم میں بدلنا ایک انقلابی عمل ہوتا ہے ۔ یہ عمل ہم نے 2008 میں اپنی تاریخ میں تیسری بات دیکھا۔ اس طرح کے مواقع محض ایک واقعہ نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے ایک بڑی جدو جہد اور اہمیت ہوتی ہے۔ عمل اور واقعہ کے بیچ ایک گہرا تعلق موجود ہوتا ہے۔ پراسیس کے دوران مختلف گروہ حدود اور تبدیلی کے ضابطے پر بحث کرتے ہیں۔ اس وقت بھی مذاکرات کا عمل مشکلات اور ناکامی کا سامنا کر رہا ہے۔ ہر کوئی یہ دیکھ سکتا ہے کہ ایک بار پھر ملک پر مشکل حالات طاری ہیں۔ نئی نسل کے لیے دو دہائیں اور ضائع کر دینا ایک اچھا عمل نہیں ہو گا۔ مایوسی کی حالت انسان کو مزید مایوسی میں دھکیل دیتی ہے۔ ایک مشہور فلاسفر کیرکیگارڈ کا کہنا ہے: مشکل کی پہچان انسان کو مزید ہیجان میں مبتلا کرتی ہے کیونکہ انسان کو اپنی مشکل اور مایوسی کا علم ہوتا ہے۔ مایوسی پر مزید مایوسی اصل مایوسی سے کہیں زیادہ خطرناک چیز ہے۔ اس وقت مایوسی ترک کر کے کسی مسیحا کی پیروی کرنا زیادہ بہتر
ہو گا۔ اگر آپ نوجوان ہیں تو آپ کے پاس موقع ہے کہ ایک دو مشکلات سے نمٹنے کا تجربہ حاصل کر لیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *