پرانے پل پر واپسی

محمد ضیاء الدین

پاکستان نے ایک لحاظ سے امریکہ کے لیے چین تک پہنچنے کے لیے ایک پُل کا کام کیا تھا۔ ہنری کسجنجر جو امریکی صدر رچرڈ نکسن کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر تھے نے 9 جولائی 1971 کو پاکستان سے چین کا خفیہ دورہ کیا تھا۔ ان کے اس دورہ پر یہ اتفاق ہوا کہ امریکی صدر نکسن چین کا دورہ کریں گے۔ نکسن نے یہ دورہ فروری 1972 میں کیا۔ اس وقت یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل اس لیے تھا کہ چین اور امریکہ کے بیچ ایک نظریاتی جنگ عروج پر تھی اور چین اپنے ہمسایہ ممالک کے ذریعے امریکہ کا گھیراو کر رہا تھا۔ اس دورہ کے تقریبا چالیس سال بعد جب چین اور امریکہ ایک بار پھر تجارتی جنگ میں مصروف ہیں، تو یہ دونوں ممالک اسی پل کو پاکستان کے ذریعے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ چین شمالی پاکستان سے گوادر بندر گاہ تک ایک اقتصادی راہداری کے قیام میں مصرو ف ہے۔ دوسری طرف امریکہ کراچی بندرگاہ کے ذریعے اپنا جنگی سازو سامان افغانستان منتقل کر رہا ہے۔ پاکستان سے افغانستان کے 2 راستے ہیں ایک خیبر پاس کے ذریعے اور دوسرا بلوچستان سے چمن کے راستے افغانستان
پہنچتا ہے۔ چین کا 60 ارب ڈالر کا سی پیک ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ پراجیکٹ 6 مختلف اکنامک کوریڈور کی تعمیر کےلیے شروع کیا گیا ہے جو یوریشین لینڈ برج، چین منگولیا رشیا، چین سے وسطی ایشیا اور ویسٹ ایشیا، چین پاکستان، بنگلہ دیش چین انڈیا میانمار اور چین انڈو چائنا پیننسولا اکنامک کوریڈور پر مشتمل ہے۔ مشترکہ مقاصدرکھنے والے تمام ممالک کے لیے اس پراجیکٹ میں حصہ لینے کے لیے راستے کھلے ہیں۔ دوسری طرف امریکی کوریڈور واشنگٹن کے پاکستان پر اقتصادی پابندیون کے فیصلے سے آنکھ بچانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ امریکہ نے یہ پابندیاں پاکستان پر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی نہ کرنے پر لگائی ہیں۔ پاکستان کو معلوم ہے کہ اگر اس نے امریکہ کے خلاف مزاحمتی راستہ اپنایا تو امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ بہت برے اثرات کا شکار ہو گی۔ ایسا اس سے قبل 2011 میں بھی ہو چکا ہے جب پاکستان نے کچھ اہم واقعات کے بعد نیٹو سپلائیز کا راستہ بند کر دیا تھا جس کی وجہ پاکستان اور امریکہ میں تعلقات میں تلخی تھی۔ اس وقت امریکہ کو روس، وسطی ایشیا اور کاکاکس جیسے ممالک سے اپنے سامان رسد کے لیے مدد مانگنی پڑی تھی۔ لیکن اب 2011 کے بر عکس امریکہ کا کرغیزستان میں کوئی ہوائی اڈہ نہیں ہے جس کی بدولت اس دور میں امریکہ اپنی افواج اور سامان افغانستان منتقل کرنے کے قابل تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کے روس سے بگڑتے ہوئے تعلقات وسطی ایشیائی ممالک کے زریعے سفر کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں کیونکہ روس اپنے کمزور ہمسایہ ممالک پر اپنا رسوخ استعمال کر سکتا ہے۔ اس لیے اس وقت اگر پاکستان اپنے راستے امریکہ کےلیے بند کرتا ہے تو امریکہ کے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں بچے گا۔ اگر پاکستان کے ساتھ یہ تعلقات زیادہ دیر تک خراب رہتے ہیں تو امریکہ کے لیے افغانستان پہنچنا اتنا مہنگا سودا ہو جائے گا کہ اس کے لیے ناقابل برداشت بن جائے۔ اورا مریکہ ایسا اس لیے نہیں چاہتا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران، چین اور پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے افغانستان میں موجود رہنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ اس لیے امریکہ کو پسند ہو یا نہ ہو اور پاکستان اس کے ڈو مور کے مطالبات کو مانے یا نہ مانے، واشنگٹن کو اسلام آباد کے ساتھ مستقل بہتر تعلقات بنائے رکھنا ہوں گے تا کہ ہی آسان طریقے سے اور سستے داموں اپنی فوج کو افغانستان منتقل کرنے کے لیے راستہ حاصل کیے رکھے۔ یاد رہے کہ امریکہ کے لیے پاکستان کو زبردستی اور ہوائی حملوں کے ذریعے مجبور کرنے کی آپشن موجود نہیں ہے۔ اس لیے سی پیک اور امریکی سپلائی کوریڈور کی پاکستان کی حدود میں موجوگی چین اور امریکہ دونوں کےلیے ایک دلچسپ صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ دونوں ممالک اپنی تجارتی جنگ کے لیے کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں اور پاکستان کس طرح دونوں سپر پاورز کے بیچ پل کا کردار ادا کرتا ہے

source : https://tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *