سانس لینے کی آزادی تو دو

میں قلم ہاتھ میں لیئے بیٹھا ہوں اور بڑی افسردگی اور فکر مندی سے یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا لکھوں اور کیوں ‌لکھوں کہ جب یہاں الفاظ ہی بے حرمت ہوچلے ہیں اور حریت فکر کو ہی بے توقیر کرکے رکھ دیا گیا ہے کیونکہ ہر جانب سوچ پہ ناموس وطن کے ٹھیکیداروں اور بزعم خود نظریاتی پہریداروں کی ناکہ بندی کا منظرنامہ پھر سے ترتیب دیا جاتا صاف نظر آتا ہے ۔۔۔ اس تناظر میں میں یہ کہنے پہ مجبور ہوگیا ہوں کے ہم نے تاریخ سے بس یہی سبق سیکھا ہے کہ کچھ نہیں سیکھا ۔۔۔ کوئی بتائے کہ کیا طاقت کے نشے میں چور کسی پھنے خان کے وہی پرانے فسطائی ہتھکنڈے اب بھی ہمارا مقدر ہیں کہ جو آگہی کا گلا گھونٹنے ہی کو اپنی کامیابی باور کرتے ہیں اور جنکی ساری مہارت میڈیا کا گلا گھونٹنے ہی پہ صرف ہوتی دکھائی
دیتی ہے ۔۔۔۔ بات محض ایک جیو چینل کی بندش کی نہیں بلکہ اس ذہنیت کی ہے کہ جو حریت فکر کی راہ میں بارود بچھاتی ہے اور خبر کو جبر سے پامال کرتی ہے اور علم و دانش اور کو مجروح کرکے اپنی خودپسند فتوحات کے مصنوعی علم گاڑتی ہے اور اپنے کھوکھلے فرمانوں کو سکہ رائج الوقت بنانے رکھنے پہ اصرار کرتی ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ہاں مگر کچھ نادان ایسے بھی ہیں کہ جو جیو کے یوں‌ انتہائے جبر سے بند کیئے جانے پہ خوشی سے بغلیں بجارہے ہیں لیکن یہ بھول گئے ہیں کہ بقول کسے ۔۔۔ میں آج زد پہ ہوں تو خوش گمان نہ ہو ۔۔۔ چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں ۔۔۔۔
آج جیو کی باری ہے تو کل کسی اور کی ہوگی کیونکہ جبر اور نخوت کی لغت میں کوئی کبھی دائمی پیارا نہیں ہوتا اور یہ تاریخ کی گواہی ہے کہ مزاج شاہاں کو اک ذرا سی کجکلاہی بھی کسی طور منظور نہیں اور نہ ہی تعمیل ارشاد میں ذرا بھی کوتاہی گوارا ہے اس میں کوئی شک نہیں ماضی میں یقینناً جیو سے کئی غلطیاں‌ بھی سرزد ہوئی ہیں اور اسی طرح یہ بھی سچ ہے کہ کئی اور چینل بھی غلطی سے مبرا نہیں رہے تاہم واضح طور پہ دکھائی دیتا ہے کہ ان غلطیوں سے جیو نے بہت کچھ سیکھا بھی ہے اور اب اسکے پروگراموں میں حزم و احتیاط کا عنصر خاصا غالب نظر آتا ہے لیکن احتیاط
کی پگڈنڈی پہ چلنے کا مطلب اس کا اپنی ان ابلاغی ذمہ داریوں کے مرکزی رستے سے بھٹک جانا بھی ہرگز نہیں ہے جو کہ ایک جمہوری و آئینی معاشرے کے ابلاغی و اطلاعاتی ادارے کی حیثیت سے اس پہ عائد ہوتی ہیں ۔۔۔ اس بار جیو کا قصور بھی کیا تھا ،، محض یہی کہ شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں ملک بھر کی اہم بار کونسلوں کا وہ مؤقف پیش کیا گیا تھا کہ جس میں سپریم کورٹ کے دو معزز بیباک ججوں کے ساتھ نامناسب طرز عمل کی مخالفت کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ ریٹائرڈ جسٹس دوست محمد کھوسہ کو فل کورٹ ریفرنس اس لیئے نہیں دیا گیا کہ چونکہ انکے الوداعی خطاب میں کچھ ایسی باتیں بھی کہے جانے کا خدشہ تھا کہ جن سے ملکی و عدالتی امور میں اسٹیبلشمنٹ کی نہایت ناروا مداخلت کا عنصر واضح ہوتا تھا اور اس تذکرے و نشاندہی سے کچھ طاقتور ناراض ہوسکتے تھے اور اسی لیئے ان سے پہلے سے لکھی ہوئی تقریر جمع کرانے کو کہا گیا تھا کہ جس کو دینے پہ وہ آمادہ نہ ہوئے تھے- اسی طرح جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف اچانک ایک ایسی درخواست کا سماعت کے لیئے منظور کیا جانا بھی قانونی حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بنا ہے کہ جس کا فریق ایک غیر متعلق فرد ہے اور اسی لیئے یہ درخواست ( جو قانونی لحاظ سے بھی نہایت بودی اور کمزور ہے) ابتداء ہی میں چیمبر میں نپٹائی جاسکتی تھی - اور بارکونسلوں کے نزدیک اس درخواست کی ٹائمنگ ہی سب سے زیادہ
اشتعال انگیز ہے کیونکہ کچھ عرصے میں چند اہم مقدمات میں جسٹس صاحب کے چند ایسے تنقیدی ریمارکس منظر عام پہ آئے تھے کہ جن سے وہ اسٹیبلشمنٹ کی بےلگامی پہ کھلے اعتراضات کرتے سنے گئے تھے۔۔ باالفاظ دیگر یہ دونوں ججز اپنی حریت فکر اور آزادہ روی کے باعث اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ میں کھٹکتے تھے اور اسی لیئے پہلے ایک سے نپٹا گیا اور اب دوسرے کو نشان عبرت بناڈالنے کی تیاری ہے مجھے یہ کہتے ہوئے ذرہ برابر بھی شک نہیں کے جیو کی تازہ بندش اسی حقیقت احوال سے اپنے ناظرین کو آگاہ کرنے اور اسی حریت فکر کے اظہار کی پاداش میں ہے اور مجھے یہ بات اسٹیبلشمنٹ کے گوش گزار کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ بدلتے زمانے میں وہ طاقت کے بل پہ آج بھی سوچ اور اطلاع پہ پہرے بٹھانے میں کامیاب رہنے کے جس مغالطے میں مبتلاء ہے اس سے اسے بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ یہ میڈیا کی پھیلائی بیداری اور آگہی کا عہد ہے اور اس کے سبب ہمارا معاشرہ اور اسکا اجتماعی شعور بہت آگے بڑھ چکا ہے اور اب اسٹیبلشمنٹ کا یہ متکبرانہ بیانیہ کسی صورت قابل قبول نہیں کہ " صرف ہماری آنکھ سے دیکھو ، ہمارے دماغ سے سوچو اور ہماری زبان ہی بولو ،،، کیونکہ ہم ہی سب سے بڑے محب وطن ہیں ہیں اور حب وطن کی ساری تشریحات ہم کرینگے ، ہم جب چاہیں اور جہاں چاہیں منہ ماریں ، جسے چاہیں محب وطن قرار دیدیں یا کسی کو غدار ٹہرا دیں ، کسی کو اس پہ اعتراض
کی مجال نہیں ہونی چاہیئے ۔۔۔" لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سوچ پہ دائم پہرے نہیں بٹھائے جاسکتے ۔۔۔ آگہی کے سیل رواں کے آگے نہ کبھی کوئی ٹہر سکا ہے اور نہ ہی ٹہرسکے گا کیونکہ اگر ایسا ہوسکتا تو آج بھی دنیا میں وہی چند استبدادی سلطنتیں قائم و دائم ہوتیں کہ جنہوں نے ماضی کی دنیا کے بڑے حصے کو اپنا زیرنگیں‌کیا ہوا تھا ۔۔۔ مگر آج وہ نشان عبرت بن چکی ہیں اور تاریخ کی جھاڑیوں میں انکی داستانوں کے چیتھڑے لٹکے ہوئے ہیں ۔۔۔ جیئو چینل سے کئی امور پہ بہتیروں کا اختلاف کل بھی ممکن تھا اور آج بھی ناممکن نہیں ، لیکن محض طاقت کے بل پہ کیبل آپریٹروں پہ چڑھ دوڑنا اور کسی بھی نشریاتی ادارے کا بازو مروڑ دینا درحقیقت دہشتگردی سے کم ہرگز نہیں ، اور کسی جمہوری معاشرے میں کسی بھی طرح کی وحشت و دہشت کی ذرا بھی گنجائش نہیں ۔۔۔ یہ بات ہرگز نہیں کہ کوئی بھی چینل وہ خواہ اے آر وائی ہو ، سما ہو یا جیو یا کوئی اور ۔۔۔ یہ تقدس مآب ہیں یا ناقابل گرفت ہیں کیونکہ ان میں کوئی بھی دودھ سے دھلا ہرگز نہیں ہے اوربجا طور پہ انکے کسی پروگرام پہ اعتراض یا اختلاف کیا جاسکتا ہے اور یقینناً انہیں مادر پدر آزاد قسم نہیں چھوڑا جاسکتا ۔۔۔ لیکن اس حقیقت سے بھی رو گردانی نہیں کی جاسکتی کہ یہ نشریاتی ادارے پاکستانی معاشرے میں اطلاع و ابلاغ کا ایک نہایت مؤثر ذریعہ ہیں اور اس حیثیت میں یقینی طور پہ انکے بھی کچھ حقوق ہیں جو کہ بلاشبہ انکے معاشرتی فرائض جتنے ہی اہم ہیں ۔۔۔ لیکن انکو کچھ معینہ قائدوں اور ضابطوں‌کا پابند کرنے کے لیئے پہلے تو پیمرا موجود ہے اور اس کے ناکام ہونے پہ آگے معزز عدلیہ بھی بخوبی دستیاب ہے اور ان آئینی و قانونی اداروں کے ہوتے ہوئے کسی بھی جانب سے میڈیا کے حقوق کو پائے حقارت سے ٹھکردینا اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق بات کہنے پہ مجبور کرنا یا اپنی مرضی کے خلاف بات کہنے سے روکنا تو سراسر انارکی پھیلانے اور دہشتگردی کے مترادف ہے جو کے نہ صرف ان اداروں کے ساتھ بلکہ عوام کے ساتھ بھی سراسر زیادتی ہے اور آئین پہ یقین رکھنے کے دعویدار کسی معاشرے میں کسی بھی بات سے چراغپا ہوکےکسی بھی نشریاتی ادارے کو یوں آناً فاناً روند ڈالنے کا عمل تو کسی بھی طور برداشت کے قابل ہرگز ہرگز نہیں ہے ۔۔۔ اس مرحلے پہ میں یہ کہے بغیر نہیں سکتا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ملک بھر کے اہل علم و صاحبان صحافت اہل دانش اور اہل نظر اور ارباب قانون جاگ اٹھیں اور میڈیا کی اس یرغمالی کیفیت اور آئین کی اس بے توقیری اور قانون کی اس کھلی پامالی پہ صدائے احتجاج بلند کریں اور اب ایک دوٹوک سماجی بیانیہ ترتیب دے دیں کہ جس میں کسی اگر مگر کی گنجائش کے بغیر واضح طور پہ بتادیا جائے کہ اگر اس مملکت پاکستان کو قائم و دائم رکھنا ہے تو اب بندوق نہیں برداشت کو اہمیت دی
جائے گی اور اس ملک میں سب اداروں کو آئین اور قانون کی بیان کردہ حدود کا پابند رہنا ہوگا اور کسی بھی جانب سے اپنی حدود کی پامالی نظرانداز نہیں کی جائے گی ۔۔۔ اور چونکہ کسی شک و شبہے کے بغیر ہم سب اس ملک کے اسٹیک ہولڈر ہیں چنانچہ اس ملک کی سلامتی و پاسبانی کے برابر سے ذمہ دار ہیں اور اس حیثیت سے حریت فکر کے تقاضوں‌کے مکمل پاسدار ہیں اور اسی لیئے خدا کے سوا کسی بھی طاقت کی مرضی کے مطابق سانس لینے سے یکسر انکار کرتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *