عمران خان کا نیا شیرو

عامر لیاقت کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے حوالے سے طلال چودہری کا تبصرہ بہت دلچسپ مگر بہت ستم ظریفانہ ہے ۔۔۔ کسی صحافی نے جب ان سے یہ پوچھا کہ آپکا اس بارے میں کیا تبصرہ ہے کہ عمران خان نے اپنے چہیتے کتے شیرو کو گھر سے نکال دیا ۔۔۔ تو انہوں نے کہا کہ اب جبکہ عامر لیاقت انکے پاس آگیا ہے توشیرو کی وہاں ضرورت ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔۔ میری دانست میں یہ بڑا ہی غیر محتاط بلکہ ناروا تبصرہ ہے کیونکہ کتے کی خاص شہرت ہی وفاداری ہے جبکہ عامر لیاقت تو معروف ہی اپنی بے وفائی کے لیئے ہے ۔۔۔ وہ تو ایک طویل عرصے سے کھیل ہی یہ کھیل رہا ہے کہ 'ھل من مزید' کی تمنا میں ایک کے بعد ایک چینل بدلتا چلا آرہا ہے اور ایک جگہ سے نکل کے پہلے والی والی جگہ کے لیئے الزام تراشیوں اور زہریلے تبصروں کے انبار لگا ڈالتا ہے ۔۔۔ یہ الگ بات کہ پھر یہ منظر بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ جیوکے مالک کو اسلام دشمن اور غدار قرار دینے کے بعد اسے انکے سامنے ہاتھ جوڑ کے گڑگڑا گڑگڑا کر معافیاں مانگنے کی نوبت بھی آجاتی ہے اور یہ تصویریں بھی سب میڈیا پہ آکے اسکی اوقات اور اصلیت نمایاں کرتی ہیں ۔۔ اسی طرح اسکی بڑی لجاجت سے اور بہت گھگھیا کے ، بول کے مالک شعیب شیخ اور اسکی بیگم سے مانگی گئی معافی کی ویڈیو کلپ بھی نیٹ پہ قابل ملاحظہ ہے۔۔۔

یہاں‌یہ عرض کرنا بھی بیجا نہیں کے قرآن کے بعد دوسرا بلند مقام احادیث کا ہے اور اسی لیئے مستند احادیث اتنی ہی برحق ہیں جتنی کے کلام ربانی ۔۔۔ اور اسی تناظر میں عامر لیاقت کی پی ٹی آئی میں شمولیت اور عمران کے خاص حلقے میں جا بیٹھنے سے رسول کریم کی اس حدیث کی معنویت عام آدمی پہ بھی پوری شدت سے واضح ہوجاتی ہے کہ " آدمی اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔۔" ویسے تو یہ تفہیم شاہ محمود قریشی ، پرویز خٹک ، علیم خان ، جہانگیر ترین ، لیاقت جتوئی اور فردوس عاشق اعوان کی شمولیت کے وقت ہی سے سبھی صاحبان فکر و نظر پہ عیاں ہوچکی تھی ۔۔۔ اور اب عمران خان کی عامر لیاقت جیسے منافق و مکار اور ابن الوقت شخص کی دوستی کے بعد تو اس حدیث کی روشنی میں عمران خان کا شخصی تجزیہ بڑی آسانی اور نہایت درستگی سے کیا جاسکتا ہے کے موصوف کس مزاج اور کس قماش کے ہیں ۔۔۔۔ اور جہانتک عامر لیاقت کی ذات کا تعلق ہے ، کون ہے جو اس کی اصلیت سے باخبر نہیں ، قطعی جعلی ڈاکٹر، پرلے درجے کا مکار نہایت جھوٹا و چرب زبان خوشامدی اورانتہائی فراڈی ، دین کے ساتھ کھلواڑ کرنے والا فریبی ۔۔۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ اس شخص نے ماضی میں اسلامی پروگراموں کے سیٹ پہ عالم دین کا حلیہ بناکے نہایت فحش گفتگو کرنے اور، حتیٰ کہ خلفائے راشدین اور کئی صحابہ کرام کے خلاف سخت بدزبانی اورشدید گستاخی کرنے کا ابلیسی ریکارڈ قائم کررکھا ہے ( اس سے متعلق کئی ویڈیو، نیٹ پہ آج بھی موجود ہیں اور ۔۔۔۔انہیں ختم یا غائب نہیں کیا جاسکتا

لیکن اسکے یہ سب کچھ کرنے پہ مجھے ذرا بھی حیرت نہیں ہے کیونکہ حرام کے مال پہ پلی ہوئی اولادیں ایسی ہی ہوا کرتی ہیں ، کیونکہ اسکا باپ شیخ لیاقت حسین دہشتگردوں کی آماجگاہ مظلوموں کی قتل گاہ نائن زیرو کا دم ہلاتا ہوا ایک شیرو ہی تھا کہ جس نے خدمت خلق کے نام پہ 'خدمت حلق ۔ یععنی مال حرام ڈکوسنے اور ٹھونسنے کا دھندا کیا ہوا تھا اورکئی برس اور مرتے دم تک کے کے ایف کے سربراہ کے طور پہ کام کرتا رہا اور کون نہیں جانتا کے اس ادارے کا کام ہی اپنی ایمبولینسوں میں اسحلہ کی ترسیل اور تشدد سے ہلاک کیئے گئے معتوب کارکنوں اور مظلوم عوام کی لاشوں کو ٹھکانے لگوانا تھا ۔۔۔ اس سے قبل شیخ لیاقت نے پیپلز پارٹی سمیت کئی سیاسیوں کے راتب چاٹے اور اماں‌جی محمودہ سلطانہ نے بھی اپنے دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھنے کی پالیسی اپنائے رکھی اور مسلم لیگی ہونے کے باوجود ہر دور میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ساتھ قریبی ناتے رکھے ۔۔۔ اور خود یہ عامر لیاقت موصوف بھی طویل عرصے تک اسی دہشتگردی کے اڈے کے کھونٹے سے بندھے ایک جونیئر شیرو رہے ہیں اور غیرمعمولی 'حق خدمت' کے طور پہ اسمبلی کی رکنیت اور وزارت کا راتب بھی چاٹ چکے ہیں

لیکن انکے ساتھ وہاں یہ ہاتھ ہوگیا تھا کہ انکے سینیئر وزیر اعجازالحق نے اپنے اس جونیئر کو یعنی وزیر مملکت کے طور پہ انہیں کھل کے کھیلنے اور کوئی گھپلہ کرنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا اور اس پہ عاجز آکے انہوں نے رکنیت اور وزارت چھوڑ کے میڈیا کی رنگین وادیوں کا رخ کرنے کو ترجیح دی تھی ۔۔۔ لیکن چونکہ ایم کیوایم سے نکلنا آسان نہ تھا لہٰذاآ ناموس رسالت کے حوالے سے ایک حساس معاملے پہ یک ایسے اصولی مؤقف کی آڑ لے کر باہر کی راہ کی راہ لی تاکہ جس پہ ایم کیوایم بھی انکے خلاف کچھ نہ کرپائے ،،، لیکن چند برس بعد وہ اسی ایم کیوایم میں دوبارہ جابیٹھے تھے کہ جسنے نہ تو نبی پاک کی ناموس سے جڑے اس معاملے پہ اپنی پالیسی تبدیل کی تھی اور نہ ہی کوئی معذرت طلب کی تھی یوں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی سیاسی اغراض کے لیئے بھی ناموس رسالت جیسے معاملے کو استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا تھا اور پھر جب الطاف حسین نے 22 اگست 2016 کو ملک اور مسلح افواج اور میڈیا کے خٌاف زہریلی تقریر کی تھی تواسی واحد بڑبولے اور'عقل کل نے یہ خبیثانہ جسارت کی تھی کہ میڈیا کے متعدد چینلوں پہ ڈیڑھ دن تک اس کی نفرت انگیز تقاریر کا کھلم کھلا دفاع کیا تھا جسکی ویڈیو جب چاہے دیکھی جاسکتی ہیں تاہم جب انہیں رینجرز نے اپنی تحویل میں لیا تو ایک ہی شب میں ان پہ الطاف حسین کی ملک دشمنی آشکار ہوگئی تھی ،،،

ایسے سفاکی و دہشت والے حرام کے مال پہ پلنے والی اولادیں اگر عمران لیاقت اور عامر لیاقت جیسی نہ ہوں تو اور کیسی ہونگی ۔ ان میں بڑے یعنی عمران لیاقت نے تو سیہون میں آستانہ بناکےخود کو سجدہ تک کروانا شروع کردیا تھا ( اسکی ویڈیو بھی نیٹ پہ موجود ہے ) اور چھوٹے میاں یعنی عامر لیاقت نے ہر عزت دار کی پگڑی اچھالنے اور خرافات بکنے کے غلیظ فن میں مہارت پائی اور ہر چینل کو یوں چھوڑا جیسے کوئی طوائف آشناء بدلتی ہے ۔۔۔ لیکن عامر لیاقت کی یہ سب مہارت ہی تو وہ ہے کہ جو عمران خان کو مطلوب ہے ( حالانکہ اس نے اپنی مخالفت کے زمانے میں خان کو بھی جو رگڑے لگائے تھے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ) ،،، لیکن عامر لیاقت کی یہی کمینگیاں ہی عمران خان کے لیئے اسکی قدر وقیمت کی وجہ بنی ہیں کیونکہ وہ خود بھی اسی ذہن اور قماش کا ہے اور اسی وجہ سے اسکے سوشل میڈیا سیل اور اسکے کارکنوں کے پیغامات میں اپنے مخالفین کے لیئے جس قدر مغلظات بکی جاتی ہیں آج وہ رویہ اور انداز ہی پی ٹی آئی کا مزاج اور اسکی شناخت بن چکا ہے اور اسکی بےشرمی و بدتمیزی کی انتہاء یہ ہے کہ جب ماضی میں شیریں مزاری اور فوزیہ قصوری بھی پارٹی سے ناراض ہوئی تھیں تو عمرانی ٹائیگرز نے انکی بیٹیوں اور ان کی ماؤں کی عزت کو بھی سربازار اچھال دیا تھا اور انکے خلاف سوشل میڈیا پہ نہایت فحش اورغلیظ زبان استعمال کی تھی ۔۔۔

ٍیہ بات بھی اک حقیقت ہے کہ عامر لیاقت سے قبل بھی کئی بڑے گندے اور گھٹیا رہنما پی آٹی آئی میں شامل ہوتے رہے ہیں لیکن یہ اعزاز بھی صرف اسے ہی میسر آیا ہے کہ اسکی شمولیت کے باعث عمران خان کے متعدد پرانے ساتھی بھی ناراض ہوکے تحریک انصاف کو خیرباد کہنے پہ مجبور ہوگئے ہیں حتیٰ کہ خان کے پینتییس برس کے سیاسی و سماجی رفیق گلوکار سلمان احمد بھی پارٹی چھوڑ کے چلے گئے لیکن ،،، اس سے کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ عمران بیچارہ بھی کیا کرے ۔۔۔ اسے تو یقیننا ایسے ہی افراد کو اپنے ارد گرد رکھنا ہے کہ جو اس کے ہم مزاج ہوں اور بلاشبہ دیگر قریبی گروؤں کی مانند یہ عامر لیاقت بھی اسی جیسے 'اوصآف حمیدہ' کا حامل ہے کیونکہ کوئی بھی حدیث مبارکہ کبھی غلط نہیں ہوسکتی ۔۔۔ اور ہر حدیث قول فیصل ہے اور پھریہ حدیث کہ " آدمی اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے" تو انسانوں کی اصلیت کو اور انکے معیار و مزاج کو پرکھنے کا ایسا پیمانہ ہے جوکے لاثانی بھی ہے اور لافانی بھی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *