تحریک انصاف عامر لیاقت کو کیوں لائی؟

عدنان رسول

میں نے پچھلے کچھ عرصہ میں تحریک انصاف کے بارے میں بہت سی باتیں کہی ہیں ۔ آج میں پی ٹی آئی پر تنقید کی بجائے ایک مختلف گفتگو کرنے والا ہوں ۔ میں وضاحت کروں گا کہ پی ٹی آئی عامر لیاقت جیسے لوگوں کے لیے اپنے دروازے کیوں کھول رہی ہے۔  عامر لیاقت نے کچھ ہفتہ قبل پی ٹی آئی جائن کی ہے۔ دوسرے لوگوں کی پارٹی میں آمد کے بر عکس اس بات پارٹی کارکنان کا رد عمل مختلف تھا۔ سپورٹرز نے عامر لیاقت کی پارٹی میں شمولیت پر سخت احتجاج کیا۔

عوام نے تو عامر لیاقت کے کچھ سابقہ ٹویٹس بھی سامنے لاتے ہوئے ان کی پارٹی میں شمولیت پر احتجاج کیا ۔ اگرچہ کچھ لوگوں نے عمران خان کے فیصلے کو تسلیم کرنےکا بھی اعلان کیا لیکن اس واقعہ سے دو چیزیں سامنے آئیں۔ پہلی یہ کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم اب بھی پارٹی کو منفرد مانتی ہے۔ دوسری یہ کہ پی ٹی آئی ایک عام سیاسی جماعت کی طرح رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور فیس بک کی بجائے حقیقت میں الیکشن جیتنے کی ہر ممکن کوشش کر رہیی ہے۔ جمہوریت کے فروغ کے ساتھ ملک کی دو بڑی جماعتوں میں ایک پی ٹی آئی کا ہونا ایک اچھی بات ہے۔ آپ شاید سوچیں کہ میں ایسا کیوں کہہ رہا ہوں۔ جواب یہ ہے کہ ایک مضبوط اپوزیشن ہی حکومت کو بھٹکنے سے روک سکتی ہے۔ چاروں صوبوں کے حالات پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کی حکومتیں من مانی کرتی ہیں کیونکہ ایک بھی صوبے میں مضبوط اپوزیشن موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی کا پنجاب اور سندھ میں مضبوط ہونا ملک کے لیے بہتر ی کا ضامن ہے کیونکہ ایک مضبوط اپوزیشن ہی حکومت کو اپنے وعدوں کے مطابق کام کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اسی لیے پی ٹی آئی اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لیے ہر قسم کے لوگوں کو پارٹی میں جگہ دے رہی ہے۔ چاہے یہ لوگ عامر لیاقت جیسے ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ ایسے لوگ کسی نہ کسی طرح پارٹی کے استحکام میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمیں بھلے ہی ان کا کردار پسند نہ آئے لیکن ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستان بھر میں عامر کی رمضان ٹرانسمیشن لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں۔

الیکٹیبلز کی ضرورت

پنجاب میں ن لیگ کو ٹف ٹائم دینے کے لیے ، کے پی میں عوامی نیشنل پارٹی اور سندھ میں متحدہ اور پیپلز پارٹی کو سخت مقابلہ فراہم کرنے کے لیے پی ٹی آئی کو الیکٹیبلز کی ضرورت ہے جن کا اپنا ووٹ بینک ہو  اور جو پی ٹی آئی کو ایک سیٹ حاصل کرنے کا یقین دلا سکیں۔یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ نظریاتی لوگوں کا خیال ہے کہ اگر پی ٹی آئی اپنے مخلص ورکرز کو ٹکٹ دے تو وہ بھی جیت سکتے ہیں اور اگر نہ بھی جیتیں تو پارٹی کا اتحاد برقرار رکھ سکتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ جہانگیر ترین اور علیم خان کے علاوہ با وفا کارکنان کے پاس مالی ذرائع نہیں ہیں جس کے ذریعے وہ الیکشن میں کامیابی کا حصول ممکن بنا سکیں۔ میں الیکشن جیتنےکی نہیں بلکہ الیکشن لڑنے کی بات کر رہا ہوں۔ میں اس نقطے کی وضاحت کیے دیتا ہوں۔

Related image

ایک نیشنل اسمبلی کے حلقے میں 300 سے 400 پولنگ سٹیشن ہوتے ہیں۔ این اے 154 کے 338 پولنگ سٹیشن ہیں۔ کامیاب الیکشن کےلیے سینکڑوں پولنگ ایجنٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایجنٹ فری میں کام نہیں کرتے انہیں تنخواہ اور ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر پولنگ سٹیشن پر ایک سیٹ اپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ٹینٹ کے نیچے موجود پولنگ ورکرز لوگوں کو ووٹ ڈالنے میں تعاون فراہم کرتے ہیں۔ اتنے زیادہ پولنگ سٹیشن کےلیے بندوبست ایک مڈل کلاس شخص کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس لیے پی ٹی آئی وہی کچھ کر رہی ہے جو حقائق کی ڈیمانڈ ہے۔ پی ٹی آئی کا واحد مقصد الیکشن جیتنا ہے۔ اس لیے نظریاتی سیاست اور اخلاقیات کے معاملات کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں اگر بلاول بھٹو بھی پی ٹی آئی جائن کرنا چاہیں تو پارٹی ان کو ویلکم کرے گی۔

عامر لیاقت کی کیا اہمیت ہے؟

یہ سادہ الفاظ میں سستی شہرت کے حصول والی بات ہے۔ یہ جعلی ڈاکٹر اپنے بل بوتے پر الیکشن نہین جیت سکتا۔ لیکن پی ٹی آئی کے لیے وہ طلال اور دانیال جیسے جارحانہ ن لیگی رہنماوں کا بہترین متبادل ہے۔ ایک ایسے دور میں جب سیاست ایک گندہ اور بدتمیزی سےبھر پور کھیل بن گیا ہے وہاں پی ٹی آئی کی جماعت کے لیے عامر لیاقت ایک بہترین آپشن ہے جو مخالفین کو انہی کی زبان میں جواب دے۔ عامر لیاقت کا کوئی ووٹ بینک یا حلقہ نہیں ہے لیکن وہ ایک سلییبرٹی ضرور ہیں۔ وہ پی ٹی آئی کو فنڈ ریزنگ اور شہرت کے حصول میں بہت فائد ہ پہنچا سکتے ہیں۔ اگرچہ عامر لیاقت کو پارٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہا لیکن اس پہلو سے یہ دیکھنے کو تیار نہیں کہ رمضان میں عامر لیاقت 4 سے 5 گھنٹے ٹی وی پر موجود رہتے ہیں  جس کا پی ٹی آئی کو براہ راست فائدہ ہو سکتا ہے۔ جب جب لوگ عامر لیاقت کو دیکھیں گے ان کے ذہن میں پی ٹی آئی کا نام آئے گا۔ یہ تعلق بہت اہمیت کاحامل ہے۔ چاہے یہ ووٹ بینک نہ بھی ہو لیکن اس کا فرق ضرور پڑتا ہے۔ دوسری بات، ان کی پارٹی میں شمولیت سے پی ٹی آئی کے لیے کچھ سامعین تک پہنچنے کے راستے کھل گئے ہیں جو پہلے پی ٹی آئی کی بات سننے کو تیار نہ تھے  ۔ اس تبدیلی کی وجہ سے اب پی ٹی آئی کراچی میں 2 یا 3 سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ پہلے بھی میں بتا چکا ہوں کہ اگرچہ نیوز کا فوکس عامر لیاقت پر ہے لیکن اس کے اندر یہ چیز چھپی ہے کہ بڑے بڑے اور اہم سیاستدان پی ٹی آئی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جیسا کہ ایم کیو ایم کے سلیم شہزاد، ن لیگ کے میاں طارق، جے یو آئی ایف کے ملک شکور، اے این پی کے ملک آفتاب، کچھ ایسے اہم سیاستدان ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی جائن کی ہے۔ ان سب لوگوں کے اپنے مقاصد ہیں لیکن پی ٹی آئی ان کو قبول کر رہی ہے  کیونکہ اسے ایسے اصطبل  کی ضرورت ہے جہاں پارلیمنٹ تک پہنچے کے لیے کافی جانے پہچانے سیاستدان موجود ہوں۔ یہ سب کر کے پی ٹی آئی اپنے 2013 سے قبل کے موقف اور سیاست سے منحرف ہو رہی ہے وہ اپنی پارٹی میں اگرچہ 2 سٹرنگ اور 3 سٹرنگ والے امیدوار بھرتی کر رہی ہے لیکن پھر بھی کچھ نہ ہونے سے ایسے امیدوار بہتر ہیں۔

لیکن عامر لیاقت ہی کیوں ؟

جیسا کہ بار ہا میں بتا چکا ہوں کہ الیکشن اس بنیاد پر نہین جیتے جاتے کہ آپ کتنا اچھا بول  لیتے ہیں یا کتنا اچھا محسوس کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی ایک سیاسی پارٹی کے طور پر اگلے الیکشن کی تیاری میں مصروف ہے۔چاہے وہ زید حامد ہو یا عامر لیاقت اگر کوئی پارٹی ایک ووٹ بینک کاراستہ ان شخصیات کے ذریعے کھول سکتی ہے تو وہ یہ طریقہ ضرور آزمائے گی۔

مسئلہ یہ نہیں کہ پی ٹی آئی عامر لیاقت جیسے لوگوں کو قبول کر رہی ہے؛  مسئلہ یہ ہے کے اس بات کو سمجھنے کی مشکل ہے کہ  الیکشن اور جمہوریت اگر صرف سوشل میڈیا بریگیڈ اور غیر ملک میں موجود کمیونٹی کے تحت چل رہی ہو تو یہ کیا معنی رکھتی ہے۔

الیکشن بد نما اور طالمانہ ہیں۔  جب آپ کوئیلے کے لیے کھدائی کریں توصاف  رہنے کی امید نہیں کر سکتے ۔اور مسئلی یہ ہی ہے کہ PTI’s کو  اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔جمہوریت ایک کوئلے کی کان ہے اور اگر آپ نے سفید لباس پہنا ہو؛ تو یا تو آپ کھدائی کرنا روک دیں یا کالے ہو جائیں۔


Courtesy:https://www.dawn.com/news/1400759/why-aamir-liaquat

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *