سامنے کیا نظر آرہا ہے

جیسے جیسے ن لیگ کی حکومت کے خاتمہ کے دن قریب آ رہے ہیں، مستقبل کا سیاسیمنظر نامہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اگر ووٹر نے ہٹ دھرمی نہدکھائی تو ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئے گی اور کئی پارٹیون کو مل کر حکومتبنانے  کے لیے اتحاد کرنا ہو گا۔ اس کا مطلب ہو گا کہ مرکزی حکومت بہت کمزورہو گی جو آئین  میں کوئی تبدیلی کرنے کے قابل نہیں ہو گی اور نہ ہی کسی اہممعاملے پر قانون سازی کے قابل ہو گی۔ بہت سے لوگ مجھے سازشی کہیں گے اور ثبوتمانگیں گے  لیکن ان چیزوں کو دیکھنا نہیں چاہیں گے جن کو دیکھ کر سارا معاملہکھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ جب کوئی مخلوط حکومت بنتی ہے تو یہ غیر پارلیمانیطاقتوں کے ہاتھ میں کھلونا بن کر رہ جاتی ہے۔ اس وجہ سے اس کے پاس پالیسیاںبنانے اور نافذ کرنے  کی طاقت نہیں ہوتی ۔ آج ہی سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیاہے جس میں نواز شریف کی نا اہلی کی مدت تا حیات بتائی گئی ہے۔  اگر نواز شریفاپنی حکومت کے ذریعے آرٹیکل 62 یا 63 کی تنسیخ کا ارادہ رکھتے ہوں گے تو یہ ابکمزور پارلیمنٹ میں بہت مشکل کام بن جائے گا۔ حالیہ سینیٹ انتخابات ہی دیکھلیں  جن پر اثر انداز ہو کر کامیاابی سے ن لیگ کو سینیٹ میں اکثریتی جماعتبننے سے روک لیا گیا ۔  یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ووٹر اس طرح کی حرکات کوروکنے کے لیے گھروں سے نہ نکلے تو کسی صورت ن لیگ جیت نہیں پائے گی اورنہ ہی  آئینمیں نا اہلی یا کسی دوسرے معاملے پر تبدیلی کی جا سکے گی۔ ساری سیاسی جماعتیںمل کر ن لیگ کو پنجاب اور ہزارہ میں  کمزور کرنے میں مل کر کوشش کر رہی ہیں۔تمام اہل علم سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق  تحریک لبیک کا واحد مقصد مسلم لیگن کے ووٹ توڑنا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بھی ن لیگ کی سرائیکی علاقہ سےسیٹیں کم کرنے اور پنجاب میں اکثریت کے مواقع کم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔2013 کے الیکشن میں سرائیکی بیلٹ میں ن لیگ کو حیران کن کامیابی ملی تھی۔ اگریہ گروپ پی پی یا پی ٹی آئی سے مل گئے تو ن لیگ کو واقعی بہت نقصان پہنچ سکتاہے۔ بلوچستان جو اکثر حکومتی پارٹی کے ساتھ مل جاتا ہے  اس بار کچھ الگ کرنےکا ذہن بنا چکا ہے۔ ایک سینئر سیاستدان نے نئی بلوچ  پارٹی جسے بلوچ عوامیپارٹی کا نام دیا گیا ہے کے بارے میں کہا یہ بلوچستان کے مائی باپ لوگوں کیپارٹی ہے۔ آپ کو یہ سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ  ایسےصوبے میں بنائی گئی ہے جو سکیورٹی  کے لحاظ سے بہت حساس صوبہ ہے۔ سندھ کے شہریعلاقے جہاں ایم کیو ایم اکثریت حاصل کرتی تھی اب پی پی، پی ٹی آئی اوردوسرےسیاسی جماعتوں کے لیے کھلے پڑے ہیں  کیونکہ ایم کیو ایم  مختلف دھڑوں میںبٹ کر بے اثر پارٹی بن کر رہ گئی ہے۔

اگرچہ سب پارٹیاں اپنے آپ کو تھرڈ فورس کے طور پر دیکھتی ہیں لیکن ان پارٹیونکے لیڈران نے ابھی تک اس بات پر غور نہیں کیا کہ وہ کیسے کچھ طاقتون کے ہاتھمہرہ  بن کر کھیل رہے ہیں۔ایک بات کا کریڈٹ فوج اور خفیہ ایجنسیون کو ضرور ملنا چاہیے کہ ان کی کاوشوںکی وجہ سے الیکشن میں ٹرن آوٹ میں بہتری آئی ہے جس کا  مشاہدہ پچھلے دوالیکشنمیں کیا گیا ہے ۔ اس لیے موجودہ الیکشن میں بھی  ایک اچھی تعداد میں ووٹر  ٹرنآوٹ کے حصول کی توقع ہے۔ جس سے الیکشن پر خاص اثر پڑے گا جو ملک کے لیے مفیدہو سکتا ہے۔ جیسا کہ آرمی چیف نےا یک ایوارڈ کی تقریب میں کہا کہ ہزاروںپاکستانی فوجیوں اور سپاہیوں کی جان  کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اس بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتی ۔ ہم ہمیشہ اپنے سپاہیوں کے شکر گزار رہیںگے۔  پاکستان کے شہید ہونے والے  تمام فوجیوں کو خراج تحسین کا بہترین طریقہیہ ہے کہ اس ملک کو ایک آزاد  معاشرہ  بنا دیں جہان ہر کسی کو جان مال اورآبرو کا تحفظ  اور بنیادی حقوق کی آزادی حاصل ہو۔ کیونکہ ان فوجیوں کی شہادتملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے اور ظلم کے خاتمہ کے لیے ہی ہوئی تھی۔ اس لیے جو
لوگ جائز طریقے سے اپنے مطالبات پیش کر رہے ہیں انہیں غیر ملکی ایجنٹ قراردینے کا رویہ ترک ہونا چاہیے ۔ ملی اتحاد و یگانگت کی خاطر ہمیں تکلیف سےگزرنے والے ناراض  پاکستانیوں کے مطالبات کو بھی سننا ہو گا۔کئی بار ناراض لوگوں کی باتیں دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں اور تکلیف دہ ثابتہوتی ہیں لیکن اس کا جواب  دل سے لگا کران کی شکایت دور کرنے میں پوشیدہ ہے۔صرف خواہشات کے اظہار سے تکالیف  کا خاتمہ ممکن نہیں ہوتا۔ واحد حل مذاکرات ہےاور کوئی دوسرا راستہ محض معاملات کو بگاڑ ہی سکتا ہے تو پھر ایسا راستہاپنایا ہی کیوں جائے؟


Courtesy:https://www.dawn.com/news/1401508/shape-of-things-to-come

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *