جج کے گھر فائرنگ

سلمان غنی

لاہور:  سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعہ نے ملک میں پیدا شدہ بحران اور اداروں کے درمیان نفسیاتی کیفیت پر جلتی پر تیل کا کام کردیا، اس طرح ان کے درمیان بحران اور ٹکرائو کو ایک نئی سمت مل رہی ہے۔

فائرنگ کس نے کی؟ کیونکر کی؟ مقاصد کیا ہیں؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جنہیں اس واقعہ کی تحقیقات میں سامنے نہ لایا گیا تو حالات کی سمت مزید خراب ہو گی، شکوک و شبہات اور بڑھیں گے۔ اس میں کس کا فائدہ ہو گا اور کس کا نقصان اور اس طرح کے واقعہ کے بعد عدالت اور حکومت میں تنائو بڑھتا ہے تو اس کے آنے والے انتخابات پر کیا اثرات ہوں گے؟ ابھی سے اس پر سوچ و بچار کر لینی چاہیے۔

جہاں تک واقعہ کے رونما ہونے کا سوال ہے تو فائرنگ کا واقعہ ایک نہیں دو ہیں۔ ایک واقعہ رات کو رونما ہوا اور ایسے وقت میں ہوا جب پولیس کی بجائے رینجرز کے جوان وہاں موجود تھے۔ واقعہ سے غفلت کا مظاہرہ اس حد تک ہوا کہ رات کے بعد صبح پونے دس بجے دوبارہ واقعہ ہوا۔ یہ ساری کارروائی دراصل معزز جج کے سکیورٹی پلان اور اس کے ذمہ داران کے لئے بڑا چیلنج اور ان کی اہلیت کے آگے بڑا سوالیہ نشان ہے۔ معزز جج صاحب کی رہائش گاہ لاہور کے اس علاقہ میں ہے جہاں ہر وقت سکیورٹی کے زبردست اقدامات نظر آتے ہیں اور خود پنجاب کے منتظم اعلیٰ بھی ان کے قریب ہی رہائش پذیر ہیں اور اس ایریا میں مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی آمدورفت بھی ایک معمول ہے۔
سکیورٹی کے ذمہ دار حلقے خود یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ یہ علاقہ ہائی سکیورٹی زون ہے مگر وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ مذکورہ واقعہ کیوں رونما ہوا۔ اسے پیغام سمجھا جائے یا کوئی سنجیدہ ہدف جس میں بظاہر وہ ناکام ہوئے ہیں جو ثابت کرتا ہے کہ مقصد پیغام تھا اور جج صاحب کو خوفزدہ کرنے سے زیادہ پہلے سے موجود سیاسی ماحول میں تلخی کو مزید بڑھانا تھا جس میں یہ شرپسند عناصر کامیاب ہوئے ہیں۔

سیاسی ماحول میں اس واقعہ کے حوالے سے بھی رائے عامہ تقسیم ہے۔ اس واقعہ پر گفتگو کرنے والا ہر سیاسی کارکن اس کا پس منظر اس نفسیاتی کیفیت سے جوڑتا نظر آتا ہے جو گزشتہ ایک سال سے طاری ہے۔ ایک تاثر تو یہ ہے کہ معزز جج صاحب اور ملک کی اعلیٰ عدالت کو ایک پیغام دیا گیا ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ روایتی طور پر اُن نامعلوم عناصر کی کارروائی ہے جو اس طرح کے سیاسی بحران کو نئے طوفان میں لانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور کامیاب بھی ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
اب اس واقعہ کے جو بظاہر اثرات ہیں ان میں سب سے بڑا نکتہ یہ ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدالت اور انتظامیہ کے درمیان ایک کھچائو اور تنائو کی کیفیت دیکھی بھی جا سکتی ہے اور محسوس بھی کی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف ملک بھر کی وکلا ئتنظیمیں اور بار ایسوسی ایشنز واقعہ پر ایک خاص پوزیشن لے رہی ہیں جس میں عدالتوں کا تحفظ اور ججز سے اظہار یکجہتی ہے جو اس باشعور طبقہ کو لاشعوری طور پر حکومت کی مخالف سمت میں کھڑا کرے گا حالانکہ یہ وہ ذمہ داری ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی آئینی طور پر معزز ججوں کے تحفظ اور وقار کیلئے خود ادا کرنی ہے۔

یقیناً یہ صورتحال جس میں وفاقی حکومت کے بہت سے مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ حکومت اپنے ایک آئینی سربراہ کی قربانی عدالتوں میں پیش کر چکی ہے اور اس طرح کے واقعات وکلائتنظیموں کو حکومت سے بھی مزید دور کر رہے ہیں اور صورتحال ہمیں پیپلزپارٹی کے اس دور کی جانب جاتی اشارہ کر رہی ہے جب افتخار محمد چوہدری کی عدالت جوڈیشل ایکٹوازم کے پاپولر نظریہ پر گامزن تھی۔ وفاق کے مقدمات روزانہ عدالتوں میں زیر بحث تھے اور وکلا تنظیموں کا دبائو حکومت پر بڑھ رہا تھا۔ اس ساری صورتحال میں اگر نتیجہ دیکھا جائے تو سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا تھا۔ حکومت کی گورننس کا بحران سامنے آیا تھا اور اس کے تمام اثرات 2013ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کی ہار کی صورت میں نکلے تھے۔

اب ایک مرتبہ پھر ملک 2018 کے عام انتخابات کی دہلیز پر کھڑا ہے دوبارہ کچھ عناصر وہی کھیل کھیلنا چاہتے ہیں جس میں عدالت اور فعال طبقات ایک جانب اور حکومت ان کی مدمقابل کھڑی ہے اور حکومت مخالف سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے ملک میں جاری سیاسی بحران کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کر رہی ہیں مگر ان سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ آنے والے حالات میں خود انہیں بھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ غیرجانبداری سے ملکی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس میں ہر وہ خرابی موجود ہے جس کا نقصان پاکستان میں جمہوریت اور جمہوریت کے تسلسل کو ہوتا ہے۔


Courtesy:http://urdu.dunyanews.tv/index.php/ur/Pakistan/435501

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *