انگوری شراب

3 اپریل کی صبح پاکستان کے موسیقی سے پیار کرنے والے لوگ اس وقت بہت خوش ہوئے جب انہوں نے گوگل کو پاکستانی موسیقار نازیہ حسن کو اپنی53ویں یوم ولادت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دیکھا۔ اسی طرح گوگل نے نصرت فتح علی خان اور نور جہاں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی میوزک انڈسٹری کس قدر مقبول ہے۔

موٹر سائیکل ڈایری

اس وقت پاکستان فلم انڈسٹری کا اچھا وقت چل رہا ہے یا پھر صرف دیکھنے میں ایسا لگتا ہےکیونکہ عاصم عباسی کی فلم کیک کی کامیابی کے بعد اب نئی آنے والی فلم موٹر سائیکل گرل ' کے ٹریلر نے بھی عوام کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے ۔ اگر ٹریلر کے حساب سے دیکھا جائے تو فلم کی سٹوری الائن غیر معمولی ہے جس کے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی ڈائریکٹر اب خوف کے سائے سے نکل آئے ہیں ۔ موٹر سائیکل گرل کے ڈائریکٹر عدنان سرور نے پہلی فلم شاہ کے ذریعے بھی سب کو حیران کر دیا تھا اور اب اس فلم میں بھی دوسری بار اپنے پرستاروں کو حیران کریں گے۔ اگر فلم باکس آفس میں کامیاب نہ بھی ہوئی تو ایک چیز تو یقینی ہے کہ اب پاکستان میں مواد سے بھر پور فلمیں آنا شروع ہو چکی ہیں۔

بھارت کے پیار میں

یہ تو ہونا ہی تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ پریانکا چوپڑا کا ہالی وڈ میں ہنی مون ختم ہو گیا ہے۔ اب وہ ٹی وی شو 'کوئنٹنس ' سے علیحدہ ہو کر واپس بھارت میں کام
کرنے والی ہیں۔ اب وہ علی عباس کی فلم بھارت میں کام کریں گی جس کے لیے انہوں نے ٹی وی شو چھوڑ دیا ہے۔ علی عباس وہی ڈائریکٹر ہیں جنہوں نے سلمان خان کی ہٹ فلمیں سلطان اور ٹائیگرزندہ ہے ڈائریکٹ کی ہیں۔ بھارت فلم میں بھی سلمان خان ہی ہیرو کا کردار ادا کریں گے۔

سین پین، ناولسٹ

یہ کس طرح کا ٹرینڈ ہے؟ پہلے آسکر ایوارڈ جیتنے والے ٹام ہینکس نے 'uncommon type' نامی مختصر کہانیوں کی کتاب شائع کی اور اب ایک اور فلم میکر جس نے دو بار آسکر ایوار ڈ جیتا نے اپنی کتاب ' Bob Honey Who Just Do Stuff 'کے نام سے شائع کی ہے۔ ناول کی سٹوری کےمطابق ہیرو معمر لوگوں کو قتل کرنے کے مشن پر ہوتا ہے ، یاد رہے کہ سین پین خود 57 سال کے ہیں لیکن ابھی اتنے بوڑھے نہیں ہیں لیکن انہیں ایسی چیزیں لکھنے سے گریز کرنا چاہییے۔

ایس آر کے، نولان ، یا کچھ بھی نہیں

پچھلے ہفتے ایک برطانوی فلم میکر کرسٹوفر نولان نے بھارت کا دورہ کیا۔ ان کا مقصد بھارتی فلم میکرز سے ملنا اور بھارتی سینما کلچر سے واقفیت حاصل کرنا تھا۔ بھارتی فلم میکرز کے لیے یہ اچھاموقع تھا اور شاہ رخ خان نے سب سے پہلے اس سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے برطانوی فلم میکر سے ملاقات کی تصویر بھی ٹویٹر پر شئیر کر دی۔ ان کو لگتا تھا کہ کولیبوریشن لفظ پر میڈیا میں بحث ہو گی لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہالی وڈ ابھی بالی وڈ کی پہنچ سے بہت دور ہے۔

کسی کو موٹا ہونے کا طعنہ دینا غلط ہے

ایک مشہور امریکی میگزین میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں مصنف نے ایکٹر کی تصاویر پر بحث کی اور ان کی کمر پر موجود ٹیٹو کو بھی زیر بحث لائے۔ اس بات پر انہیں ایکٹر کے مداحوں کی طرف سےسوشل میڈیا پر سخت تنقیدکا سامنا کرنا پڑا۔ بین اے نے فوری طور پر تو کوئی رد عمل نہیں دیا لیکن جب انہوں نے اپنے فینز کا ری ایکشن دیکھا تو انہوں نے ٹویٹ لکھا: میں ٹھیک ہوں، میری گھنی کھال پر ٹیٹو بہت سجتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی گھنی سکن ہی بہت پر کشش ہے۔

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *