اک ذرا ملیشیا تک (1)

گاڑی ہوائی اڈے پر رک چکی تھی ۔ گھڑی دیکھی تو فلائٹ میں ابھی ڈھائی گھنٹے باقی تھے ۔ اپنا پاسپورٹ اور ٹکٹ ایک ہاتھ میں اور سامان دوسرے ہاتھ میں پکڑے ،میں جیسے ہی زرد لائن عبور کر کے آگے بڑھا، مجھے پاسپورٹ دکھانے کے لیے کہا گیا ۔
’’ یہ تو پرانا پاسپورٹ ہے۔‘‘ اہل کار نے ترش لہجے میں کہا۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ نئے پاسپورٹ کے بجائے پرانا اٹھا لایا ہوں ۔ ذہن میں آیا کہ گھر فون کرتا ہوں ، ائر پورٹ تک آنے میں پون گھنٹے سے زیادہ نہیں لگ سکتا ، خیر ہے ۔ میں فوراً زرد لائن سے پیچھے ہٹ گیا۔ اور موبائل فون سے نمبر ملانے لگا ۔ مگر بڑی عجیب بات تھی ۔ موبائل فون آن ہی نہیں ہو رہا تھا۔ اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ ابھی تک نئی سیٹ سے پوری طرح واقفیت کیوں حاصل نہ کرسکا۔ خاصا وقت لگ گیا ۔ اسی کش مکش میں تھا کہ میری آنکھ کھل گئی ۔
ملیشیا جانے سے چند روز قبل تک کئی راتیں میری نیند اسی طرح خراب ہوتی رہی ۔اسی طرح کے خواب پریشان آتے رہے ۔ ایسا ہونا فطری تھا۔ اندرون ملک کئی مرتبہ سفر کر چکا تھا لیکن سیر کے لیے پہلی دفعہ بیرون ملک جا رہا تھا۔ اس سے پہلے عمرے کے لیے سعودی عرب کا سفر کیا تھا۔ اس کی نوعیت بالکل دوسری تھی۔ عقیدت اور مذہبی تقدس انسان کو یک رخا کر دیتا ہے ۔ مگر سیاحتی سفر میں انسان کی تمام حسیات کام کر رہی ہوتی ہیں ۔ اس سفر کی دوسری خاص بات یہ تھی کہ میں کئی دفعہ یہ خواہش دل میں پال چکا تھا کہ کاش کوئی ایسا انتظام ہو جائے کہ وہ نگری دیکھ سکوں جس نے اس شخصیت کو پناہ دی ہے جس کی وجہ سے میرا ایمان سلامت ہے ۔ اور جنھیں محض اس وجہ سے ہجرت پر مجبور ہونا پڑا کہ’’ اس معاشرے میں ہر چیز گوارا کرلی جاتی ہے ،لیکن علم و تحقیق کا وجود کسی حال میں گوارا نہیں کیا جاتا ۔ لوگ بے معنی باتوں پر داد دیتے ، خرافات پر تحسین و آفرین کے نعرے بلند کرتے ،جہالت کے گلے میں ہار ڈالتے اور حماقت کی راہ میں آنکھیں بچھاتے ہیں،مگرکسی علمی دریافت اور تحقیقی کارنامے کے لیے ،بالخصوص اگروہ دین سے متعلق ہو،تو ان کے پاس اینٹ پتھر کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا ۔‘‘(مقامات ) اور اپنے راستے کی سب سے طاقت ور آواز جان کر ہر اخلاقی قدر سے ناآشنا دشمن صرف اسی پر نہیں رکا کہ ان کی جان کے درپے ہو گیا تھا۔ اس کا طریقہ واردات اتنا بھیانک تھا کہ ان کے محلے دار احتجاج پر مجبور ہو گئے کہ آپ کے ساتھ ہم بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں ۔ اب ان کے پاس ہجرت کرنے کے سوا کوئی چارا نہ تھا ۔ تب ایک دن وہ ملیشیا کی اجنبی سرزمین میں قدم رکھ رہے تھے اور حال یہ تھا کوئی ان کا شناسا نہیں تھا۔ اس کے بعد جب بھی ان سے بات کرنے کا موقع ملا، وہ ملیشیا کی مہمان نوازی اور اس کے پر امن ہونے کی تعریف کرتے ۔ چنانچہ جب انھوں نے مجھے ملیشیا دیکھنے کی دعوت دی تو میری خوشی دیدنی تھی۔بے یقینی سے ان کی طرف دیکھا تھا ۔ مگر ان کی دل نواز مسکراہٹ میں خوش آمدید کا مژدہ پوری طرح نمایاں تھا۔
انتظامات کی وجہ سے کئی ماہ لگ گئے لیکن جب جہاز کا ٹکٹ فائنل ہو گیا تو اس طرح کے خواب آنا شروع ہوگئے جس کا آغاز میں تذکرہ کیا ہے ۔ ان خوبوں سے ڈرا ہوا جب میں 12مارچ کو لاہور کے انٹر نیشل ائر پورٹ پر اترا تو فلائیٹ میں تین گھنٹے باقی تھے ۔ میں نے تینوں پاسپورٹ ایک ساتھ سٹیپل کرکے ہاتھ میں پکڑ ے ہوئے تھے اور طلب کرنے پر زرد لائن کے پار کھڑے اہلکار کو تینوں پکڑا دیے ۔ اس نے تینوں پر ایک نظر ڈالی اور انھیں میرے حوالے کر دیا ۔ میرے پاس سامان میں ایک درمیانہ سوٹ کیس اور کتابوں کا ایک ڈبہ تھا جبکہ ہاتھ میں بیگ میں بند ایک لیپ ٹاپ تھا۔سامان میں نے ایک ٹرالی میں رکھ لیا تھا۔ ٹرالی ایک ہیلپر نے میرے ہاتھ سے لے لی اورایک طرف اشارہ کرکے کہاَ :’’ آپ اس لائن میں لگ جائیں ، وہاں آپ سے چار سو روپے لیں گے ، یہ ایرپورٹ ٹکس ہے ۔ ‘‘ میرے لیے یہ غیر متوقع بات تھی۔اصل میں حسن الیاس صاحب نے سفر کے تمام مراحل مجھے بڑی تفصیل سے بتا دیے تھے اور وہ مجھے بڑی اچھی طرح ازبر تھے۔ اس میں اس قسم کی کوئی بات نہیں تھی ۔ مجھے متامل دیکھ کر ایک اور صاحب قریب آئے اور انھوں نے میرا پاسپورٹ طلب کیا ، ایک نظر دیکھا اور پوچھا : آپ سیر کے لیے ملیشیا جا رہے ہیں ؟ جواب کا انتظار کیے بغیر بولے : اچھا تو کتنے پیسے لے جارہے ہیں ساتھ ؟ میرے علم میں تھا کہ یہ سوال مجھ سے پوچھا جائے گا لیکن پوچھنے والا مجھے غیر متعلق لگ رہا تھا۔ میں نے قدرے تامل سے کہا کہ : ’’ کافی ہیں ، تیس ہزار کے قریب ۔ ‘‘
’’ تیس ہزار رینگٹ !‘‘

Image result for malaysia’’ کچھ امریکی ڈالر بھی ہیں !!‘‘ میں نے پہلے جملے کی تصحیح یا تصدیق کیے بغیر مزید امارت جھاڑی ۔ وہ متاثر نظر آئے ۔ تب وہ ہیلپر سے مخاطب ہوکر بولے : کوئی بات نہیں، ان کا ٹیکس تم بعد میں ادا کر دینا ، ابھی صاحب کا سامان بُک کراؤ۔ اتنی دیر میں، میں نے سوچا کہ اگر ریلوے سٹیشن کا پلیٹ فارم ٹکٹ ہو سکتا ہے تو ایر پورٹ کا ٹیکس بھی تو ہوگا ۔ ( یاد رہے کہ مجھے ریلوے سے سفر کیے ہوئے بھی کوئی بیس برس سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا تھا، اس لیے میں بھول چکا تھا کہ وہ تو ان لوگوں کے لیے ضروری ہوتا ہے جو مسافر کو چھوڑنے ساتھ آتے ہیں اور جنھوں نے سفر نہیں کرنا ہوتا ۔ معلوم نہیں یہ ٹکٹ اب بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ )خیر میں لائن دیکھ کر اور دوسرے بندے کی گواہی سن کرکے قائل ہو چکا تھا کہ یہ ٹیکس ہو گا۔اتنی دیر میں ہیلپرسامان کی ٹرالی کو سکیننگ مشین کے طرف دھکیلنے لگا۔ مجھ سمیت سامان کلیر ہوا۔ اور ہم ملینڈوایر کے کاؤنٹر کی طرف بڑھنے لگے ۔ وہاں تک پہنچنے کے دوران میں ہیلپر نے مجھے کہا : سر ، معاف کیجیے گا ، آپ کیا ٹی وی پر آتے ہیں ؟میں نے آپ کو دیکھا ہے کسی پروگرام میں! ‘‘
’’ کس پروگرام میں ؟’’ دراصل میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو چکا تھا کہ اگر کوئی ’ایر پورٹ ٹیکس‘ تھا تو اس کی رسید مجھ سے اب تک طلب کی جا چکی ہوتی لیکن سامان اور میری تلاشی لی جا چکی تھی ، کسی نے کچھ طلب نہیں کیا تھا۔ اس کے سوال نے مجھے شک میں ڈال دیا کہ دال کچھ کالا ضرور ہے لیکن اگلے ہی لمحے وہ بولا : ’’ جی سر وہ کوئی مزاحیہ شو ہے ۔۔۔ شاید جیو ٹی وی کا ۔ ‘‘ میں خاصا بد مزا ہو گیا ۔اس سے قبل کہ وہ مجھے کسی ’’ فنکار ‘‘ کے طور پر پہچانے کا اعلان کرتا ،میں نے’’ ہاں ، کافی پرانی بات ہے‘‘ کہہ کر اسے ٹال دیا اور کاؤنٹر کی طرف بڑھا ۔وہاں پر بیٹھے صاحب نے میری ٹکٹ دیکھی جو کہ اصل ٹکٹ کا سوفٹ پرنٹ تھا۔ اس نے کمپیوٹر پر ٹکٹ کا نمبر درج کرتے ہوئے خود کلامی کے سے انداز میں پوچھا: ’’کیوں جارہے ہیں ملیشیا ؟‘‘
’’ سیر کرنے ، اپنے دوستوں سے ملنے ۔‘‘
’’ کتنے پیسے لے جارہے ہیں ساتھ ؟ ‘‘
میری معلومات کے مطابق یہ متعلقہ بندے کا سوال تھا ،اس لیے میں نے پورا جواب دیا : ’’ تیس ہزار روپے مالیت کے رینگٹ اور کچھ امریکی ڈالر بھی ہیں ۔ ‘‘
بہت تھوڑے ہیں!‘‘
’’ جی مجھے معلوم ہے لیکن میری ہوٹل میں بکنگ ہو چکی ہے ، اور دوست میزبان ہیں ۔اس لیے اتنی رقم کافی ہو گی !‘‘
’’ کرتے کیا ہیں ؟ ‘‘
’’جی میں پڑھاتا ہوں ایک مقامی کالج میں ۔ ‘‘
’’کس کالج میں ؟‘‘
’’ پنجاب کالج میں ‘‘۔
’’ آپ کے پاس رقم کم ہے ،لیکن آپ ٹیچر ہیں ، آپ کا احترام ہے ،قاعدے کے مطابق آپ کے پاس رقم زیادہ ہونی چاہیے ، آپ ہمارے سینئر کے پاس جائیں ، ہو سکتا ہے کہ آپ کو اجازت مل جائے ۔’’ یہ کہہ کر اس نے میرا بورڈنگ کارڈ بنا دیا البتہ اسے میرے حوالے نہ کیا ، اور سامان کو ٹریک پر رکھنے کے لیے کہا ۔ اس موقع پر ہیلپر آگے بڑھا ۔ اس نے پوچھا کہ سوٹ کیس میں کیا جگہ نہیں ؟ اگر ہے تو یہ کتابوں کا ڈبہ بھی اس میں ڈال دیں ۔ میں نے بتایا کہ صرف کپڑے ہیں ۔ اور ساتھ ہی میں نے سوٹ کیس کھول دیا ۔ وہ بولا کہ بہت جگہ ہے اور اس نے چند سیکنڈز میں کپڑوں کو ایک کونے میں ٹھونسا اور کتابوں کا باکس اس میں پیک کر دیا ۔ بولا کہ اب یہ ایک ہی آئیٹم ہو گئی ہے۔ آپ کو پریشانی نہیں ہو گئی ۔ اس کی بات درست تھی کیونکہ کپڑوں کو تو دوبارہ پریس کرنا ہی تھا۔ اس مدد پر میں دل ہی دل میں اس کی مہارت کا قائل ہو گیا۔ سامان پر ٹیگ لگا دیا گیااور اس کا نمبر بورڈنگ کارڈ کے کونے میں چپکا دیا گیا ۔ اب میں اس کے سینئر کے حوالے کر دیا گیا ۔ اس نے مجھ سے پہلے والے سوال دوبارہ پوچھے ۔ میرا جواب بھی وہی تھا ۔البتہ میں اس پر اضافہ کیا کہ میرے پاس کچھ کریڈٹ کارڈز بھی ہیں ، ضرورت پڑنے پر میں انھیں بھی استعمال کر سکتا ہوں ۔ لیکن وہ زہادہ متاثر نہ ہوا ۔ اس دوران یورپی حلیے میں ایک پاکستانی خاتون وارد ہوئی اور احتجاج کرتے ہوئے پنجابی انگلش میں بولی : ’’ ہم ان سے پہلے آئے ہیں ، آپ پہلے ہمارا بورڈنگ کارڈ دیں !‘‘
اہل کار خاصی بے زاری سے بولا : مس ، آپ کے پاس وزٹ کے لیے مطلوبہ مقدار میں رقم نہیں ، ہم آپ کو کارڈ ایشو نہیں کر سکتے !اور آپ ہمارے افسر کا انتظار کریں ۔ وہی کچھ کریں گے ۔ ‘‘ یہ جواب سن کر خاتون چند قدم دور ہٹ کر اپنے موبائل پر مصروف ہوگئی۔وہ کسی سے خالص پنجابی لہجے میں قدرے آہستہ کہہ رہی تھی: ’’ وے، او کھڑکنا جیا نہیں مندا ۔۔۔ُ تو آپ آ ‘‘ ۔
اتنی دیر میں اہلکار نے مجھے مخاطب کیا ۔ میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔ واقعی اس کے کان خاصے بڑے بڑے اور کھڑے کھڑے تھے ۔ میں نے دل ہی دل میں خاتون کے مشاہدے کی داد دی۔کھڑکنے صاحب کہنے لگے: ’’ آپ استاد ہیں۔ ٹھیک ہے ، کیا کوئی اور کام بھی کرتے ہیں ؟ ‘‘
سوال خاصا تکلیف دہ تھا لیکن میں نے’’ کھڑکنے ‘‘ ہی سے لطف لینا مناسب جانا اور کہا:
’’ جی میں جیو ٹی وی میں بھی کام کرتا ہوں ۔ ‘‘( جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *