سکھوں کو ختم کرنے کی پہلی جنگ

ہارون خالد

مہارانی جند کور کو صرف اپنا بھائی جوہر سنگھ جو لاہور دربار کا وزیر تھا اور جسے خالصہ آرمی نے 1845 میں پھانسی دے دی تھی ، ہی نظر آرہا تھا۔ خالصہ آرمی اب کسی بادشاہ کے حکم کی پابند نہیں تھی ۔ مہاراجا رنجیت سنگھ کی وفات 1839 میں ہوئی انہی سالوں میں اس آرمی کو سیاسی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ، فوجی خود کو تیزی سے سیاسی میدان کی طرف بڑھتا محسوس کر رہے تھے۔  اسی تسلسل میں کئی تخت کے دعوے داروں نے فوجیوں کو اپنا مطالبہ واپس لینے پر رشوت کی پیشکش کی۔ ان میں رنجیت سنگھ کی زندگی میں ہی بڑی تیزی سے اضافہ ہونے لگ گیا تھا۔   مہاراجہ کی زندگی کے آخر میں خالصہ آرمی میں تقریبا 80000 فوجی تھے۔ یہ بہت ہی مضبوط فوج تھی جس نے رنجیت سنگھ کو کشمیر کی وادیوں اور افغانستان، پنجاب
اور بہاولپور تک پھیلنے میں مدد کی ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر برطانیہ اسے چاروں اطراف سے نہ گھیرتا تو وہ پورے ہندستان پر قابض ہو جاتا۔ مراٹھاز کے برعکس ، رنجیت سنگھ کو اندازہ ہو گیا کہ اس کی آرمی برطانیہ کے حملے کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ اسی لیے اس نے برطانیہ کے ساتھ امن کا معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ دریا ستلج کے مشرقی کنارے پر برطانیہ نے لاہور دربار کی بربادی پر بہت خاص نظر رکھی ۔ انہوں نے ایک مہاراجہ کے بعد دوسرے مہاراجہ کا قتل ہوتے دیکھا۔ انہوں نے دیکھا کہ جتنا بھی طاقت ور وزیر ہو وہ خالصہ فوج کے رحم کرم پر ہی ہوتا ہے۔  جواہر سنگھ کے قتل کے وقت آرمی 120000 فوجیوں پر مشتمل تھی ۔ اور ان کی تنخواہیں بھی ضرب کرتے کرتے بہت ذیادہ ہو گئیں۔ لیکن ان کی تعداد اور ان کے پاس موجود جدید ترین ہتھیاروں کے باوجود برچانیہ نے خالصہ آرمی پر زیادہ دھیان نہیں دیا۔  بہت سے برطانوی افسران نے تو اس آرمی کو بس ہجوم ہی کہا۔ برطانوی افسران کا خیال تھا کہ سیاست میں بہت ذیادہ عمل دخل نے خالصہ آرمی کو جنگ کے میدان میں کمزور کر دیا ہے۔ اسی لیے رنجیت سنگھ کی وفات کے سال میں برطانیہ نے پنجاب کو فوجی تربیت دینا شروع کر دی۔

*سیاسی فوجی*

*فوجیوں کی سیاست میں بڑھتی دلچسپی نے ان کا خود کار بیوروکریٹک طریقہ کار بنا لیا۔  بجائے اپنے کمانڈو افسران کا وفادار ہونے کے وہ ان کا حکم مانتے جن پنچوں کو خود انہوں نے چنا تھا۔ یہ وہ فوجی تھے جنہیں اپنے حلقے سے ہی چنا گیا تھا تاکہ فوجیوں کے دکھ اور پریشانیوں کا ازالہ کیاجا سکے۔ یہ پورا پنچائیت سسٹم بن گیا تھا اور اسی سے لفظ 'پنچ' اخز کیا گیا ہے۔  رنجیت سنگھ کی وفات سے سیاسی فسادات دیکھ کر خالصہ فوج نے خو کو بچانے کے لیے خود ہی اقدامات کیےاور عظیم خالصہ امپائر نے خود کو شیر پنجاب کے نام کر دیا۔ مشرقی فرنٹیئز پر برطانیہ کی شکل میں موجود خطرے نے فوجیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ انہیں اپنی بقاء کی خاطر اختیار حاصل کر لینا چاہیے ۔ اشرافیہ حکمران کو یہ بھی پتہ تھا کہ انہیں اپنا تخت بچانے کے لیے فوج کی ضرورت ہے۔ 1840 میں رنجیت سنگھ کے با صلاحیت پوتے نونہال سنگھ کی انتہائی افسوسناک وفات کے بعد شیر سنگھ جو رنجیت سنگھ کے بیٹے تھے نے تخت حاصل کرنے کی ٹھان لی کیوں کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ اس کے لیے بلکل معقول شخص ہیں۔ لیکن لاہور میں نو نہال سنگھ کی والدہ چند کور نے اس دعوے پر اقتدار حاصل کر لیا کہ ان کی بہو نو نہال سنگھ کے بچے کی ماں بننے والی ہیں۔ لاہور دربار کو کمزور کرنے کے لیے شیر سنگھ نے آرمی سیکشنز کو رشوت دینا شروع کر دی۔ اور 1841 میں لاہور فورٹ پر قبضہ کر لیا ۔ خالصہ آرمی پہلے ہی سے خرید لی گئی۔ لیکن شیر خان کے عروج میں بھی پنچوں کی اہمیت تھی اور وہ خود مختار اور طاقت کے مرکز سمجھے جاتے تھے۔ مہارانی جند کور جو رنجیت سنگھ کی سب سے چھوٹی بیگم تھیں ، وہ بھی جانتی تھیں کے اصل طاقت کس کی ہے اور جب 1843 میں شیر خان کا قتل ہوا تو ان کے چھ سال کے بیٹے دلیپ سنگھ کو آرمی کے فیصلے پر مہاراجہ بنا دیا گیا۔ انہوں نے وزیر ہیرہ سنگھ سے اپنی بات منوانے کے لیے بھی آرمی کا رخ کیا۔ انہوں نے آرمی کے جذبے کو للکارا اور خالصہ آرمی کے محافظوں سے درخواست کی کہ وہ شیر پنجاب کی مہارانی کے ساتھ ذلت آمیز برتاؤ کرنے پر وزیر سے بدلہ لیں۔فیصلہ کر لیا گیا اور پنچوں نے ہیرا سنگھ کو قتل کرا دیا۔مہارانی اپنی جنگ جیت گئی اور ان کے بھائی جواہر سنگھ نے وزارت کی کرسی سنبھالی۔ جند کور کا بدلا لیکن طوفان کی لہرجلد ہی پھر سے اٹھی ۔ اس بار پنچ چاہتے تھے کہ وہ مہارانی کے بھائی کو پھانسی دلا دیں۔ یہ انصاف بھی ایک اور ذلت کا باعث بنا اور ان کے بیٹے پشورا سنگھ کو بھی یونہی ہٹا دیا گیا۔ ایک کمسن بادشاہ کے تخت نشین ہونے کے بعد پشوراہ سنگھ لاہور دربار کے باغی بن
کر کھڑے ہوئے اور وزیر نے انہیں ہرا دیا۔ انہیں قید کر کے لاہور لانے کا حکم جاری کیا گیا اور راستے میں ہی جوہر سنگھ نے قتل کا حکم سنا دیا۔ پنچوں کو اس سب کا پتہ ہونا چاہیے تھا۔ کیسے ایک وزیر کی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خون کو قتل کرنے کی ہمت ہوئی؟ پنچ ملے اور یہ طے کیا کہ جوہر سنگھ کو پھانسی دی جائے۔ مہارانی نے فوجیوں سے رحم کی درخواست کی لیکن وہ اپنا فیصلہ سنا چکے تھے۔21 ستمبر 1845 کو جوہر سنگھ کو لاہور فورٹ کی دیوار کے باہر پھانسی دے دی گئی۔ نیا وزیر لال سنگھ کو بنایا گیا۔ انہیں حکمرانی کرنا پسند تھا لیکن فوج کا سکہ بھاری تھا۔ مہارانی کے لیے ان کے بھائی کی وفات کا غم بہت بڑا تھا اور ان کے پاس ایک پلان تھا۔ انہوں نے لال سنگھ اور آرمی کے صدر تاج سنگھ کے ساتھ مل کر یہ سازش کہ یہ ہی صحیح وقت ہے آرمی کی طاقت ختم کرنے کا۔ برطانیہ کے خلاف نفرت جس کا آرمی میں کافی عرصہ سے پرچار کیا جا رہا تھا کو ایک بار پھر تازہ کیا گیا اور لاہور دربار کے نمائندوں نے برطانوی فوج کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ پلان تھا کہ فوج کو ایسی جنگ لڑائی جائے جس میں ان کی ہار پکی ہو۔ 11 دسمبر 1845 میں کمانڈروں کے حکم پر فوج نے ستلج پار کیا اور اپنی پہلی ایجلو جنگ میں جت گئے۔ کچھ ماہ بعد مارچ میں لاہور کے معاہدے پر دستخط کئے گئے اور لاہور دربار کے فیصلوں کی ڈور برطانوی حکمرانوں کے ہاتھ تھما دی گئی۔ مہارانی اور ان کے ساتھیوں کا فوج کو توڑنے کا پلان کامیاب ہو گیا لیکن یہ نیا نظام مسائل کا امبار لے کر آیا۔ 1848 کی اپریل میں ایک حادثے نے برطانوی حکمرانوں کو ایک اور اینجلو سکھ جنگ کا بہانہ دیا جس سے 30 مارچ 1849 میں خالصہ آرمی کے الحاق کے راستے ہموار ہوئے۔

source : https://www.dawn.com/news/1401384/how-a-queen-plotted-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *