زندگی بھر کے فیصلے ایک دن میں

سناکشی سریواستو

میں ایک ایسی ماں کے ساتھ پلی بڑی جو ہمیشہ یہ سوچتی رہیں کہ اگر ان کی شادی 23 سال کی عمر میں نہ ہوتی تو ان کی زندگی کیسی ہوتی۔ کیا ہوتا اگر ان کے کالج کے دن اپنے چھوٹے سے قصبے کی بجائے دہلی میں گزرتے؟ کیا ایک بڑے شہر کی گود مین قدرتا ایک مضبوط اور آذادعورت پلتی بڑھتی ہے؟ میری والدہ نے دہلی کے مشہور کالج میں پڑھائی کے لیے جانا تھا لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر اس کالج میں داخلہ لیا جو دادیہال کے گھر سے سائیکل پر سفر کر کے جانے میں آسان تھا۔ جب انہوں نے کلاس میں گریجویٹ میں ٹاپ کیا اور **MAکر لیا تو شادی کی باتیں شروع ہو گئیں۔  میں اب 23 سال کی ہوں اور میری والدہ کی اسی عمر میں شادی بھی ہو چکی تھی۔ میں نے اپنے سب سے بڑے کزن کی اس خوش قسمتی والے دن کی شرارتوں کے بارے میں بہت سنا تھا اور اس دن میرے والد میری والدہ سے ملے اور ان کی گفتگو کے بارے مین بھی سنا تھا جو انہون نے ایک دوسرے سے کی تھی ۔ وہ ایک بڑے شہر کے آدمی تھے اور بینک میں جاب کرتے تھے اور میری والدہ ابھی کالج سے ہی فارغ ہوئی تھیں۔ ایک دن مین پوری زندگی کے وعدے کیسے کیے جا سکتے ہیں؟ میں ان سے اکثر پوچھتی ہوں کے انہوں نےایسا کیسے کر لیا اور وہ بھی اب تک اس سوال کے جواب کی متلاشی ہیں۔ وہ اس سوال اور اس طرح کے کئی سوالات کے جواب مین فورا ایک ہی بات کہتیں کہ اس وقت یہ ہی ہوا کرتا تھا۔ زندگی بالی ووڈ کی فلموں کی طرح ڈرامائی نہیں ہوتی۔ اس لیے اس کہانی میں کوئی ولن نہیں تھا جو میری والدہ کو ان کی مرضی کے خلاف جانے پر مجبور کرتا اور کوئی بلیک میلنگ، چا پولیسی ، ڈرامہ کچھ بھی نہیں تھا۔ میرے نانا ایک مہذ ب ہندی شاعر اور استاد تھے جو اپنی جو اپنی اکلوتی بیٹی کی کم عمری میں شادی کے خلاف تھے۔ انہوں نے اپنی بیٹی سے پوچھا تھا کہ کیا وہ اس فیصلے سے خوش ہیں؟ میری والدہ کبھی کبھی سوچا کرتی تھیں کہ کیا یہ ان کی والدہ کا دباؤ تھا یا باہری دنیا کے بارے میں انجانہ پن اور مواقعوں سے ناواقفیت؟ ہم دونوں مزاق مزاق میں اس بات پر اتفاق کرتے اور میری والدہ اس بات پر اسرار کرتیں کہ جو بھی ہو شادی ایک اچھا عمل ہے کیوں کہ انہیں شادی سے بہت اچھی اور پیاری اولاد ملی ہے۔ دو بچوں کے باوجود وہ ایک آذاد اور مضبوط عورت بنیں اور انہوں نے اپنی دلچسپیاں، شوق اور جذبے پورے کیے۔   بہت کم سنی سے ہی مجھے سمجھ میں آگیا کہ دنیا کے بہت سے مسائل کا حل صرف ایجوکیشن، ایکسپوژر اور مواقع ہیں۔ یہ مانا جاتا ہے کہ غربت ، گردوغبار ، جاہلیت، سیکس ازم، طبقوں میں اونچ نینچ اور کئی باتوں میں ان ہی تین اجزاء سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ میرے والدین کا بڑوں کی مرضی سے شادی کرنے کے فیصلے نے مجھے سکھایا کہ عورت کو اصل، متنوع، ناقابل یقین، پیچیدہ ، سخت دنیا کا تجربہ ہونا چاہیے نہیں تو اس کے لیے اپنے پیر کہیں بھی جمانا مشکل ہو گا۔ جب میں 16 سال کی تھی میں ہندوستان سے چلی گئی اور ہندوستان اور ارینج میرج کے بارے میں سوالات نے مجھے گھیرے رکھا ۔ ایسا لگتا تھا کہ ہم نے تو اس دنیا کا کوئی حصہ دیکھا ہی نہیں۔ اور میں صرف 16 سال کی تھی جب میں یہ سوچتی تھی کہ ارینج میرج کتنا احمقانہ عمل ہے اور کسی چھوٹے سے تنازع کا الزام بھی مڈل کلاس ہندوستانیوں کو دے دیا جاتا ہے۔ ایسا ماضی میں ہوتا آیا ہے اور جو لوگ آج بھی غریب ہیں اور ایجوکیشن، ایکسپوژر اور مواقع حاصل نہیں کر سکتے وہ ایسا کرتے ہیں۔ یہ اب خواب ہی ہے اور اب سکولوں کالجوں میں بھی ہر دوسرے لڑکا لڑکی کی شادی کی خبر سننے کو نہیں ملتی، البتہ کہانی میں پچھلی دو دہائیوں میں کچھ زیادہ بدلاؤ نہیں دیکھا کہ لڑکا لڑکی ایک دو بار ملے اور انہوں نے طے کر لیا کہ وہ شادی کرنا چاہتے ہیں اور پوری زندگی ساتھ گزارنا چاہتے ہیں۔  سکول اور یونیورسٹی کے کچھ دوست ہیں جن کے ساتھ میں نے اپنے خیالات ، امیدوں اور خوابوں کا اظہار خیال کیا۔ ایک دن میں بھی اگر کسی خاتون کو اپنے شوہر کو چننا ہے تو بھی اسے ایجوکیشن، سمجھ بوجھ اور مواقع کا اصل ٹیسٹ پتہ ہونا چاہیے۔ ارینج میرج کا سوال صرف لو میرج کے مقابلے میں نہیں اٹھتا ۔ دونوں طرح کی شادیوں میں کئی اچھی اور کئی بری شادیاں ثابت ہوئی ہیں۔ ہاں البتہ ارینج میرج میں میاں اور بیوی کو پہلے دن ان کی شادی پر ہی ملایا جاتا ہے اور فیملیاں آپس میں مل کر آپ کے لیے صحیح اور اچھے کا انتخاب کرتی ہے۔ یہ ایک فیصلہ ہوتا ہے جو بتایا جاتا ہے کیا نہیں جاتا اور رضا مندی پوچھی جاتی ہے۔ اور اس میں کوئی مزائقہ نہیں کہ اپنی زندگی کے لیے ایک اچھے ساتھی کا انتخاب کیا جائے۔ کچھ عرصہ قبل ایک دوست نے کہا کہ وہ شادی کا دباو کے سامنے نہ جھکنے کا فیصلہ کر چکی ہے جو کہ اس پر عنقریب ڈالا جائے گا۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم سب یہ جانتے ہیں کہ یہ دباو آنے والا ہے ااس لیے جب کوئی ارینج میرج کے لیے تیار ہو جاتا ہے تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہوں کہ آیا اس نے یہ فیصلہ
سوچ سمجھ کر کیا ہے یا دباو سے لڑتے لڑتے ہار مان لی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے لڑکے کی آنکھوں میں دیکھ کر اپنے آپ کو پیار میں گھرتا محسوس کیا ہو۔ ایک اور دوست جس کی حال ہی میں منگنی ہوئی ہے نے مجھے بتایا کہ جن لڑکیوں نے دباو کے سامنے نہ جھکنے کا فیصلہ کیا اور اس دوران ان کی عمر 28 سال تک پہنچ گئی ہے وہ اب بے کار مال کی طرح ہیں جو سپر مارکیٹ کی شیلف میں پڑا رہتا ہے اور کوئی اس کو خریدنا نہیں چاہتا۔ یہ صحیح وقت کا معاملہ ہے جس کی وجہ سے لڑکیاں بے چاری ہمت ہار جاتی ہیں اور خوف کے مارے ارینج میرج پر تیار ہو جاتی ہین۔ سب سے بڑا جنسی فرق یہی ہے کیونکہ مردوں کی خواتین کے بارے میں شادی کی عمر کی کوئی ایکسپائری ڈیٹ نہیں ہوتی۔ کمیونٹی کے لوگ بہت ماہر ہیں ہر طرف ایک دوسرے کے بارے مین گپ شپ لگانا معمول ہے اور آپشن بہت محدود ہے۔ اس لیے اگر آپ دنیا بھر کےطعنوں کو نظر انداز کرو اور پھر اپنے انکلز اور آنٹیوں کے ساتھ بیٹھو اور ان سے بھی سب سے زیادہ بار غیر شادی شدہ کا لفظ سنو تو سمجھ لینا چاہیے کہ لوگوں کا یہ مائنڈ سیٹ تبدیل ہونے والا نہیں ہے۔ اگر آپ اپنا ہر معاملہ بہترین سطح پر رکھو اور پھر بھی آپ کو صرف سنگل ہونے کی وجہ خاندان کے منہ پر کالک سمجھا جائے تو یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ میری ماں نے کیوں اس دباو کے سامنے ہمت ہار کر خواتین کی طرح شادی کر لینے میں عافیت سمجھی۔ ہماری ماڈرن سوسائٹی میں یہ پریشر ظاہری سے ہٹ کر باطنی بن چکا ہے۔  شادی کا نتیجہ جو بھی ہو ، زیادہ تر خواتین شادی کا فیصلہ مرضی کی بجائے مجبوری سے کرتی ہیں۔  میری یہی خواہش ہے کہ کوئی ایسا شخص ہو جو ان بوڑھے انکلز اور آنٹیوں سے نظریں ملائے ، ماوں اور باپوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھے اور دادیوں اور دادوں سے پوچھے کہ زندگی بھر کے وعدے ایک دن میں کیسے کیے جا سکتے ہیں۔

source : https://blogs.tribune.com.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *