وردی اور وگ

 

آجکل پاکستان کے ججز اور جرنیل سیاستدانوں ، بیوروکریٹس، صحافیوں کو باپ، بھائی اور بزرگوں کی طرح مشوروں (اگرچہ بن مانگے) سے نواز کر شہہ سرخیوں یں اپنی جگہ بنانے میں لگے ہیں۔ یہ صحافیوں اور سیاستدانوں کو سکھانا چاہتے ہیں کہ وہ کیا لکھیں اور کیا کیا بیان جاری کریں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ وہ ایسا کیوں نہ کریں جب عوام کے منتخب نمائندے آئین، الیکشن، جمہوریت، معیشت، پارلیمنٹ، ریاست اور معاشرے کو غلط راہ پر ڈال رہے ہوں۔ اس سوال کا ایک بہت مختصر جواب ہے۔ ججز اور جرنیل ملکی تاریخ کے مساوی حصے میں عوامی جمہوریت کی طرح حکومت کر چکے ہیں اور مورخین نے دونوں کو میرٹ پر فیل ہی کیا ہے۔ اس میں نیا کیا ہے؟
بہت سی باتیں نئی ہیں ۔ پہلی بات یہ کہ بھارت دشمنی کی وجہ سے جو آرمی کو ہمیشہ مسیحا مانا جاتا تھا وہ لقب اس وقت عدلیہ کے پاس ہے ۔ اگر ایک طبقہ کی طاقت اس کی بندوق میں ہے تو دوسرے طبقہ کی طاقت احتساب اور آئین پر حکمرانی کی وجہ سے ہے۔ اب ججز خود ہی فیصلہ کر کے آئین میں تبدیلیاں کر کے نئے قوانین بنا رہے ہیں۔ اب وہ حکومت اور پارلیمنٹ کے غلام نہیں رہے۔ اب وہ نیشنل پاور پالیٹکس میں تیسری بڑی قوت بن چکے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ عدلیہ بحالی کی تحریک ججز کیلئے بہت مفید ثابت ہوئی لیکن پارلیمنٹ کی بالا دستی کیلئے ناپائیدار ثابت ہوئی جو کہ جمہوریت کیلئے سب سے زیادہ ضروری چیزہے۔ تب سے اب تک ججز نے دو منتخب وزرائے اعظم کو گھر بھیجا۔ ایک کو تو توہینِ عدالت اور دوسرے کو صادق اور امین نہ ہونے کی وجہ سے نااہل قرار دیا گیا۔
دوسرا اہم فیکٹر سماجی ،ڈیموگرافک ڈویلپمنٹ سے متعلقہ ہے۔ جس طرح پاکستان آرمی کی آفیسرز کور شہری مڈل کلاس سے منتخب کی جاتی ہے اسی طرح باراور بنچ کے اکثر نمائندوں کا تعلق بھی شہری مڈل کلاس سے ہوتا ہے۔
یہ کولونیل عہد کے بعد کی شہری مڈل کلاس ہے جس کی دو اہم علامات پر جوش تحریک اور سماجی اور معاشی ترقی کیلئے اُٹھنے والی آواز ہے جس کی وجہ ان کی تعلیم اور مہارت کے علاوہ معاشی طورپر تباہی کی طرف سفر کا خوف ہے۔ ان دونوں علامات کا نشانہ کرپشن ہے جس میں سفارشی کلچر اور معاشی کرپشن دونوں چیزیں برابر اہمیت رکھتی ہیں ۔ان دونوں لعنتوں کی وجہ سے پاکستان میں عام شہری تک سہولیات نہیں پہنچ پاتیں اور عام شہری ٹیکسوں کے بوجھ تلے پستا چلا جاتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی اور معاشی ترقی کے ابتدائی مراحل میں یہ کلاس تعلیم یافتہ اور شہری علاقوں میں رہنے والے مہاجروں پر مشتمل تھی جو اسلامی قومیت اور سماجی مساوات کے حامی تھے جس کی وجہ سے پہلے انہوں نے جماعتِ اسلامی اور پھر پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا لیکن ان آپشنز کی ناکامی اور بے وقعتی کی وجہ سے یہ لوگ اب یا تو پی ٹی آئی یا پھر مذہبی شدت پسند گروہوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ ججز عمران خان کا احتساب نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ کرپشن کے معاملے میں عمران خان کے موقف سے متفق ہیں۔
یہ ورلڈ ویو جو آرمڈفورسزکے آفیسرز کور،بار اور بنچوں میں عام ہے یہ مکمل طورپر کیپٹلسٹ، فیوڈل، سوشلسٹ اور مغربی کلچر کے برعکس ہے۔ یہ جمہوریت کے بھی خلاف ہے کیونکہ اس کے مطابق مغربی طرز کی جمہوریت اور فیوڈل اور کیپٹلسٹ کلچر پر مبنی ہے جو بالکل غیر ضروری اور کرپٹ عمل ہے۔اس تجزیہ سے دو نتائج نکلتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ججوں اور جرنیلوں کے بیچ موجودہ اتحاد کا تعلق ایک دو راست باز ججز اور جرنیلوں سے بالکل غیر متلقہ ہے کیونکہ اس کا بظاہر مقصد اداروں اور کلاس کی توجیہات کو مضبوط بنانا ہے۔ دوسرا یہ کہ یہ ڈائمنشن پاکستانیسیاست پر غالب رہے گا جب تک کوئی ایک یا کئی مسیحا مل کر اس کا سامنا نہیں کرتے اور ایسے حالات پیدا نہیں کر دیتے جن سے نمٹنے کی صلاحیت جرنیلوں اور ججز میں نہ ہو۔ پاکستان کا ٹیکنو کریٹ حکومتوں ، اتحادی حکومتوں اور معلق پارلیمنٹ کا تجربہ بہت پریشان کن ہے۔ اس پر مزید ظلم یہ کہ ہمارے سب ہمسائے اور سپر پاور ممالک ہم سے ناراض رہتے ہیں اور ہمارے عدم استحکام کا فائدہ اُٹھانے کی طاق میں رہتے ہیں اور یہ عدم استحکام ججوں اور جرنیلوں کی انجنیئرڈ سیاسی پلاننگ کے تحت واقع ہوتاہے جو پاکستان کیلئے سب سے زیادہ مسائل کا باعث بنتاہے۔
اس وقت ہم صرف ایک ہی بات یقین سے کہ سکتے ہیں کہ۔ انفر میشن ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں خواہ کتنے ہی افراد کو لاپتہ جائے یا میڈیا پر جتنی بھی سنسرشپ عائد کر لی جائے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
جو چیز پاکستان کواس وقت ایک قوم کی طرح جوڑے رکھ سکتی ہے وہ آئین کے مطابق عوای رائے شماری کے ذریعے منتخب حکومتوں کا قیام ہے۔ صرف وژن رکھنے والے اور بے لوث سیاسی لیڈر ہی یہ حالات پیدا کر سکتے ہیں۔ کٹھ پتلی سیاستدان اور جرنیولوں اور ججوں کی طرف سے پیش کردہ مسیحا ملک کی بہتری میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *