پارلیمنٹ کی توہین

حنا مہر ندیم

پہلے حکومتوں کو گھر بھیج دیا جاتا تھا اور اب منتخب وزیر اعظموں کو گھر بھیجا جاتا ہے۔ پاکستان کی اسلامک ریپبلک کے " جج صاحبان " نے اس قوم کی تاریخ بنانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ پہلے پاکستان کے لیے 20 ویں صدی میں ،via Salus populi suprema lex esto کیا کرتے تھے اور اب 21ویں صدی میں توہین عدالت اور از خود نوٹس کا استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان میں جمہوریت کو بہت سے نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑا۔ اب بھی وہ مشکل میں ہے اور یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ۔ خاص طور پر آخری پانچ سالوں میں ایک بلکل نیاطریقہ متعارف ہوا۔ اس سر زمین کی پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور مقدس عمارات کو مسلسل ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ آئین کے 14(1) آرٹیکل کے مطابق ہر وجود کا حق ہے کہ اسے وقار اور عزت ملے۔ بد قسمتی سے، جس نے اس سپریم قانون کو کوٹ کیا تھا وہ ہی اسے اپنے حق کے لئے استعمال نہیں کر پایا۔ آج پارلیمنٹ کی عزت بہت ہی آسان شکار ہے۔ ذیادہ تر توہین عدالت " پرائیمہ فیسی " ہے اور یہ انہوں نے کی جو اپنے حلفوں کی وجہ سے اس ادارے کے لئے وفادار رہے اور اپنی شناخت بنائی۔ ایسے لوگ ابھی بھی تعینات ہیں اور وہ پارلیمنٹ کا حصہ تب تک بھی رہیں گے جب تک یہ گورنمنٹ رہے گی۔ ان کے ایسے الفا ظ اور ایسی لعن طعن کو ہرگز غلط کہا جا سکتا ہے، لیکن ایسا کرنا جرم نہیں کہلاتا۔ شاید اس لئے کہ MPs’ کا حلف کہتا ہے کہ :" میں پاکستان کے آئین کے اسلامک ریپبلک کی حفاظت کروں گا، بچاؤں گا اور دفاع کروں گا "، اور آیئن خود ہی پارلیمنٹ کی توہین پر چپ ہے۔ پارلینٹ کی توہین ایک عجیب، انجانا سا قانونی منظر نامہ ہے۔ پوری دنیا میں پارلیمنٹ ہاؤس کی طاقت پہنی اور بار بار استعمال کی جاتی ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا۔ بہت ذیادہ تعداد میں عملی اور اہم قوانین اب بھی ایسے ہی پڑے ہیں جیسے برطانوی حکومت بنا کر چھوڑ گئی تھی۔ اس کیس مین بھی، یہی بات ہے لیکن ہم جو ہے اسے بھی عملی شکل دینے سے انکاری ہیں۔ ایسا کیوں؟ کسی کو تو اس بات کا جواب دینا ہو گا۔ ہمارے بر عکس ہندوستان میں آرٹیکل 105(3) اور ارٹیکل194(3), کے مطابق ترمیمیں کی گئی ہیں اور اپنی وقعت اور وقار کو بچانے کے لیے قانون سازی کی گئی ہے۔ وہ خود ہی الزامات اور جرائم کا فیصلہ کرتی ہے جو پارلیمنٹ ہاؤس اور حقوق کے خلاف ہو۔ 18 نومبر 1977 میں لوک سبھا نے اندرا گاندھی کو ہاؤس کی ممبر شپ سے نکال دیا ۔ لیکن 19 ستمبر 1978 میں اس تحریک کو مصلحت کے تحت منسوخ کر دیا ۔ 15 نومبر 1976 میں صبرامنین سوامی کو راجیاسبھا سے نکال دیا گیا ۔ 13 جولائی 1964 کو مہاراشٹر کی آئین ساز اسمبلی نے اپنے ایک ممبر کو نکال دیا۔ 2015 میں بھی امریکہ کے کومن ہاؤس نے بن ایمرسن QC جو ایک غیر ممبر ہیں کے خلاف ایکشن لے کے ایک تاریخی قدم اٹھایا ۔ اورپارلییمنٹ کے وقار کو بچانے کی ایک بھرپور مثال قائم کی ۔

پارلیمانی اختیارات کے بارے میں برطانوی حکومت نے 2012 میں گرین پیپر جاری کیا جس میں لکھا تھا: دونوں پارلیمنٹ ہاوسز کسی بھی وقت بار کے کسی بھی نمائندےکو سختی سے نمٹ سکتے ہیں اور اسے جیل بھی بھیج سکتے ہیں۔ ہاوس آف لارڈز کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ نان ممبرز کو توہین پارلیمان پر فائن کر سکے ۔ برطانیہ میں پارلیمنٹ کے نان ممبرز کو بھی توہین پارلیمان پر سزا ہوتی ہے اور بھارت میں ججوں کو بھی پارلیمان کی توہین پر پارلیمان میں طلب کیا گیا ہے ۔ لیکن پاکستان کے پارلیمان ممبران کا رویہ اس کے بر عکس ہے۔

پارلیمنٹ کی توہین ایک تھارٹی ہے جو ہر پارلیمنٹ کے پاس ہونی چاہیے۔ ہر پارلیمنٹ ہاوس کی حدود طے ہونی چاہییے جس کی بے حرمتی پر سز ا دی جائے۔ البتہ ایسے شخص کو جو پارلیمنٹ کو گالی دے، کام میں رکاوٹ ڈالے، اس کے فیصلے نہ مانے، اس کو سکینڈلائز کرے، اس کا مذاق اڑائے یا اس کی توہین کرے ، اس کو سزا دینے کا اختیارصرف اپیکس کورٹ کے پاس ہونا چاہیے۔ آرٹیکل 204 کے تحت آئین نے اس طرح کا اختیار اپیکس کورٹ کو دے رکھا ہے جو کہ اس کورٹ کو بنانے والے کے پاس بھی نہیں ہے۔ کتنی عجیب بات ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو مستقبل میں سپریمیس کے مسائل کا علم تھا اس لیے انہوں نے آرٹیکل 204 کو پانچویں ترمیم کے ذریعے بدل دیا لیکن جنرل ضیا نے اس آرٹیکل کو بحال کروا دیا ۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ یہ فیصلہ غلط تھا۔

ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہر بار عوام کے منتخب نمائندے کو باوجود اس بات کے کہ اسے آرٹیکل 248 کے مطابق عدالتی کاروائی کے خلاف استثنی حاصل ہوتا ہے اور ایسے مجرم جس نے پاکستان کے سب سے بڑے فنانشل سکیم میں حصہ لیا ہو ان دونوں کی قسمت ایک جیسی ہوتی ہے۔ نواز شریف خود کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ ایسا انہوں نے تین بار کیا۔ پانامہ لیکس کے لیے نہین بلکہ یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کے لیے۔ ایک منتخب وزیر اعظم کو نواز شریف اور ان کےساتھیوں کی وجہ سے گھر بھیجا گیا۔ انہوں نے ایک توہین کے چکر میں 18 کروڑ لوگوں کے ووٹ کی بے حرمتی کی۔ اس کا کوئی جوا ب دے گا؟

اب یہ خاندان گیلانی کے خلاف عدالت جانے پر شرمندگی کا اظہا ر کر رہا ہے اور میموگیٹ کیس کا حصہ بننے کو اپنی غلطی قرار دے رہا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ بے کار ہے۔ اس وقت ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے ماضی میں منتخب حکومتوں کو کام کرنے نہیں دیا۔ اپنے دور حکومت میں نواز شریف اتنی ہی بار پارلیمنٹ آئے ہوں گے جتنی بار وہ عدالت جا چکے ہیں۔ یعنی ان کی حاضری زیرو ہے۔ اپنے چار سالہ دور میں انہوں نے صرف 42 بار پارلیمان میں حاضری دی۔ صر ف دو گھنٹے ایوان بالا کو دیے۔ اب انہیں زندگی بھر کے لیے نا اہل قرار دیا گیا ہے لیکن ان کی طرف سے پارلیمان کی توہین کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔ افسوس کی بات ہے کہ ن لیگ کے وزرا بھی اپنے قائد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ وہ یہ ثابت کرر ہے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ سے زیادہ شریف خاندان کے وفادار ہیں۔ اس لیے وہ بھی اپنے قائدین کی طرح اپنے اختیار کا غلط فائدہ اٹھانے میں لگے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ان کے اپنے چئیر مین سینیٹ کو حکومتی ارکان کی غیر حاضری کے خلاف واک آوٹ کرنا پڑا۔

18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو خود مختاری دی گئی ہے اورانہیں تمام وسائل میں سے برابر کا حصہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لیکن ن لیگ کے لیےصرف پنجاب ہی پاکستان ہے اسی لیے حال ہی میں ن لیگ نے 18ویں ترمیم کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور یہ بات زرا بھی حیران کن نہین ہے۔ ہماری تاریخ میں اپوزیشن کبھی بھی متحد نہین رہی۔ لیکن بلوچستان کے معاملے میں یہ معجزہ دیکھنے کو ملا۔ پہلی بار بلوچستان کو لیڈکرنے کا موقع ملا ہے تو ن لیگ کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی۔ ن لیگ کے لیے صادق سنجرانی کا بطور سینیٹ چئیرمین انتخاب ایک چبھنے والا کانٹا ہے کیونکہ ن لیگ نے کبھی چھوٹے صوبوں کو اہمیت نہیں دی۔ نواز شریف صادق سنجرانی کے انتخاب کو ایک سازش قرار دیتے ہیں اور خاقان عباسی نے تو سنجرانی سے ملنے سے انکار کر دیا۔ کیا یہ ووٹ کی بے حرمتی نہیں ہے؟ کیا کوئی یہ سوال شریف خاندان سے پوچھے گا؟

ایک ریاست کی حیثیت سے پاکستان پہلے ہی ایک وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے چار سال سے مسائل کا شکار ہے۔ ایک طرف ہمارے مخالفین ہمیں گرے لسٹ میں ڈالنے کی تیار ی میں ہیں تو دوسری طرف ن لیگ نے خارجہ پالیسی میں مزید ناکامیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس وقت امریکی سفیر کی تعیناتی کے لیے کوئی اہل، تجربہ کار اور ماہر ڈپلومیٹ درکار ہے لیکن ن لیگ نے ایک بار پھر اپنے بزنس اور ذاتی تعلقات کو ترجیح دی ہے۔ پارلیمنٹ سے رائے لیے بغیر ایک بزنس مین کو امریکی سفیر تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس سے بھی پارلیمان کا تقدس مجروح ہوا ہے۔ نیو یارک پہنچنے کی بجائی علی جہانگیر نیب کیسز کا سامنا کر رہے ہیں جس سے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کا خطرہ ہے اور وہ بہت سے گھپلوں کے کیس میں اپنے آپ کو صادق اور امین ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں۔

نواز شریف نے معلوم نہین کتنی بار پارلیمنٹ کی توہین کی ہے لیکن آج کل ان کی پسندیدہ چیز توہین عدالت بنی ہوئی ہے۔ پارلیمنٹ کے وقار کو بحال کرنے کے لیے کسی قانون کی نہین بلکہ آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ لیکن اگلے پانچ دس سال میں ایسا ممکن نظر نہیں آتا ۔ دوسری طرف ادارہ جس کے پاس اپنی عزت کروانے کی اتھارٹی ہے نے حال ہی میں اپنا تقدس بحال کروایا ہے۔ یہ عدلیہ کی کامیابی ہے یا اس کے موجودہ چیف جسٹس کی؟ ہمیں اس سوال کا جواب معلوم ہے ۔ ایک طرف نہال ہاشمی کو سزا پوری کرنے کے بعد دوبارہ عدالت طلب کیا گیا ہے تو دوسری طرف دانیال عزیز اور طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کے مقدمات بنائے گئے لیکن نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن کو رد کر دیا گیا اور کہا گیا کہ اگرچہ انہوں نے کچھ تبصروں میں حد کراس کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس پٹیشن میں جس بیان کا ذکرکیا گیا ہے اس میں عدلیہ کی توہین نہیں کی گئی۔ مجھے حیرت ہے کہ اب سو موٹو ایکشن کیوں نہیں لیا جا رہا جب کہ نواز شریف اب پہلےسے زیادہ جارحانہ اور کرخت لہجہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کے بیانات سے کہیں نہین لگتا کہ وہ قانون کے مطابق فیصلوں پر تنقیدی بیان دے رہے ہیں۔ ان چھوٹی چھوٹی وارننگز کے علاوہ کوئی بڑا یکشن کیوں نہیں لیا جا رہا۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہو گا اور یہ جواب صرف عوام ہی دے سکیں گے

source : https://dailytimes.com.pk/writer/hina-mahar-nadeem/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *