EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا کوئی حرج نہیں کہ مجھے آج تک میرے اخبار کی مدیر یا کسی اور ادارے نے اشارتاً بھی نہیں کہا کہ مجھے اس کالم میں کیا نہیں لکھنا۔ صبح اُٹھتے ہی یہ کالم لکھنے کے لئے قلم اُٹھانے کے بجائے لیکن میں نے ریموٹ اُٹھا لیا۔
ہوا یہ تھا کہ رات بہت بے چین گزری۔ نیند کی گولی لینے کے باوجود کروٹیں بدلتا رہا۔ میرے سرہانے رکھی کتاب بھی اپنی جانب راغب نہ کر پائی۔ مجبوراً فون اُٹھا لیا۔ ہفتے کے آخری دنوں میں ٹی وی اور سوشل میڈیا سے دور رہتا ہوں۔ دل کی بے کلی نے ٹویٹر اور فیس بک اکاﺅنٹس کو Activateکرنے پر مجبور کر دیا۔ میرے شہر لاہور سے ان دونوں اکاﺅنٹس پر کچھ Posts آ رہی تھیں۔ انہوں نے مزید پریشان کر دیا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اُٹھائے کچھ اقدامات کے بارے میں جو بحث جاری تھی اس میں حصہ ڈالنے کو دل بہت بے تاب رہا۔ ”دیکھے ہیں بہت ہم نے ....“ والی سوچ کے ساتھ پژمردہ ہوئے ذہن نے مگر روک دیا۔
نجانے کیوں ذہن میں لیکن یہ خیال ضرور آیا کہ ہفتے کے روز یوم اقبال تھا۔ وہ کشمیری نژاد تھے۔ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ وہاں کے مرے کالج سے فارغ ہونے کے بعد مزید تعلیم کے لئے لاہور آئے۔ یہاں سے اعلیٰ تعلیم کے لئے جرمنی چلے گئے۔ انگلستان ، اٹلی اور سپین وغیرہ کے کئی دوروں کے بعد اپنے دور کے یورپ کو خوب سمجھا۔ بالآخر وطن لوٹ آئے اور لاہور کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیا۔ ان کی فارسی شاعری بہت گہری ہے۔ اس زبان پر گرفت کے حوالے سے مولانا روم کو بھی کم تر سمجھنے والے ایرانی اقبال کی فارسی پر گرفت کا حیرت سے اعتراف کرتے ہیں۔ انہیں اقبال لہوری کہتے ہوئے یاد کرتے ہیں۔
اقبال اپنی ہم عصر نسل سے بہت مایوس تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ ”خوئے غلامی“ نے ان کے ذہن بنجر بنا دئیے ہیں۔ محبت انہیں نوجوانوں سے تھی اس اُمید کے ساتھ کہ وہ ستاروں پر کمند ڈالیں گے۔ نوجوانوں کو عملِ پیہم پر گامزن رکھنے کے لئے مگر انہیں استعاروں کی تلاش تھی۔ یہ استعارہ وہ یورپی ادب ہی نہیں بلکہ فارسی کی سرزمین کے بجائے اپنے ہاں سے ڈھونڈنا چاہتے تھے۔ ان کی خوش بختی کہ خوش حال خان خٹک کے کلام سے آشنا ہوئے۔ ان کی شاعری سے مردِ کوہستانی دریافت کیا اور شاہین جو پہاڑوں کی چٹانوں پر رہتا ہے۔ آشیانہ نہیں بناتا اور جس کا جہاں کرگس کے جہاں سے قطعی مختلف ہوتا ہے۔ شاہین کی دریافت کے بعد اقبال اس کے بچوں کو بال و پر ملنے کی دُعائیں مانگنے لگے۔
مجھے خبر نہیں کہ ہفتے کے روز جو نوجوان لاہور آئے تھے وہ اقبال والے شاہین تھے یا نہیں۔ شاہین کے مترادف شہباز کی حکومت نے ان کے ساتھ مگر عجیب رویہ اختیار کیا۔ اس رویے کو بدلنے میں کافی دیر لگی۔ انگریزی والا Damage ہو جانے کے بعد۔ میرا نہیں خیال کہ یہ رویہ دکھانے کے بعد شہباز شریف خودکو قومی سطح پر نوازشریف کا متبادل ثابت کر پائیں گے۔ اتوار کی صبح مگر اُٹھا تو خبر تھی کہ وہ دو روزہ دورے پر کراچی تشریف لے جا رہے ہیں۔ وہاں بجلی کی ترسیل کو یقینی بنانا ان کی اولیں ترجیح ہے۔ وہاں بجلی بحال ہوگئی تو اس کا کریڈٹ لے کر پورے سندھ کو ”پنجاب جیسا“ بنانے کے وعدے کے ساتھ آئندہ انتخابات میں اس صوبے سے ووٹ لینے کے ارادے ہیں۔ شاید انہیں گماں ہے کہ فی الوقت KPK کو ان کی ذات سے منسوب گڈگورننس کی ضرورت نہیں۔ بلوچستان کو ویسے بھی قدوس بزنجو مل چکے ہیں۔ اس صوبے سے نمودار ہوئے صادق سنجرانی سینٹ کے چیئرمین منتخب ہوچکے ہیں۔ عمران خان صاحب نے اس انتخاب کو یقینی بنانے کے لئے بقول ان کے ”دنیا کی سب سے بڑی بیماری“ سے تعاون کیا اور بلوچستان کا احساسِ محرومی دور ہوگیا۔ توجہ اب سندھ پر ہے۔
سوتے میں مجھے خواب بھی آتے ہوں گے مگر یاد نہیں رہتے۔ ہفتے کی رات اس تناظر میں بہت عجیب تھی۔ ٹی وی پر میرے Live شو میں چند ہی لمحے رہ گئے تھے اور میں اقتدار کے کسی بہت بڑے ایوان کی بھول بھلیوں میں خود کو محصور ہوا محسوس کررہا تھا۔ جن دروازوں پر لال روشنائی سے بڑے بڑے حروف میں Exit لکھا ہوا تھا وہاں سے باہر آتا تو ایک اور وسیع و عریض کمرہ آ جاتا ۔ وہاں سکیورٹی پر مامور افراد مگر مجھ سے قطعی لاتعلق۔ میں اپنے تئیں Exit ڈھونڈتا۔ وہاں سے باہر نکلتا تو ایک اور کمرہ۔ ”ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو“والی کیفیت۔ دل پر بوجھ محسوس ہوا تو آنکھ کھل گئی۔ زبان خشک ہو چکی تھی۔ پانی کا پورا گلاس پیا۔ بستر سے اُٹھ کر دونوں ٹانگیں جوڑ کر ہاتھ فضا میں اُٹھاتے ہوئے گہرے سانس لے کر بستر پر لوٹا۔ نیند آگئی مگر خواب میں ایک بار پھر No Exit والی کیفیت سے دوچار ہونا پڑا۔
صبح ہوگئی تو لکھنے والی میز پر آیا۔ معمول کے مطابق یہ کالم لکھنے کے لئے قلم اُٹھانے کے بجائے ریموٹ کا بٹن دبا دیا۔ ہمیں 24گھنٹے باخبر رکھنے کے دعوے دار ٹی وی چینل کی لیڈ سٹوری عامر خان کی باکسنگ کی دنیا میں واپسی پر مبنی تھی۔ ملکہ الزبتھ کی سالگرہ کا ذکر بھی تھا۔ سعودی عرب کے بارے میں سوشل میڈیا پر ہفتے کی شب پریشان کن خبریں پھیلی تھیں۔ انہیں جھٹلایا گیا۔
اپنے آزاد اور بے باک ٹی وی چینلوں کے نیوز بلیٹن دیکھنے کے بعد مجھے سمجھ آگئی کہ میں نے گزشتہ شب اپنے ٹویٹر اکاﺅنٹ کو دیکھنے کے بعد لکھنے کا جو فیصلہ کیا تھا اسے بھول جانا ہوگا۔ یہ بات لکھنے کے بعد آپ کو ایک بار پھر یہ بتانا ضروری ہے کہ مجھے آج تک اشارتاً بھی نہیں بتایا گیا کہ اس کالم میں کیا نہیں لکھنا۔ صحافت میرے لئے کسی مشن کی تکمیل کا ہرگز ذریعہ نہیں ہے۔ میںخالصتاً اپنے رزق کی خاطراس پیشے پر انحصار کرتا ہوں۔ رزق کے اس ذریعے کو ہرصورت برقرار رکھنے کی مہارت وقت نے غالباً سکھا دی ہے۔ جبلت کا حصہ بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا کے مسلسل فروغ،سرعت انگریزی اور سماجی رویوں کو بھرپور انداز میں متاثر کرنے کی قوت کے ہوتے ہوئے مجھ ایسے ذمہ دار اور محتاط صحافی مگر کب تک اپنا وجود برقرار رکھ پائیں گے۔اس سوال پر غور کرنے کے لئے آج کا کالم ختم کرتا ہوں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *