تمام مسائل کا ایک ہی حل

لاھور اور اسلام آباد وزٹ کے دوران دوستوں کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو رھی۔ کیا آنے والا جنرل الیکشن مخصوص قوتیں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے مینیج کر سکتی ھیں ؟ اکثریتی رائے یہ تھی۔ اتنے وسیع پیمانے پر ایسا کرنا ممکن نہیں۔ 2002 میں جنرل مشرف تمام تر سیاسی جوڑ توڑ اور انتظامات کے بعد اس قابل ھوے تھے۔ کہ محض ایک ووٹ کی اکثریت سے حکومت بنا سکے۔ الیکشن 2013 میں مبینہ دھاندلی کے خلاف عمران خان کے دھرنے کے باوجود یہ ثابت نہ ھو سکا۔ کہ الیکشن میں کوئی اداراجاتی سطح پر گڑ بڑ ھوئ ھے۔ اس کے بعد جتنے بھی ضمنی الیکشن ھوے ۔ 2013 کے عمومی نتائج ھی سامنے آے۔ 28 جولائی کو نوازشریف کی نااھلی کے بعد حلقہ 120 لاھور میں جو بائ الیکشن ھوا۔ اس میں ن لیگ کو ھرانے کے لیے انتہائی سائنسی بنیادوں پر کام کیا گیا۔ بتالیس امیدوار فیلڈ میں لاے گئے۔ مزھبی بنیاد پر ووٹ تقسیم کیے گئے۔ ن لیگی کارکنوں اور ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز پر رسائی سے روکا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق بیس ھزار ووٹوں کو مینیج کیا گیا۔ اس کے باوجود ن لیگی امیدوار تیرا ھزار ووٹوں سے جیت گیا۔ اس کے بعد ھونے والے تمام ضمنی انتخابات میں ن لیگی امیدواروں کی جیت کا مارجن بڑھتا چلا گیا۔ اور لودھراں کا الیکشن ن لیگ نے اٹھائیس ھزار ووٹوں کی اکثریت سے جیت لیا۔ حالانکہ پی ٹی آئی امیدوار اس الیکشن کو پچاس ہزار ووٹوں سے جیتنے کا دعوی کر رھا تھا۔ حالانکہ یہ جہانگیر ترین کی اپنی سیٹ تھی اور اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے پیسے کا وافر استعمال کیا گیا تھا۔ پس کہنے سے مراد یہ ھے۔ جو قوتیں ایک آدھ بائ الیکشن باوجود پوری کوشش کے مینیج نہیں کر سکیں۔ وہ پورا الیکشن کیسے ھائ جیک کر سکتی ھیں۔ یہ ایک متھ ھے۔ کہ اس ملک میں وھی ھوتا ھے جو مخصوص قوتیں چاہتی ھیں۔ یہ مخصوص قوتیں حکومت کا بازو مروڑ کر اپنی باتیں منوا سکتی ھیں۔ سیاسی جوڑ توڑ کر سکتی ھیں۔ جیسا سینٹ چئیرمین کے الیکشن میں کیا گیا۔ لیکن عوامی سطح پر وسیع پیمانے پر مرضی کے نتائج حاصل کرنا ناممکن ھے۔ اگر بالفرض محال کہیں سے اینٹ اور کہیں سے روڑا لے کر بھان متی کا ایک کنبہ جوڑ بھی لیا گیا۔ جس میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ایک ھی چھت تلے اکھٹے ھو بھی گئیں۔ تو ایسا جعلی بندوبست کتنی دیر چل سکتا ھے۔ اگر عمران خان کو اس سیٹ اپ میں وزیراعظم نہ بنایا گیا۔ تو کیا عمران خان ٹھنڈے پیٹوں اس بندوبست کو تسلیم کر لے گا۔ جس کی اب تک کی سیاست ھی اس محور کے گرد گھوم رھی ھے کہ وہ مستقبل کے وزیر اعظم ھیں۔ اس قسم کے آگ اور پانی کے سیٹ اپ کی اپنی تخلیق میں ھی تخریب کا عنصر شامل ھوتا ھے۔
ایسی صورت حال میں نواز شریف کا عنصر اور سیاست میں اس کی موجودگی بہت اھم ھو گا۔ یہ بات تو اب ثابت ھو چکی۔ کہ باوجود تمام دھمکیوں اور پر کشش آفرز کے نواز شریف نے پاکستان کی سیاست سے مائنس ھونے یا اسے ترک کرنے یا خود ساختہ جلاوطنی لینے سے انکار کر دیا ھے۔ وہ مریم سمیت جیل جانے کے لیے تیار ھیں۔ اور یہی وہ مسئلہ ھے۔ جس نے مخصوص قوتوں کو پریشان کر رکھا ھے۔ نواز شریف کو اگست میں کہا گیا تھا۔ وہ باھر چلیں جائیں۔ ان پر کوئی مقدمہ نہیں کھلے گا۔ نواز شریف نے انکار کر دیا۔ اور ان پر مقدمے کھول دیے گئے۔ خیال تھا وہ ڈر جائیں گے۔ اور اب ڈرانے والے ڈر رھے ھیں۔ مجھے ایک پرو اسٹیبلشمنٹ دوست نے کہا۔ نواز شریف کو جیل میں ڈالا گیا تو کوئی عوامی ردعمل نہیں ھو گا۔ میں نے مسکرا کر جواب دیا۔ پھر تو آپ کا کام آسان ھو گیا۔ اسے جیل میں ڈالیں ۔ اگلا سیٹ اپ بنائیں اور آرام سے حکومت کریں۔ مخصوص قوتیں نواز شریف کو جیل میں ڈالنا چاہتی ھیں۔ نواز شریف کسی بھی خوش فہمی کے تحت جیل جانے کو تیار ھے۔ اس کا خیال ھے۔ عوامی تحریک اٹھے گی۔ آپ کا خیال ھے۔ کچھ نہیں ھو گا۔ تو پھر پریشانی کیا ھے ؟ صاحب نے سوال کیا۔ نوازشریف اگر جیل جانا چاہتے ھیں تو اس سے جمہوریت اور ملک کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ میں نے ھنس کر کہا۔ یہ سوچنا جنگل کے بادشاہ کا کام ھے۔ اسے کیا نقصان یا فائدہ ھو گا۔ نواز شریف کیا کر سکتا ھے۔ ھو سکتا ھے نوازشریف کا خیال ھو۔ ان کے جیل جانے سے جمہوریت اور ملک کا بھلا ھو گا۔ نواز شریف کے ایک حمایتی کا کہنا تھا۔ ن لیگ منظم نہیں ۔ پچاس لوگ سڑک پر لانے اور احتجاج کرنے سے ن لیگ تنظیمی سطح پر معذور ھے۔ ایسے میں ایک بڑی تحریک اور بڑی جنگ کس طرح ممکن ھے۔ میرا کہنا تھا۔ نواز شریف ذہنی سطح پر اب اس مقام پر جا چکے ھیں۔ جہاں ایسے تمام ردعمل بے معنی ھو جاتے ھیں۔ وہ ایک مقبول سیاسی لیڈر کے تعصب یا سحر میں گرفتار ھیں۔ یہ تعصب ایک سیاسی لیڈر کو پھانسی چڑھا دیتا ھے۔ نواز شریف بھی اپنی ذات کی بلی دینے کو تیار ھیں۔ اور ان کی یہی قبولیت اور رضامندی مخصوص قوتوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رھی ھے۔ ویسے بھی ن لیگ کے سپورٹرز اور ووٹرز سڑکوں پر احتجاج نہیں کرتے۔ ووٹ کے ذریعے اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔ پرو اسٹیبلشمنٹ دوست نے پھر وھی سوال دہرایا۔ لیکن اس سے جمہوریت اور ملک کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ اور میں آپ کو بتا دوں۔ کوئی تحریک نہیں چلے گی۔ میرا جواب پھر وھی تھا ۔ تو پھر پریشانی کیا ھے۔ اسے جیل میں ڈالیں اور امن سکون سے حکومت کریں۔
لیکن سچ یہی ھے۔ الیکشن کو مینیج کرنا ایک مسئلہ ھے۔ تو نواز شریف کو مینیج کرنا دوسرا مسئلہ ھے۔ الیکشن کے بعد بھان متی کے کنبے اور مخلوط حکومت کو مینیج کرنا تیسرا مسئلہ ھے۔ کسی بھی سیاسی ردعمل کو مینیج کرنا چوتھا مسلہ ھے۔ نواز شریف اگر آزاد ھیں۔ تو وہ اس سیٹ اپ کو چلنے نہیں دیں گے۔ اور اگر جیل میں ھیں۔ تو بہت بڑا مسلہ ھیں۔ اور سیاسی عدم استحکام کی صورت میں معاشی تنزلی ایک اور مسلہ ھے۔ اور اگر الیکشن ملتوی ھوتے ھیں۔ تو کیر ٹیکر حکومت کو مضبوط رکھنا سب سے بڑا مسئلہ ھے۔ وہ سیاسی حضرات جن کو حکومت دینے کے لالچ میں ساتھ ملایا گیا ھے۔ اور جنہیں اوپر سے حکم آ رھے ھیں۔ حکومت نہ ملنے کی شکل میں انہیں مینیج کرنا ایک اور طرح کا مسئلہ ھے۔ اور آخری مسلہ ان قوتوں کی عقل و دانش ھے۔ جو غلطی نہیں کرتے بلکہ ایک ھی غلطی بار بار کرتےھیں۔ اور قوم اور ملک بھگتے ھیں۔
چناچہ تمام مسئلوں کا ایک ھی حل ھے۔ عوام کی رائے تسلیم کی جائے۔ چیزوں کو مینیج کرنے کی بجائے ایک صاف شفاف الیکشن کروانے پر فوکس کیا جائے۔ نئی حکومت کو کام کرنے دیا جاے اور مخصوص قوتوں کے جو اداراجاتی اسٹکیس ھیں۔ ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اور آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہ کر تمام ادارے کام کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *