اک ذرا ملیشیا تک (قسط نمبر2)

اب اس نے دوبارہ غور سے میرا جائزہ لیا ۔ کچھ لمحے توقف کیا ، بورڈنگ کارڈ میری طرف بڑھایا اور بولا : ’’ استاد ہونے کے ناتے آپ سے رعایت کی جاتی ہے ورنہ آپ کے پاس رقم بہت کم ہے ۔ ‘‘
اب تک کی گفتگو اور اپنی معلومات کے حوالے سے میں اندازہ لگا چکا تھا کہ اس کا اعتراض بے بنیاد ہے،وہ صرف مجھے تنگ کر رہا ہے۔ لیکن میں نے بحث میں الجھنا مناسب خیال نہ کیا بلکہ اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر بورڈنگ کارڈلے کر ہیلپر کی طرف مڑا جو کہ دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس نے معنی خیز رخصت چاہی تو میں اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ ایرپورٹ ٹیکس والی بات خاصی مشکوک ہے ۔ لیکن میں سامان پیک کرنے میں مدد پر خوش تھا ۔ پانچ سو کا نوٹ اس کے طرف بڑھا دیا۔ اس نے جس خوشی سے نوٹ پکڑا، سلام کیا ، مجھے یقین ہو چکا تھا کہ میرا اندازہ خاصی حد تک درست ہے اور بعد میں اس کی تصدیق بھی ہو گئی ۔ تب مجھے افسوس ہوا کہ کہ مجھے اس کے فراڈ کو ایکسپوز کرنا چاہیے تھا، بطور ایک ذمہ دار شہری یہ میرا فرض بنتا تھا۔ بہر کیف یہ کمزوری تو اب مجھ سے صادر ہوچکی تھی اور مستقبل ہی میں اس پر عمل کیا جاسکتا ہے۔
اب میری منزل امیگریشن ڈیپارٹمنٹ تھا ۔ اب تک میرا معاملہ ملنڈو ایر لائن سے ہوا تھا جس کے ذریعے سے میں سفر کر رہا تھا۔امیگریشن نے دیکھنا تھا کہ میرا پاسپورٹ درست ہے ، ویزا درست لگا ہو اہے ۔ٹکٹ درست شخص کی ہے، وغیرہ ۔ اصل میں پاسپورٹ کا مطلب ہے کہ جس ملک کے آپ شہری ہیں ، اس نے آپ کو اجازت دی ہے کہ اپنے ملک سے دوسرے ملک جاسکتے ہیں ۔ کیونکہ آپ ایک مہذب شہری ہیں ، قانون کے پابند ہیں، کسی جرم میں ملوث نہیں اور اپنے ملک سے دوسرے ملک جانے میں حکومت وقت کو کوئی اعتراض نہیں جبکہ ویزے کا مطلب بھی اجازت ہی ہے اور اس سے مراد ہے کہ جس ملک آپ جا رہے ہیں ، اس کی طرف سے آپ کو اجازت دی جاتی ہے کہ آپ اس میں قانونی طور پر داخل ہوں ۔
ان تمام مراحل سے داخل فارغ ہو کر میں ڈیپارچر لاؤنج میں آگیا ۔ یہاں مجھے کتابوں کی دو تین دکانیں نظر آئیں ۔مجھے احسن تہامی صاحب کے لیے دیوان غالب درکار تھا۔ انھوں نے بطور خاص اس کی فرمایش کی تھی۔ مگر حیرت انگیز طور پر اچھی خاصی بڑی دکانوں سے بھی میرا پسندیدہ ایڈیشن دستیاب نہیں تھا، جو ملتا تھا وہ اتنا بدنما تھا کہ اگر غالب خود دیکھ لیتے تو اگلی پچھلی نسلوں کو شاعری، کتابی شکل میں شایع کرانے سے منع کر دیتے ۔ائر پورٹ آتے ہوئے بھی میں نے ایک بڑی دکان سے معلوم بھی کیا تھا اور وہاں بھی وہی ایڈیشن دکھایا گیا تھا حالانکہ علامہ اقبال ٹاؤن کے ’’بھائی بھائی بک ڈپو ‘‘ کا شمارلاہور کے بڑے بکس سٹور میں ہو تا ہے۔اور اب ایر پورٹ پر بھی وہی ایڈیشن میرا منہ چڑا رہا تھا اورقیمت سوڈیڑھ سو نہیں، دو ہزار روپے سے بھی زیادہ تھی۔ تینوں دکانوں سے ایک ہی نتیجہ برآمد کر کے جب میں باہر نکلا تو لاؤنج میں آویزاں ٹی وی سکرینوں پر سینٹ کے نئے چیئر مین کے انتخاب کی خبر چل رہی تھی۔بی بی سی پر خبر کی تفصیل جاننی چاہی تو موبائل پر فیس بکی دانشوروں کو اس انتخاب پر ایک دوسرے کی چھترول کر تے پایا۔ پی ٹی آئی والے اسے اپنی عظیم فتح قرار دے رہے تھے ۔ اپنے ’’عظیم ‘‘ قائد کی سیاسی بصیرت پر فرحاں و شاداں ہو رہے تھے۔ان کے خیال میں خان صاحب نے نون لیگ کو دھول چٹا دی ہے اور کہیں کہیں پی پی والے ’’زرداری سب پر بھاری ‘‘کا نغمہ الاپ رہے تھے۔جبکہ نون لیگ والے کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے کے ساتھ ساتھ جائز طور پر اسٹیبلشمنٹ کو کوس رہے تھے ۔ ہمراہ وہ زرداری اور عمران کے گٹھ جوڑ کو کم ازکم ’ زنا‘ کے درجے کی حرکت قرار دے کر اپنا دکھ ہلکا کر رہے تھے۔ جبکہ ہماری فوجی قیادت خوب مطمئن تھی کہ بلوچستان اپنے ہاتھ رکھنے سے وہ مرضی کے نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔ اور اب وہ اپنی شرائط پرآئینی تبدیلیوں کو ڈکٹیٹ کرا سکیں گے۔ پرو اسٹیبلشمنٹ عناصراس بیگانی شادی پرعبداللہ دیوانے کی طرح ناچ رہے تھے ۔ پاکستانی سیاسی سرکس کی یہ قلابازیاں دیکھ کر بہت دل گرفتہ ہوا۔ اور آج جب یہ الفاظ تحریر کر رہا ہوں توقبلہ سراج الحق بیچ چوراہے اپنے اتحادی عمران خان کے کپڑے اتار رہے ہیں اورخود خان صاحب پر اب یہ عقدہ کھلا ہے کہ ان کے بیس ارکان اسمبلی بکاؤ مال ہیں ۔ یا للعجب!کاش ہمارے سیاست دان بالغ ہو جائیں! وہ کب تک اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر ناچتے رہیں گے اور ہماری بہادر فوج یہ سمجھ جائے کہ اپنا ہی ملک بار بار فتح کرنا کوئی بہادری نہیں ۔ ماضی میں ہماری جمہوریت چھانگا مانگا کے جنگلوں میں بکتی تھی اور آج وہ بلوچستان کے ویرانوں میں بے آبرو ہوتی ہے اور افسوس کہ ذمہ دار ابھی تک ایک ہی ہے ۔
میں انھی سوچوں میں تھا کہ آواز آئی کہ کوالالمپور جانے والے مسافر تیار ہو جائیں ۔ اور یوں ٹھیک وقت پر ہم ملینڈو ایر کے خوبصورت بوئنگ جہاز پر سوار ہو رہے تھے۔ ایر ہوسٹس مسافروں کی رہنمائی کر رہی تھیں ۔ میں کئی برسوں کے بعد جہاز پر سوار ہونے پر خوش تھا لیکن یہ سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ ایر ہوسٹس کا تو روز کاکام ہے وہ کیوں اتنی مسکراہٹیں کیوں بکھیر رہی ہیں ؟ خیر میری سیٹ کھڑکی کے ساتھ تھی اور میں خاصا مطمئن ہو گیا۔ تین سیٹوں والی اس رو میں دوسری سیٹ خالی تھی اور تیسری سیٹ پر کوئی غیر ملکی تھا۔ سیٹ آرام دہ تھی۔اپنی نشست کے سامنے ٹی وی سکرین روشن دیکھ میں بہت خوش ہوا ۔ کھڑکی کے باہر جھانکا تو مایوسی ہوئی ۔ باہر کا منظر جہاز کے پر نے غارت کر دیا تھا۔ میں نے اپنے پڑوسی کی طرف دیکھا ۔ وہ خاصا مردم بیزار لگا۔ میں جہاز کے اڑنے تک یہ دیکھ چکا تھا کہ سیٹ کی جیکٹ میں دوعدد انگریزی میگزین ہیں ۔ سفر چھے گھنٹے کا تھا۔ معلوم تھا کہ مجھے نیند بالکل نہیں آئے گی ۔میں نے اپنا لیپ ٹاپ دوسری سیٹ کے نیچے رکھ لیا تھا۔ جہاز جب ہوا میں بلند ہوا توکپتان نے اس کی رفتار وغیرہ کا ذکر کیا لیکن مجھے یقین تھا کہ میرے تخیل کی رفتار جہاز سے کہیں زیادہ ہے ۔اور میں استاد محترم جناب جاوید احمد غامدی ، احسن تہامی ، حسن الیاس ، منظورالحسن اور دیگر احباب سے ملنے کے مناظر اور مہربان نگری ملیشیا کے متوقع نظاروں میں کھویا ہوا تھا۔
جہاز نے اپنی معمول کی رفتارپکڑی اور ہمیں یہ محسوس ہوا کہ ہم ہوا میں معلق ہو گئے ہیں ،بالکل ساکت اور پرسکون ۔ میں اس وقت تک ٹی وی سکرین سے پوری طرح واقف ہو چکا تھا۔ اپنی پسندیدہ مووی کا انتخاب بھی کر چکا تھا، میگزین میں اس پر تبصرہ بھی پڑھ چکا تھا، لیکن یہ کیا ؟ اچانک سیکرین آف ہو گئی۔ میں نے ارد گرد دیکھا کہ کہیں میرے ساتھ ہی تو ایسا نہیں ہوا۔ اطمینان ہوا کہ دوسرے بھی اسی پریشانی میں ہیں۔ اتنی دیر میں ایر ہوسٹس کھانے کی ٹرالیاں گھسیٹتی نظر آئیں۔میں سمجھا کہ کھانے کے بعداسے آن کر دیا جائے گا ۔لیکن کھانے کے بعد بھی جب ایسا نہ ہوا تو میں نے ایرہوٹس ے پوچھا ۔ ا س نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ سسٹم میں خرابی ہے اور یہ دور نہ ہو سکے گی۔میں بڑا بد مزہ ہوا۔ دوسری مایوسی ائر لائن سے یہ ہوئی کہ جو کھانا دیا گیا وہ بہت ناکافی تھا۔پھر کھانا کھانے کے تھوڑی ہی دیر بعد لائٹس آف کر دی گئیں ۔ لوگ سو رہے تھے ۔ا س لیے آپ لیپ ٹاپ یا موبائل میں سیف چیزیں ہی دیکھ سکتے تھے، کام نہیں کیا جا سکتا تھا۔ میں اس کے لیے تیار نہ تھا۔ اس لیے مجھے باقی کے سفر میں خاصی بوریت کا سامنا کرنا پرا ۔ ایک دلچسپ واقعہ البتہ ضرور پیش آیا ۔ میں واش روم کے لیے اٹھا ۔ چند قدم چلنے کے بعد میرے آگے چلنے والے دو لوگ اچانک رک گئے۔ اور پھر ایک دم ٹھیٹ پنجابی میں ایک خاتون کی آوازسنائی دی:’’ در فٹے منہ تیرا، کسے مراثی دیا تخماں ۔( میراثی کے بیٹے ، تمہارا چہرہ برا ہو )میں اس آواز کو پہچان چکا تھا ۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہ مجھے نظر بھی آگئی۔ ساتھ ہی ایک اور خاتون کی آوازسنائی دی: ’’ میں معافی چاہتی ہوں ۔ بچے نے واقعی بدتمیز ی کی ۔ ‘‘ میں نے دیکھا کہ وہی خاتون، جس نے ایر پورٹ پر اہلکار کو ’’کھڑکنا ‘‘ کا خطاب دیا تھا ، اس کے چہرے پر ایک بچے نے پانی گرا دیا تھا۔ اب یہ ایڈونچر کیسے ہوا ، اس کی مجھے ذرا سمجھ نہیں آرہی تھی۔ بہر کیف اب اسے، بچے کی ماں نے ٹشو پیپر پیش کر دیا تھا اور معاملہ رفع دفع ہو تا لگ رہا تھا۔ خاتون جو پہلے کھڑی تھی، اب بیٹھ چکی تھی۔ چند قدم مزید چلنے کے بعد میں واش روم کے باہر کھڑا تھا۔ ایک شخص اندر چا چکا تھا۔میں اور میرے آگے چلنے والا انتظار کرنے لگے۔ تب میں نے آہستہ سے اس خاتون کے بارے میں پوچھا۔ وہ کوئی پاکستانی نوجوان تھا ۔ وہ شاید پہلے ہی اس دلچسپ منظر کو ’’شیئر ‘‘ کرنا چاہتا تھا۔ بولا : بڑا شرارتی ہے بچہ، اس نے پانی کا گھونٹ بھرا ، اور خاتون پر کلی کر دی ۔ یہ تینوں ایک ہی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ اور ہم دونوں ہنسے بغیر نہ رہ سکے ۔ بیچاری فیشن ایبل لڑکی !
اس کے بعد کوئی قابل ذکر واقعہ نہ ہوا۔ تب کئی گھنٹوں کے بعد کپتان کی آواز آئی ۔ وہ جہاز کے کوالالمپور پہنچنے کی خوش خبری دے رہا تھا۔ مہربان نگری پر قدم رکھنے میں اب چند منٹ ہی باقی تھے ۔ ( جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *