غامدی صاحب سے ایک ملاقات

غالباً آٹھ نو سال پہلے کی بات ہے جاوید غامدی صاحب سے پہلی ملاقات ہمارے گھر پر ہوئی، یہ ایک طویل نشست تھی جس میں ہم سب گھر والوں نے مختلف مذہبی موضوعات پر غامدی صاحب سے سوالات کئے، آپ نے ہر سوال کا جواب نہایت تفصیل کے ساتھ دیا اور جیسا کہ ان کا انداز ہے اپنے موقف کے اظہار کے لئے انہوں نے قران و سنت کے حوالے دیئے اور نہایت مدلل گفتگو کی۔ اُس وقت غامدی صاحب میڈیا سیلیبرٹی بن چکے تھے، ہر ٹی وی چینل اپنے مذہبی پروگرام میں شرکت کے لئے انہیں مدعو کیا کرتا تھا، چبھتے ہوئے دینی مسائل پر اُن سے رائے لی جاتی تھی، مخالف نقطہ نظر کے علما اور غامدی صاحب کے درمیان بحث و مباحثہ کروایا جاتا تھا، ایسے میں غامدی صاحب کے استدلال کے آگے ٹھہرنا مشکل ہو گیا، یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا، مخالف مکتب فکر والے عالم دین اُن سے بدکنے لگے، رفتہ رفتہ اختلاف رائے کی یہ نوعیت بگڑنے لگی، اس میں تلخی عود کرآئی، اور پھر ایک دن خبر آئی کہ غامدی صاحب ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں غامدی صاحب کچھ عرصے کے لئے پاکستان آئے تو اُن سے ملاقات کا دوبارہ موقع ملا، طبیعت میں وہی حلیمی، شخصیت میں وہی عاجزی، لہجے میں وہی دھیما پن، دلائل میں وہی مضبوطی، گفتگو میں وہی روانی اور اظہار میں وہی سادگی۔ جو لوگ غامدی صاحب سے اختلاف رائے رکھتے ہیں وہ بھی اس بات کی گواہی دیں گے کہ جاوید غامدی ایک ایسے عالم دین کا نام ہے جو اپنے نظریات میں متشدد ہے اور نہ ہی سخت گیر، وہ اپنا مقدمہ دلیل سے پیش کرتے ہیں، مخالف اُن سے اتفاق کرلے تو سو بسم اللہ، اختلاف کرے تو جواب میں دلیل ہی مانگتے ہیں، تلوار سونت کر کھڑے نہیں ہو جاتے۔
میں نے غامدی صاحب سے سوال کیا کہ انسان کی زندگی میں مذہب کیوں ضروری ہے؟ اس سوال کا انہوں نے بہت دلچسپ جواب دیا، کہنے لگے، مذہب زندگی کا نہیں موت کا مسئلہ، اس زندگی کے لئے خدا نے انسان کو بہت عقل عطا کر دی ہے، اس نے اپنے لئے سیاسی نظام بنا لیا ہے، اس میں پارلیمانی جمہوریت ہے، صدارتی نظام ہے، اختیارات کی تقسیم ہے، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کا تصور ہے، چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہے، عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کا طریقہ کار ہے، گویا انسانی ذہن نے یہ تمام نظام وضع کئے، اس کے لئے اسے مذہب کی ضرورت نہیں، زندگی گزارنے کے لئے جو عقل اور شعور اسے درکار ہے وہ اسے خدا نے دے رکھا ہے، اصل مسئلہ زندگی بعد از موت کا ہے، مذہب کی ضرورت وہاں پیش آئے گی جب خدا موت کے بعد باز پرس کرے گا، جنت میں بھیجے جانے والوں کی چھانٹی کی جائے گی تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے زندگی خدا کے احکامات کے تحت گزاری اور یہ احکامات اخلاقی اور جسمانی پاکیزگی سے متعلق ہیں، ہمارے اعلیٰ اخلاق ہی اس بات کا تعین کریں گے کہ زندگی بعد از موت میں اللہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ ہمارے اخلاق سے متعلق اللہ تعالیٰ نے ہدایات پیغمبروں کے ذریعے سے بھیج دی ہیں، قرآن دراصل خدا کا پیغام ہے، وہ اُن پیغمبروں کی روداد ہے جنہیں خدا نے اپنا پیغام دے کر نازل کیا، پیغمبروں نے اپنی اپنی قوموں کو خدا کی طرف بلایا، جب انہوں نے نافرمانی کی تو خدا نے عذاب نازل کیا، حضرت نوحؑ، حضرت لوطؑ اور دیگر انبیاءؑ کی اقوام میں سے وہ لوگ جو خدا پر ایمان نہیں لائے اس عذاب کا شکار ہوئے،یہ عذاب کے ٹریلر تھے جو انسان کودکھائے گئے اور اس سے پہلے خدا نے انسان کو بار بار سچائی کی طرف بلایا۔ غامدی صاحب کا کہنا تھا کہ آخری نبیﷺ کے بعد عذاب کا سلسلہ رک گیا ہے کیونکہ عذاب کی وعید صرف پیغمبر سنا سکتا ہے، اب دنیا میں کوئی عذاب نہیں آئے گا، زلزلے اور سیلاب خدا کا عذاب نہیں، یہ موسمی تغیرات کا نتیجہ ہیں، اصل عذاب اب آخرت میں برپا ہوگا۔
بینکاری نظام کے متعلق غامدی صاحب کا فرمانا تھا کہ یہ نظام بھی آج کی دنیا میں بہت مفید ہے، مثال کے طور پر انشورنس کے سسٹم کو ہی لے لیں، اس نظام کے تحت آپ بڑے نقصانات سے بچ سکتے ہیں، خاندان کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں، اپنے گھر کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ پرانے وقتوں میں قبائلی نظام رائج تھا، قبیلے اور خاندان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے تھے، ایک شخص اگر فوت ہوتا تھا تو خاندان کے لوگ اس کے بیوی بچوں کی کفالت کرتے تھے، کسی کا مکان اگر سیلاب میں بہہ جاتا تو قبیلے کے افراد مل کر اُس کا مکان بنا دیتے تھے، آج کی دنیا میں یہ سب ممکن نہیں رہا، اب اس قبائلی نظام کی جگہ بیمہ پالیسی نے لے لی ہے، اب بیمہ ہی آپ کا قبیلہ ہے، آپ کی پس انداز کی ہوئی رقم برے وقت میں آپ کے اور بال بچوں کے کام آتی ہے، پوری دنیا اس نظام سے فائدہ اٹھاتی ہے، مسلم ممالک میں یہ رائج ہے، اسلام کی کسی شق کے یہ خلاف نہیں، اس کے مزید فائدے بھی ہیں، آپ ایک کریڈٹ کارڈ جیب میں ڈالیں اور پوری دنیا گھوم لیں، اپنا کمپیوٹر کھولیں اور اپنے بستر پر بیٹھے بیٹھے دنیا بھر سے کہیں بھی خریداری کر لیں، آپ کو زیادہ پیسے دینے کی ضرورت ہی نہیں، تمام اشیا کی قیمتیں آپ کے سامنے ہیں، اپنا پیسہ کہاں رکھیں گے، بینک نے اس کا بھی انتظام کیا ہے، لاکر ہے، اکاؤنٹ ہے، آپ کی تنخواہ بینک میں آتی ہے، آپ قرض لے کر گھر بنا سکتے ہیں، گاڑی خرید سکتے ہیں۔ غامدی صاحب کا کہنا تھا کہ اس نظام کے خلاف کہیں کوئی دلیل قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہوتی، جہاں تک سود کے مسئلے کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں الگ سے بحث کی جا سکتی ہے مگر اس بنیاد پر پورے بینکاری نظام کو دھتکارا نہیں جا سکتا۔
غامدی صاحب سے گفتگو کرتے وقت ایک بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ آپ صرف عالم دین ہی نہیں بلکہ دنیا کے سیاسی اور فکری مسائل پر بھی آپ کی گہری نظر ہے، جدید دور کے معاشرتی چیلنجز سے آپ بخوبی واقف ہیں، ادب اور معاشرت بھی آپ کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔ بین الاقوامی حالات کے حوالے سے غامدی صاحب کا کہنا تھا کہ اب دنیا میں جنگ کا طریقہ تبدیل ہو گیا ہے، اسلحہ سازی اور جنگی سامان کی شکل اب وہ نہیں رہی جو چند سو برس پہلے تھی، اب سپاہیوں کے دوبدو لڑنے کا زمانہ گیا، اب ڈرون کا دور ہے، بیلسٹک میزائلوں اور فائٹر جیٹس کا زمانہ ہے، اب مسلح جدوجہد کا نتیجہ نہیں نکلے گا، کشمیر ہو یا فلسطین، کہیں بھی آزادی کی جدوجہد پُرامن طریقے سے کرنی ہوگی، دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرنا ہو گا، دنیا میں رائج بین الاقوامی قانون کے تحت یہ بتانا ہوگا کہ کہاں اور کس ملک نے غیر قانونی طریقے سے قبضہ کر رکھا ہے، اب گھوڑے دوڑا کر قبضہ کرنے کا دور ختم ہوا، اب تلواروں کے زور پر جنگیں نہیں جیتی جا سکتیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کہیں غیر آئینی بندوبست ہو تو اُس کے خلاف مزاحمت نہ ہو، ایسے نظام کے خلاف مزاحمت جائز ہے اور یہ مزاحمت ایک تحریک برپا کرکے اور قوم میں شعور بیدار کرکے کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے غامدی صاحب کا کہنا تھا کہ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ معاشرہ دو انتہاؤں میں تقسیم ہے، ایک طرف مذہبی انتہا پسندی ہے تو دوسری طرف ایسے لبرل جو مذہب سے بیزار ہیں، مذہبی انتہا پسند منظم ہیں جبکہ لبرلز کو معاشرے کا بڑا طبقہ قبول کرنے کو تیار نہیں، ایسے میں اسلام کی سچی اور روشن تعبیر پیش کرنے والے بہت کم ہیں اور بدقسمتی سے منظم بھی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے ایسی سچی مذہبی تعبیر کی ترویج کی جائے تاکہ معاشرہ کا بڑا طبقہ ان کے ساتھ منظم ہو سکے۔
جاوید غامدی صاحب کے افکار اور نظریات سے اتفاق اور اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لئے ہمیں اُن سے دلیل سے بات کرنا ہوگی۔ خود غامدی صاحب اس طرز عمل کی مثال ہیں، آپ ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے، کسی عالم دین کے گھر پرورش نہیں پائی، مولانا مودودی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور بعد میں انہی سے مؤدبانہ اختلاف کیا، اپنے استاد مولانا امین احسن اصلاحی سے اگر ان کے فکری اختلافات کو کتاب کی شکل دی جائے تو دو سو صفحات بن جائیں،یہ تمام باتیں اس بات کا اعلان ہیں کہ وہ بغیر کسی تعصب کے اپنی فہم و فراست کے مطابق رائے قائم کرتے ہیں۔ ہم غامدی صاحب سے ضرور اختلاف کریں کہ یہ ہمارا حق ہے مگر ہماری دلیل قرآن و سنت سے ہونی چاہئے۔ خدا ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے، آمین۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *