میرے والد محترم معین اختر

شرجیل اختر

یہ آرٹیکل 2015 میں شائع ہوا تھا۔

میں جوان تھا اور مجبور بھی لیکن میں نے مکینک کا کام چھوڑ دیا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ اب کیا ہو گا۔ لیکن ایک خاموش آواز ہمیشہ مجھ سے سرگوشی کرتی ، " جو بھی تم کرو، بڑا ہو۔" معین اختر

6 ستمبر 1966 میں ایک جوان لڑکے نے ا سٹیج پر پہلی بار ورائیٹی شو میں شمولیت کی۔ ارد گرد مسلسل مداخلت کرتے ہوئے بہت سے سٹوڈنٹ حاضرین تھے جو ذلت آمیز جملے کستے تھےلیکن ان کے چہرے ہر زرہ شکن نہ پڑی۔ انہوں نے بڑے حوصلے سے مائیک کی طرف قدم بڑھائے اور ناظرین سے10منٹ ان کی بات سننے کی التجا کی تاکہ وہ اپنا ٹیلنٹ دیکھا سکیں۔ اور کہا کہ اگر ان کو کام پسند نہ آیا تو وہ سٹیج سے اتر جائیں گے۔ انہوں نے پورے اعتماد سے اپنا کردار ادا کیا اور ناظرین نے دیکھا۔ اسی مجمے میں ایک 60 سال کے بزرگ ایسا ہنسے جیسا کوئی 8 سال کا بچہ ہنستا ہو۔ جب 45 منٹ کا یہ اکٹ ختم ہوا توآڈیٹوریم تالیوں تالیاں گونج اٹھیں۔ 11 مارچ 2011 میں وہ لڑکا آدمی بن گیا اور وہ اپنے کیرئیر میں عروج پر تھا،اور اپنی آخری پرفارمنس میں بھی ان کی اداکاری پر ہزاروں تالیاں گونجیں۔ وہ اس شام وہاں اپنے پرستاروں کے ساتھ رک گئے اور اس شام کو " اپنے پرستاروں کے ساتھ ایک شام" کا نام بھی ملا۔ انہوں نے حاضرین سے کہا کہ وہ صرف 10 منٹ پرفارم کریں گے لیکن ان کی پرفارمنس کے بعد حاضرین ان کے سحر میں ڈوب گئے اور مقرر مقرر کی ایسی رٹ لگائی کہ انہیں 45 منٹ رکنا پڑا۔ بار بار ایک ایسا پرفارمر جو اپنے ارد گرد کا ماحول بدل کر رکھ دے اور حاضرین کو بھی لگے کے وہ ایسا شخص ہے کہ جس کی موجودگی میں ایک عظمت ہے وہ شخص میرے  والد معین اختر تھے۔ معین اختر کا لفظی ترجمہ ہے " ایک مدد گار ستارہ" اور ان کا نام بھی ایک ثبوت ہے کہ بلکل اپنے نام کا ہی عکس ہے ان کی زندگی۔ دنیا میرے والد کو پاکستان کے عظیم آرٹسٹ کے طور پر جانتی ہے۔ لیکن میں انہیں ایک ایسے شخص کےطور پر جانتا ہوں جو ہمیشہ دینے والے رہے ہیں۔ اور اس سے بڑا اور کیا اعزاز ہو گا کہ میں انہیں ایک عظیم بے غرض اور سنجیدہ انسانیت کے مدد گار کے طور پر دیکھتا بڑا ہوا ۔ کسی ضرورت مند کی مدد کے لئے وہ خاموش مدد گار کے طور پر پیش پیش ہوتے۔ اور میں ان سب ضرورت مندوں کو پردے میں ہی رکھنا چاہوں گا جن کے وہ مدد گار تھے ۔ لیکن اتنا ضرور بتانا چاہوںگا کہ وہ خود کو کسی کی جگہ رکھ کے ان کا دکھ سمجھنے کے ماہر تھے۔ اور ان کی مدد کرنے میں اپنا پورا کردار ادا کرتے تھے۔ اور ان کو الفاظ میں بیان کرنا ان کی شخصیت کے ساتھ ذیادتی ہو گی کیوں کہ ان کی عظمت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔معین اختر ایک بے مثال ادا کار ایک اعلیٰ ظرف کے مالک، بہت سوشل، ملن سار اور دلچسپ شخصیت کے مالک تھے۔ انتہائی پر سکون، عاجز، تنہائی پسند خاموش طبیعت اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر دل
سے خوش ہونے والے شخص تھے۔ مجھے آج بھی وہ افراتفری یاد ہے جو شاید ایک سادا انسان سےایک سٹار میں بدلنے وقت ہمارے گھر میں برپا ہو جاتی؛ جب بھی وہ گھر سے جانے لگتے ہنگامہ سا مچ جاتا ۔ ان کا بات کرنا چلنا ہر چیز بدل جاتی۔ وہ سوٹ نہیں پہنے جا سکتے تھے جو موزوں اور جوتوں سے نہ ملتے ہوں۔ اور جب آخر کار تیار ہو کر وہ گھر سے نکل جاتے تو وہ ابو کے بجائے صرف معین اختر کے روپ میں ہوتے۔ میرا کمرہ ان کے کمرے کے ساتھ والا تھا اور میں یہ سب ہوتے دیکھتا کہ کیسے وہ ابو سے معین اختر بنا کرتے تھے۔ یعنی جیسے سٹیج پر وہ سب کی توجہ حاصل کرتے ویسے ہی گھر پر سب کی توجہ تیاری کے دوران ان پر مرکوز ہوتی ۔ ہمیں جب بھی کوئی اجنبی دنیا کے نئے نئے کونوں سے آکر یہ کہتا کہ معین اختر سے ملنے کے بعد کیسے ان کی ساری زندگی ہی بدل گئی تو ہم خوشی اور فخر سے پھولے نہ سماتے۔ میں ان کا بیٹا ہونے کے اتےان کی عظمت کا سب سے پہلا اور قریب ترین گواہ ہوں ۔ ان کی خوشبو ہمارے گھر سے مدہم ہوتی گئی لیکن ان کی ہنسی آج بھی دکھی لمحوں میں ہمیں ہنسا جاتی ہے۔ ان کی طرح عروج پانے کے لیے بہت محنت، ہمت اور قربانیاں دینی پرتی ہیں۔ اور میرے والد ان سب مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ان بلندیوں تک پہنچے ۔ میرے دادا محمد ابراہیم نے ایک دفعہ میرے والد کو اس بات پر مارا تھا کہ انہوں نے اداکاری کا شعبہ کیوں چنا۔ یہ اس وقت عام بات تھی کہ اس شعبے کو برا سمجھا جاتا تھا۔ 35 سال بعد جب میرے والد ایک شو کے لیے تیار ہو رہے تھے جس میں ملک کے پریزیڈنٹ جناب پرویز مشرف نے آنا تھا تو میرے دادا نے پوچھا کہ کیا وہ بھی جا سکتے ہیں اس شو میں۔ میرے والد نے جواب دیا کہ یہ ایک بہت نازک موقع ہے پریزڈنٹ کی آمد کے لیے سخت سیکیوریٹی کا انتظام ہے اور میں نہیں جانتا کہ یہ میرے لیے ممکن ہو گا کہ نہیں۔ کیوں کہ سیکیورٹی والوں کو آنے والوں کا ایک دو ہفتے پہلے بتانا پرتا ہے۔ میرے دادا نے کہا کہ " تمہیں کون روک سکتا ہے؟" یوں میرے والد اپنے والد کو شو مین لے گئے اور میں بتا نہیں سکتا کہ اس لمحے میرے دادا کو کیا محسوس ہوا ہو گا جب پریزیڈنٹ خود کھڑے ہو کر ان سے ملے اور انہیں کہا :" آپ کا بیٹا اس قوم کے لیے ایک عظیم اثاثہ ہیں۔" جب مجھے یہ بلاگ لکھنے کا پوچھا گیا تو میں نے سب سے پہلے ان کا اپنے ساتھ رشتہ کھوجنے کی کوشش کی۔ اور مجھے سوچنے پر معلوم ہوا کہ میں جب بھی ہنستا ہوں میں ان کے ساتھ اپنا تعلق ہی بیان کرتا ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ لوگوں کی مسکراہٹوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ اور میرے لیے وہ ایک عظیم والد اور انسانیت سے
بھرپور انسان تھے جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا

source : https://www.dawn.com/news/1177421/moin-akhtar-my-father

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *