سعودی خواتین میک اپ پر اتنا کیوں خرچ کرتی ہیں؟

آیہ بٹرواوی

سعودی عرب میں کھلنے والی سپر سٹار ریحانہ کی میک اپ لائن کے افتتاح میں شہاد القحطانی کی دلچسپی کی وجہ سبز اور سرخ لپسٹک اور فاونڈیشن کے شیڈ میں سے انتخاب کا موقع تھا۔ ریحانہ جو کہ اپنے بولڈ سٹائل اور شاندار گانوں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں اپنے فینٹی نامی میک اپ لائن کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں ان کے میک اپ لائن کی وجہ سے سعودی خواتین میں بھی وہ بہت مقبول ہیں۔ ریحانہ اور دوسری اداکارائیں جن میں کم کاردیش بہت مقبول ہیں نے ہمیشہ اپنے بالوں کے رنگ کے معاملے میں نئے تجربات کے ذریعے اپنی خاص پہچان بنائی ہے اور ان کے میک اپ اور لباس کے نام
سعودی عرب کے ہر گھر میں سنے جاتے ہیں ۔ ان کے مداح انسٹا گرام اور سنیپ چیٹ پر ان کی ہر حرکت پر نظر رکھتے ہیں ۔ان کا لباس کا سٹائل سعودی عرب کی خواتین کے سٹائل کے بلکل بر عکس ہے۔ بہت سی عورتیں اپنے چہرے اور بالوں کو نقاب سے چھپاتی ہیں۔ سعودی عرب کی عورتوں کو باہر نکلنے سے قبل لازما لمبے ڈھیلے عبائے پہننے پڑتے ہیں۔ القحطانی نے اس ملک میں بکنے والی ریحانہ کے برینڈ فینٹی کی اشیاٰء جو جمعرات کوسیفورا میک اپ سٹور میں لانچ ہوئی تھیں پر نظر ڈالتے ہوئے کہا: " میں نے دبئی میں ان کا برینڈ پہنا اور میں یہاں وہ اشیاء خریدنے آئی تھی جو یہاں ہی بکتی ہیں،" القحطانی نے کہا کہ انہیں ریحانہ کے سٹائل پارٹیوں میں اور شادیوں میں جہاں پردوں کا انتظام الگ ہو وہاں آزمانا اچھا لگتا ہے ۔ حتیٰ کے زیادہ تر خواتین نے اپنے چہرے اور بال ڈھکے ہوتے ہیں لیکن میک اپ سعودی خواتین کا اولین خرچہ ہوتا ہے۔ ایسا اب ذیادہ اس لیے ہوتا ہے کہ بہت سی خواتین اب اپنا کام کرتی ہیں اور ان کی خود کی تنخواہ سے وہ یہ سب کر پاتی ہیں۔ 32 سالہ شہزادے محمد بن سلمان کے ریفارمرز کے نتیجہ میں بھی بہت مثبت
اثرات سامنے آئے ہیں مثال کے طور پر اب پولیس ان مالز میں نیل پالش یا بے نقاب عورتوں کی تلاش میں گشت نہیں کرتی۔ مغربی ممالک کے بر عکس جہاں اب ایسے میک اپ کا ٹرنڈ ہوتا جا رہا ہے جو بلکل فطری نظر آئے وہاں عرب کی خواتین گہرے شوخ رنگوں کا آئی میک اپ کر رہی ہیں اور اس
وجہ سے کالے نقابوں کا یا ابایوں کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔ نجلا سلطان بن اواد جو 30 سال میں دو بچوں کی والدہ تھیں اور ابھی پچھلے سال ہی انہوں نے سیفرون میں کام کرنا شروع کیا انہوں نے سموکی آئی شیڈز والی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے نقاب کی اوٹ سے کہا:" ایک گلف خاتون ہونے کے ناتے ہمیں
خوبصورتی سے پیار ہے۔ اور ہمیں صرف خاص موقع پر ہی اس کی ضرورت نہیں۔ ہم اس دور میں ہیں جہا ں عورتیں نقلی آئی لیشز کے بغیر گھر سے نہیں نکلتیں۔ اور ہم نے گلف میں شروعات کی اور آپ دیکھیں گی کہ عورتوں نے اپنے چہرے رنگ برنگی کونٹیکٹ لینزز، آئی لیشز، اور آئی لائینر سے ڈھکے ہوئے ہیں جو وہ اپنے انداز سے لگاتی ہیں۔ " انہوں نے بتایا کہ سیفوراہ میں کام کرنے سے پہلے وہ اپنی ساری پاکٹ منی میک اپ پر خرچ کیا کرتی تھیں۔ اور انہوں نے ہنستے ہوئے بتایا کہ،" مجھے میرے شوہر نے کام کرنے کی ایجازت اس لیے دی کہ انہوں نے دیکھا کہ میں میک اپسے کتنا لگاؑ رکھتی ہوں اور اس پر کتنا خرچ کرتی ہوں۔ " مارکٹنگ ریسرچ گروپ یورومونیٹر انٹرنیشنل ریپورٹر کے مطابق، نوکری کرنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ خاص طور پر خواتین کے میک اپ اور بیوٹی پروڈکٹس آفورڈ کرنے کی قابلیت میں اضافہ سے ملکی معیشت بہتر ہوئی ہے اور خریدار کو ان
پروڈکٹس کو خریدنے کا حوصلہ دیا ہے۔ سعودی عرب میں میک اپ قیمتوں پر2012 میں 410 ملین ڈالر سے اب تک 576 ملین ڈالر تک اضافہ ہوا ہے2012میں بادشاہ عبدللہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ خواتین کو میک اپ اور لینگری کی دکانوں پر کام کرنے دیا جائے۔ اس سے ہزاروں خواتین کے لیے کام کرنے کا راستہ ہموار ہوا۔ سعودی پبلک نے اس فیصلے کو سراہا، لیکن بے حد قدامت پرست مذہبی لوگوں نے تنقید کی اور کہا کہ عورتوں کو کام کرنے کی اجازت دینے سے بے حیائی اور فحاشی بڑھیں گے۔ پہلے خواتین کو میک اپ اورلنگریز جیسی نہایت ذاتی اشیاٰء مزدور مردوں سے خریدنی پڑتی تھیں۔ اس طرح خواتین کو نہایت مشکل صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ مثال کے طور پر کوئی آئی شیڈ اپنے چہرے پر لگا کر دیکھنے کے لیے نقاب ہٹانا یا کسی فاؑنڈیشن چیک کرنے کے لیے ایسا کرنا ایسے اسلامی اور مزہبی ریاست میں ایک انہونی بات تھی۔ اور کسی مرد سے بریزیر کے صحیح سائیز کی بریزیر طلب کرنا کوئی آسان بات نہیں تھی۔ ہائیفہ الوتھلن جنہوں نے ایجازت نامہ ملتے ہی ایک کپڑوں اور میک اپ کی دکان پر کام کرنا شروع کیا کہنے لگیں:" ہمیں کبھی آسانی محسوس نہ ہوتی ۔ کسی غیر مرد سے اپنے اوپر اچھا لگنے والا میک اپ طلب کرنا آسان بات نہیں تھی اور اس کا میرے ہاتھ یا منہ پر چیک کرنا تو ناممکن تھا۔ اور کام کرنے سے اور مختلف لوگوں سے ڈیل کرنے سے میں نے اپنے غصے پر بھی قابو پانا سیکھا۔ " انہوں نے کہا کہ
انہوں نے میک بیچنے کے ساتھ ساتھ اسے استعمال کرنا بھی سیکھا۔ خواتین کو کام کرنے پر حوصلہ افزائی کرنا اب بہت ضروری لگتا ہے اس سے آنے والے سالوں میں ہزاروں کاموں اور معاشی ترقی میں اضافہ ہو گا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کے لیے اور جوان نسل کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے
شہزادے محمد نے اس عوام کو انٹرٹینمنٹ اور فن پر خرش کرنے کا بڑھاوا دیا۔ انہوں نے ہی عورتوں پر گاڑی چلانے پر پابندی کو ختم کیا جس سے خواتین کا کام پر خود جانا آسا ن ہو گیا اور کسی مرد رشتے دار یا ذاتی مہنگی سواری کے انتظام میں بچت ہو گئی ۔ا ور بھی کئی تبدیلیاں آئیں جیسے پرفارمنسز، اداکاروں کے کنسرٹس ۔ یہ سب کچھ عرصہ پہلے ناممکن سا تھا۔ اس ریاست کا پہلا فیشن ویک بھی منعقد ہوا۔ سعودی عرب میں پہلا تھیٹر بھی کھولاگیا اور بلاک باسٹر فلم " بلیک پینتھر" سے آغاز ہوا۔ نئی دلچسپیوں کے باوجود ، القحطانی جو ابھی بھی کالج کی طالبہ ہیں نے کہا کہ ان کا ذیادہ پیسہ میک اپ میں خرچ ہوتا ہے اور فینٹی نے اس ماہ نئی پروڈکٹس متعارف کروائی ہیں ۔ انہوں نے کہا:" مجھے فاؤنڈیشن بہت پسند ہے لیکن ظاہر ہے
یہ روز ممکن نہیں۔ مجھے یہ لال اور یہ سب لپسٹکس کے رنگ بھی پسند ہیں۔ اور یہ ہائی لائیٹرز تو بہت اچھے ہیں۔ یہ برشز اچھے ہیں لیکن بہترین نہیں ہیں۔ "

source : https://www.dawn.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *