عمران خان کے کتے

عمران خان یا اس کی سیاست سے کسی کو لاکھ اختلاف سہی مگر ایک بات ماننی پڑے گی کہ انہیں کتوں سے جنون کی حد تک عشق ہے ۔
خان صاحب کا کتے پالنے کا شوق کتنا پرانا ہے کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتااس حوالے سے حتمی طور پر یا تو خان صاحب خود بتا سکتےہیں یا پھر ان کا کوئی کتا ہی اس راز سے پردہ اٹھا سکتا ہے جس کا خان صاحب سے ابتدائی دنوں کا ساتھ ہو۔ہاں البتہ خان صاحب کی اب تک کی زندگی کو دیکھ کر یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ خان صاحب اپنے پالتوکتوں کی محبت میں اس قدر جذباتی ہیں کہ
وہ ان کی خاطرکوئی بھی قربانی دے سکتے ہیں اورکسی کی بھی قربانی کے سکتے ہیں ۔یار لوگ ماضی قریب میں اس کی تازہ ترین مثال خان صاحب کی سابقہ بیگم ریحام خان کی دیتے ہیں۔
یہ بات خاص طور پر اس لئے بھی حیران کن ہے کیونکہ ہمارے ہاں ایک مختلف کلچر ہے جس میں لوگ اپنی بیوی کی خوشنودی کے لئے رشتہ داروں بہن بھائیوں اور ماں باپ تک کو چھوڑ دیتے ہیں۔ایسا نہیں کہ خان صاحب بالکل ہی “گورے” بن گئے ہیں۔ایک حد تک خان صاحب نے بھی ان اقدار کی پاسداری کی جب اُنہوں نے اپنی بہنوں کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرتےہوئے بہنوں کو کے بغیر ریحام خان سے شادی رچا لی مگر پتا نہیں اس میں کیا بھید ہے کہ جب معاملہ کتوں کا آیا تو خان صاحب نے بجائے کتوں کے اپنی بیوی ریحام خان کو ہی اپنےگھر اور زندگی دونوں سے نکال باہر کیا۔
و اللہ علم باالصواب!مگر لوگوں میں یہ بات عام ہے کہ خان صاحب اور ریحام خان میں بڑا تنازعہ یہی کتے تھے وگرنہ ہمارے ہاں وہ کونسا گھر ہے جہاں میاں بیوی میں چھوٹا موٹا اختلاف نہ ہو۔
اس بات کو ایک عرصہ ہوگیا ہے مگر گلی محلوں میں لوگ بالخصوص خواتین آج بھی اس بات کا تمسخر اُڑاتی ہیں کہ “ خدا جانے دو دو ٹکے کے ان کتوں میں خان کے لئے کیا کشش ہے جن کی خاطرخان نےاپنی پڑھی لکھی ،سمجھدار اور خوبصورت بیوی کو طلاق دےدی “
بات تو سچ ہے مگر یہ سوال کرتے ہوئے خان صاحب کے اُن حمایتیوں سے ڈر لگتا ہے جو معمولی سے اختلاف رائے پر بھی کسی کو ماں بہن کی گالیاں دینے میں “یدِ طولیٰ”رکھتے ہیں۔

Image result for imran khan with dog
جبکہ دوسری طرف خان صاحب کی ترجیحات کا یہ عالم ہے کہ پچھلے دنوں ندیم افضل چن کے ساتھ ایک جلسے میں خان صاحب اپنے موٹو نامی کسی کتے کی اپنے ساتھ وفاداری کا ذکر بڑے فخر سےکررہے تھے۔اُس وقت مجھے شدید حیرت ہوئی کہ جلسے میں اس موقع پر جب ندیم افضل چن تحریک انصاف میں باقاعدہ اپنی شمولیت کا اعلان کررہے تھے ہزاروں کارکنوں کے مجمعے میں وہ اپنے کتے کی وفاداری کی مثال دے کر کتے کی عزت افزائی کررہے تھے یا جلسے میں شریک اپنے کارکنوں اور ندیم افضل چن کی توہین کر رہے تھے۔حالانکہ خان صاحب کی اصل طاقت ان کے یہی کارکن ہیں جو خان صاحب کی محبت میں پاگل ہیں اور شاید خان صاحب کے مثالی وفادار کتے سے بھی زیادہ خان صاحب کے وفادار ہیں مگر پتا نہیں اس کاکیا سبب ہے کہ خان صاحب کو اپنے کتوں کی محبت میں اُن کی وفاداری کا ذکر کرنا تو یاد رہا مگر اس موقعے پروہ کارکنوں کی وفاداری اورمحبت کو خراج تحسین پیش کرنا بھول گئے۔اس پر سوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے جو عام طور پر بسوں اور ٹرکوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے
“پسند اپنی اپنی نصیب اپنا اپنا”۔
اپنی طرف سے تو میں نے یہ بات تحریک انصاف کے کارکنوں کی حمایت میں کی ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ اندر سے میں اس بات سے بھی خوفزدہ ہو ں کہ کہیں میری اس بات سے اب خان صاحب کے لاڈلے کتے میری جان کےدشمن نہ ہو جائیں ۔ویسےتو پہلے بھی میری کبھی کتوں سے نہیں بنی مگر ایک عرصے سے میں نے کتوں کے بھونکنے کی وجہ سے ان کے منہ لگنا چھوڑ دیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں کتوں سے ڈرتا ہوں ۔ہاں البتہ اس کے جواب میں موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ ضرور کہوں گا کہ
“ مجھے کتوں سے ڈر نہیں لگتا صاحب کتے کے بچوں سے ڈر لگتا ہے”
اللہ نہ کرئے یہ خبر درست ہو مگر افواہیں گردش میں ہیں کہ انہی کتوں اور ان کے بچوں کے چکر میں خان صاحب کےاپنی تازہ ترین بیگم بشریٰ بی بی سے بھی اختلاف پیدا ہو گئے ہیں۔ ایک بار پھر خان صاحب کےکتے اور اُن کی بیوی آمنے سامنے ہیں ۔اس بار بھی خان صاحب کو کسی ایک کاانتخاب کرنا ہے۔گویا خان صاحب کے لئے ایک بار پھر فیصلے کی مشکل گھڑی آن پہنچی ہے بقول شاعر
“اے غمِ زندگی کچھ تو دے مشورہ
اک طرف اُس کا گھر اک طرف میکدہ”
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بار خان صاحب کو درست فیصلہ کرنے کی توفیق دے

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *