قاسمی کا مُقدمہ اور انصاف کا ترازُو

          ساحرہ شیرازی

  عطاءُالحق قاسمی کی مُبینہ تنخواہ، مراعات اور قاسمی پر دو سال میں اُٹھنے والے اخراجات کی کہانی بھی غضب کہانی ھےجس کا شُہرہ امریکہ اور یورپ کی کارپوریٹ دُنیا میں بھی تہلکہ مچا چُکا ھے، اور پاکستان کا کارپوریٹ سیکٹر بھی انگُشت بدنداں ھے کہ " ایسی چنگاری بھی، یا رب، اپنی خاکستر میں تھی" ؟  جانے، اتنی بھاری بھر تنخواہ کے ڈنکے بجنے سے قاسمی کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ھُؤا یا نہیں، لیکن اُن کے حاسدوں اور رقیبان رُو سیاہ کے پیٹ میں مروڑ ضُرُور اُٹھے ھوں گے، اور شاید کُچھ ماہ جبینوں کی رال بھی ٹپکی ھو۔
بات یُوں ھے کہ وزارت کے مدارُالمہام نے قاسمی کی تنخواہ تو شاید پندرہ لاکھ روپے ماھانہ بتائی ھے، اور ستائیس کروڑ روپے کی باقی رقم کو نام نہاد بالائی آمدنی کے خانے میں ڈالنے کی کوشش کی ھے۔ نیت کا حال ، صرف اللہ ھی جانتا ھے۔ تاھم، اُن کے (تضادات سے بھرے) بیانات سے تاثر کُچھ ایسا ھی اُبھرا ھے۔

سوال پیدا ھوتا ھے کہ پی ٹی وی کے چئیرمین کی اتنی خطیر تنخواہ کیوں ؟ اور کس قاعدے، قانُون کے تحت ؟
آئیں، قاعدے اور قانُون کی روشنی میں ھی اس کا جائزہ لیتے ھیں :
پہلی بات تو یہ ھے کہ کسی قانُون میں یہ صراحت نہیں کی گئی کہ اگر کسی شخص کو حکُومت پی ٹی وی کا چئیرمین مُقرر کرے تو وہ شخص تنخواہ نہیں لے گا اور بلا مُعاوضہ خدمات انجام دے گا۔ سرکاری شُعبے کی کمپنیوں کے کارپوریٹ گورنینس رُولز کا قاعدہ نمبر اُنّیس (19) ڈائریکٹرز کی مالی مراعات (Remuneration) سے مُتعلق ھے۔ یہ بات اظہر من الشمس ھے کہ ڈائریکٹرز میں چئیرمین اور مینجنگ ڈائریکٹر بھی شامل ھوتے ھیں۔ قاعدہ نمبر اُنّیس (19) کی ذیلی شق نمبر دو (sub-rule 2) میں کہا گیا ھے کہ :
"مالی مراعات کی سطح اس حد تک کافی ھونی چاھئے کہ وہ سطح، کمپنی کو کامیابی کے ساتھ چلانے کی خاطر،  ڈائریکٹرز کے لئے کشش اور اس کمپنی کے ساتھ وابستہ رھنے کا باعث ھو"
("Levels of remuneration shall be sufficient to attract and retain the directors needed to run the company successfully.")
عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ پی ٹی وی کے چئیرمین کا عُہدہ اعزازی ھے، اور چئیرمین کو صرف اُسی روز کا اعزازیہ ملنا چاھئے جس روز وہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرے۔ یہ تاثر قطعی غلط ھے۔ اس مُعاملے کا جائزہ لیتے ھُوئے  مُستقل، ریگُولر، کُل وقتی چئیرمین اور ایکس آفیشیئو چئیرمین کے درمیان فرق کو ملحُوظ رکھا جانا چاھئے۔ آیئے، یہ بھی جائزہ لیتے ھیں کہ قاعدہ، قانُون کیا کہتا ھے۔                               پاکستان ٹیلیوژن کارپوریشن کے آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن کے آرٹیکل ستاسی (Article 87) میں کہا گیا ھے کہ " کسی بھی ڈائریکٹر کو، جو چئیرمین کے عُہدے سمیت کسی ایگزیکٹو عُہدے پر تعینات کیا گیا ھو، یا وہ کسی کمیٹی میں خدمات انجام دے رھا ھو، یا وہ کمپنی کے بزنس پر خُصُوصی توجہ دینے پر تعینات ھو، یا وہ اضافی خدمات انجام دے رھا ھو جو بورڈ کی رائے میں ایک ڈائریکٹر کے معمُول کے فرائض کے دائرے سے باھر ھوں، تو اُسے تنخواہ، فیس اور الاؤنسز وغیرہ کی صُورت میں ایسی اضافی مالی مراعات دی جا سکتی ھیں، جن کا تعین، ڈائریکٹرز وقتا" فوقتا" کریں"
(Article:87: "Any Director appointed to any executive office including for the purpose of this Article the Office of Chairman or to serve in any Committee or to devote special attention to the business of the Company or who otherwise perform extra services, which in the opinion of the Board are outside the scope of the ordinary duties of a Director, may be paid such extra remuneration by way of salary, fees, allowances or otherwise as shall from time to time be determined by the Directors ".
عطاءُالحق قاسمی کی تنخواہ اور مراعات کا جائزہ لیتے ھُوئے،ماضی اور حال میں،  پی ٹی وی کے مُختلف عُہدوں پر تعینات افراد کی تنخواھوں اور مراعات کو بھی ملحُوظ رکھا جانا چاھئے۔ ان میں سابق مینجنگ ڈائریکٹرز، مُحمد مالک، یُوسُف بیگ مرزا، ارشد خان اور ڈاکٹر شاھد مسعُود کے علاوہ اویس توحید اورامین اختر وغیرہ شامل ھیں۔ اطلاعات کے مُطابق، حال ھی میں،  کمرشیل آفیسر امین اختر کو پندرہ لاکھ روپے ماھانہ کا پیکیج دیا گیا ھے اور یہ پیکیج، قائمُقام ایم ڈی نے، ضابطے کی کسی کارروائی کے بغیر، شاھانہ انداز میں عطا فرمایا ھے۔ کیا سُپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان ، عصر حاضر کے اس خانخاناں کی ایسی فراخدلانہ بخشیش کا نوٹس لینا پسند فرمائیں گے۔ اک از خُود نوٹس اور سہی!
عطاءُالحق قاسمی پر ھونے والے اخراجات میں، مُبینہ طور پر، اُن کے سٹاف کی تنخواھیں، الاؤنسز اور اوور ٹائم بھی شامل کیا گیا ھے۔ ایک پروگرام "کھوئے ھُوؤں کی جُستجُو" کا تمام، بلا واسطہ اور بالواسطہ، خرچہ بھی قاسمی پر ڈالا گیا ھے، جس میں پروگرام کے پروموز (Promos) کی لاگت کا حساب پرائم ٹائم کمرشل کے نرخوں کی بُنیاد پر کیا گیا ھے۔ یا للعجب ! ایسا حساب تو کسی سُود خور بنیئے نے بھی نہ کیا ھو گا۔ اگر حساب کتاب کی بُنیاد یہی اُصول ھے تو پی ٹی وی کے ھر پروڈیوسر، اداکار، اداکارہ اور اینکر کے ذمے کروڑوں روپے نکلیں گے۔ سوال یہ بھی ھے کہ کیا اس سے پہلے، پاکستان ٹیلیوژن کے پُوری تاریخ میں کسی ایک پروگرام کا خرچہ اس طرح کے حساب کتاب سے نکالا گیا ھے؟ اب تک پی ٹی وی میں اندرونی اور بیرُونی آڈٹ کیسے ھوتا رھا ھے ؟ لگتا ھے کہ براڈکاسٹنگ اور آڈٹ کے طریق کار کی نئی تاریخ رقم ھونے جا رھی ھے۔ اب، ایک کمپنی ان اخراجات کا آڈٹ کر رھی ھے جسے شاید بارہ لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ یہ بات سراسر منطقی ھو گی کہ قاسمی کا جُرم ثابت ھونے پر یہ مالی بوجھ خزانہ ء عامرہ پر نہ ڈالا جائے۔ سو، مُمکن ھے کہ یہ بارہ لاکھ روپے بھی بالآخر قاسمی کو، یکمُشت یا قسطوں میں، ادا کرنا ھوں گے۔ سادہ سا سوال یہ ھے کہ جب عطاءُالحق قاسمی نے یہ لُوٹ مار مچا رکھی تھی تو اُس وقت پری آڈٹ اور انٹرنل آڈٹ کے شُعبے اور ایم ڈی کا اضافی چارج سنبھالنے والے تاتاری کیا بھنگ پی کر سو رھے تھے؟ یا وہ سپورٹس کے سودوں میں اپنا کمیشن بٹورنے میں مگن تھے؟ نجانے، یہ مُعما از خُود نوٹس کے دائرے میں آتا ھے یا نہیں ؟
آخر میں استدعا ھے کہ عطاءُالحق قاسمی کا  کوئی جُرم ثابت ھو یا نہ ھو، قاسمی کو عبرت ناک سزا ضُرُور دی جائے تاکہ آئیندہ کوئی پڑھا لکھا شخص، کوئی ادیب، شاعر یا دانشور پی ٹی وی کا رُخ نہ کر سکے، اور بیوروکریسی کے کسی گوھر تابدار سے متھا لگانے کی جُرآت کسی کو نہ ھو۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *