پشتون تحریک عزت و وقار کی بحالی چاہتی ہے

ریحام خان

جنوری مین جب مین نے ایک مشہور اداکارہ کے نسلی تعصب کا شکار ہونے کے بارے مین لکھا تھا تب میں نے سوچا نہیں تھا کہ ان کی وفات پشتون کی بھرپور عوامی تحریک کا باعث بنے گی ۔ ہم میں ہر کوئی اس نسلی تعصب کے خلاف کئی سالوں سے انفرادی طور پر لڑ رہا ہے۔ PTM پشتون تحفظ تحریک کے تین بڑے لیڈران میں سے ایک محسن ڈاور ہیں جو باچا خان کے پرستار وکیل ہیں اور باچا خان کی پسندیدہ اقدار یعنی عدم تشدد، اور تعلیم کو لڑائی جھگڑے اور دہشت پر ترجیح دیتے ہیں۔ 2014 میں آپریشن ضرب عضب میں میں نے محسن کے ساتھ مل کر 950 بچوں کے سکول کے سال بچانے کا کام کیا ۔ اور بنوں میں گم شدہ بچوں کی تعداد بڑھ کر 86000 ہو گئی ۔ گورنمنٹ کے باربار ناکام ہو جانے اور روز ان بے یارو مدد گار لوگوں کو دیکھنے پر محسن کو اتنا حوصلہ پست کیا کہ انہوں نے مجھ سے الگ ہو جانے کا فیصلہ کیا۔ مین نے انہیں رکنے اور لڑنے پر آمادہ کیا ۔ وہ پھر سے دل لگا کر سیاسی راہوں پر گامزن ہو گئے جس پر وہ شاگردی کے زمانے سے تھے۔ آخری تین سالوں میں محسن نے میری خواتین کے لیے گھریلو تشدد اور سرپرستی کے مسائل پر قانونی مشوروں کے ادارے کی بنیاد رکھنے میں مدد کی۔ 3 فروری کو میں نے ذاتی طور پر PTM کے سٹیج پر اسلام آباد میں بلکل منتظمین کے معقول مطالبات کے مطابق حمایت کے لیے شمولیت کی۔ ان کا مطالبہ تھا کی ان کو پوری طرح پاکستانی شہری کی شناخت دی جائے اور پشتون کی صورت میں میلیٹنٹس کا نام دے کر نفرت یا شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔ نوجوانوں کو غیرملکی ایجنٹ کہا گیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان پر حملہ کیا گیا۔ چار ماہ بعد یہ مسئلہ اتنا بڑھ گیا کہ آرمی چیف نے اسے بے انصاف نسلی جنگ کا نام دے دیا۔ یہ بیان متضاد تھا کیوں کہ جنگ اپنے دشمنوں کے ساتھ انصاف سے چلنے سے نہیں جیتی جاتی۔ PTM’s کا مطالبہ بلکل غلط نہیں تھا۔ یہ ایک علیحدگی کی تحریک تو نہیں تھی۔ اور اس میں پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ پر حملوں کا خدشا بھی نہیں تھا۔ نہ ہی پبلک ٹرانسپورٹ کو جلایا گیا تھا اور نہ ہی کاروباری مراکز کو آگ لگائی گئی ۔ یہ ایک پر امن احتجاج تھا جو قوموں کو متحد کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ اتوار کے دن لاہور کے احتجاج نے مختلف علاقائی اور نسلی انسانیت کو ایک
ساتھ اکٹھا کیا۔ اکثر پاکستان کے نظریے کے بارے میں اٹھتے سوال کا اور اس سے ذیادہ خوبصورتی سے کیاجواب دیا جا سکتا ہے ؟ پشتون کو جو نامی گرامی میڈیا پر خواتین کے ساتھ زبردستی کرنے والے بتایا گیا انہوں نے دکھایا کہ کیسے عورتیں احتجاج میں نہ صرف حصہ لے سکتی ہیں بلکہ ان کے ساتھ عزت سے کیسے پیش آیا جاتا ہے۔ بہت سی خواتیین رپورٹرز اور کمینٹیٹرز حیران تھیں۔ جوان آدمیوں نے ایک ساتھ اکٹھے خواتین سپیکرز کے ساتھ سٹیج پر حصہ لیا کیسے عصمت جہاں نے اور برقہ پہنی متاثرین خواتین نے اپنے ذاتی تجربات بتائے۔ یہ پاکستان کے سیاسی جلسوں کے بلکل برعکس ہے۔ تو ہم اپنے انتہا پسند رویے کو کیوں تقویت پہنچا رہے ہیں جب ہم فائیننشل ایکشن ٹاسک فورس کے مطابق گرے لسٹڈ ہیں۔ ہم آرمی آفسران کی وڈیوز کیوں دیکھ رہے ہیں جو ان لوگوں کو پیسے بانٹ رہے ہیں ان لوگوں کو جو دارلحکومت میں بیٹھے نفرت اور گالیاں بانٹ رہے ہیں؟ کیوں میڈیا کو ایک پر امن احتجاج دکھانے سے منع کیا جا رہا ہے۔ کچھ لوگوں کو شک تھا کہ یہ عرب سپرنگ کے جیسے انتشار پیدا کرنے اور گورنمنٹ کو گرانے کے لئے بنایا گیا ہے، لیکن اگر ایسا ہوتا تو 2014 میں 126 دن کا آذادی دھرنا ریڈ زون میں کرنے کی اجازت نہ ہوتی۔ اگر میں نارتھ وزیرستان آپریشن میں اپنی آنکھون سے تباہی نہ دیکھ لیتی تو مجھے بھی منظور مشتین کی تقریر کے پیچھے مقصد پر شک کرتی۔ میں نے برقعہ پہنے عورت کو از خود گھنٹوں شدید گرمی میں شناخت کی پہچان کے لیے لائن میں کھڑے دیکھا اور پھر اس کے ساتھ بد سلوکی سے پیش آیا گیا۔ اگر یہ دیکھ کر کہ کیسے پشتون کے لوگوں کا وقار تار تار کیا جاتا ہے میں دکھی ہو گئی تو سوچیں اسے کیسا لگتا ہو گا جس نے اپنا گھر ، بیٹا، گھر بار اور آذادی کھو دی۔ کیا غم ذدہ دکھ اور غصے سے بھرے انسان کو اس نعرے کے لیے معاف نہیں کیا جا سکتا کہ :" یہ جو دیشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔ " یہ نعرہ ضیاء الحق کے
دور میں لاہور میں لگایا جاتا تھا۔ حکام نے گٹر کا پانی پھیلا کر اتوار کے دن احتجاج کو روکنے کی کوشش کی ۔ کیا یہ کمزوری کی علامت نہیں کہ ہماری سٹیٹ تنقید برداشت نہیں کر سکتی؟ ایسا تب کرین جب انٹیلیجنس کے پاس ٹھوس ثبوت ہو جو یہ ثابت کرے کہ PTM اس اسٹیٹ کے لیے دشمنی کا نقطہ نظر رکھتی ہے۔؟ کیا یہ ٹھیک نہیں کہ دکھ کو سن کر اس کے خلاف احتجاج کیا جائے اور پھر مسائل دور کیے جائیں؟ چلیں یہ باغی پن اچھی حکمرانی سے بے اثر کریں۔ بہت سے معاملات کا آسان حل ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے ہم اپنے لیے خود ہی معاملات کو بڑھا لیتے ہیں۔ اس لیے یہ معمہ کوئی حل نہیں کر سکتا۔

source : https://theprint.in/opinion/the-pashtun-movement-is-seeking-separation-it-is-a-fight-for-dignity/52086/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *