اک ذرا ملیشیا تک( 3)

اعلان سنتے ہی میں نے ایک مرتبہ پھر حسن الیاس صاحب کی ہدایات سنیں۔ یہ میرے پاس محفوظ تھیں ۔ ساتھ ہی مجھے استاد محترم کی فون کال یاد آئی ۔ انھوں نے آج صبح ملیشیا ے کال کی تھی ۔ پیشگی خوش آمدید کہتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہم آپ کی آمد سے پہلے ہی ائرپورٹ پر موجود ہوں گے۔جہاز سے اترتے ہی میں نے موبائل پر وائی فائی آن کیا ۔ یہ آٹو پر تھا۔ کال کی تو حسن بولے کہ ہم آپ کے منتظر ہیں ۔ ائر پورٹ پر اترتے ہی یوں لگا کہ کہ میں کسی ہالی وڈ کی فلم کا حصہ بن گیا ہوں ۔ اور مووی بھی سائنس فکشن۔ چند قدم چلنے کے بعد میں ایک ٹرین کو دیکھ رہا تھا۔ جی ہاں ایر پورٹ کے اندر ٹیوب ٹرین۔وہ ہمیں ائر پورٹ کے پر رونق حصے میں لے آئی ۔ یہاں کی لش پش دیدنی تھی۔یہ دراصل بین الاقوامی آمد والا حصہ تھا۔ کوالالمپور کا ہوائی اڈا دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ ارائیول (آمد )اور ڈپارٹ(روانگی) کے لیے علیحدہ علیحدہ حصے ہیں ۔ ایک گھنٹے میں کئی سو سے زیادہ پروازیں یہاں اترتی ہیں ۔ اس سے آپ یہاں مسافروں کی رونق کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ مجھے امیگرنٹ کی اس ونڈو تک پہنچنا تھا جو میری فلائیٹ کو ڈیل کرتی تھی۔ ایک بڑی سکرین پر اس کی تفصیل دی جارہی تھیں ۔ میں بہت سہولت سے مطلوبہ کاؤنٹر پر پہنچ گیا۔ خاتون نے خاصے سپاٹ لہجے میں مجھے دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیاں سکین کرنے کے لیے ایک مشین کی طرف اشارہ کیا۔ مجھے اس مرحلے کا علم تھا۔ چند سیکنڈ میں یہ کام بھی ہو گیا ۔ اس کے بعد خاتون نے کوئی سوال کیے بغیر میرے پاسپورٹ پر مہر ثبت کردی۔کامن سنس کی بات تھی کہ میں اب ’’کلیئر‘‘ تھا لیکن سوچنے لگا کہ وہ جو کہا گیا تھا کہ آپ سے پوچھا جائے گا کہ کیوں ملیشیا آئے ہیں؟ کتنے پیسے لائے ہو؟؟ وغیرہ ، مگر یہاں تو کچھ نہیں پوچھا گیا۔میں شش و پنج میں پھنس گیا اور اس کاؤنٹر سے آگے جاکر ’’ملیشیا‘‘ کی شہری سر زمین پر قدم رکھنے کے بجائے، پیچھے پلٹ آیا۔ میرے چہرے پر کنفیوژن دیکھ کر ایک اہلکار میری طرف بڑھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اب مجھے کہاں جانا ہے۔ اس نے میرا پاسپورٹ دیکھے بغیر ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ اس کمرے پر جو کچھ لکھا تھا وہ خاصا پریشان کن تھا۔ اس کے مطابق یہاں ان مسافروں کو رجوع کرنے کے لیے کہا گیا تھا جن سے امیگریشن والے مطمئن نہیں تھے۔ میں نے فوراً حسن صاحب کو فون کیا۔ انھوں نے کہا کہ عام طور پر ایسا ہوتا تو نہیں ، لیکن آپ پریشان نہ ہوں، ایک دو سوال پوچھ کر آپ کو کلیر کر دیا جائے گا۔ میں کمرے کے اندر گیا تو اکثر بنگلہ دیشی اور انڈین لوگوں کو دیکھا۔ سب پریشان حال دکھائی دیے۔ یہ مزدور طبقہ لگتا تھا۔ لائن کا بھی کوئی انتظام نہ تھا۔ عملے کا رویہ بھی خاصا خشک تھا۔ میں ایک طرف کرسی پر بیٹھ گیا، اک بدبودار قسم کے سردار صاحب میرے ساتھ آکر بیٹھ گئے۔ میں نے سردار صاحب سے پہلے ’’بدبو دار ‘‘ کی صفت بلاوجہ نہیں بیان کی۔ واقعتا ان کے بیٹھنے سے پہلے عجیب قسم کی بو مجھ تک پہنچ چکی تھی۔ انھوں نے ایک نظر میرے چہرے پر ڈالی اور فوراً ہی بے تکلف ہو گئے۔ ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں پوچھا کہ کہاں سے ؟ میں نے پاکستان اور لاہور کا نام لیا۔ انہوں نے ہاتھ آگے بڑھایا اور ٹھیٹ پنجابی لہجے میں کہا: لوجی ۔۔۔۔ میرا باپو وی لاہور وچ جمیاسی !‘‘ ( میرے والد صاحب بھی لاہور ہی میں پیدا ہوئے تھے) میں نے زبردستی مسکرانے پر اکتفا کیا کیونکہ حسن صاحب کی کال تھی، وہ یہاں کے ماحول کے بارے میں پوچھ رہے تھے، میں نے بتایا کہ یہاں تو خاصا ہجوم ہے اور متعلقہ اہلکاروں کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ انھوں نے تسلی دی کہ کوئی غیر معمولی مسئلہ نہیں۔ جیسے ہی حسن صاحب کی کال ختم ہوئی، سردار صاحب مجھ سے راہ و رسم بڑھانے کی کوشش میں لگ گئے لیکن میں ان کی بات نہیں سن رہا
تھا، اس ’’ُگر‘‘ کوجاننے کی جستجو میں تھا جس کے تحت لوگ خود سے اٹھ کر اہلکار کے پاس چلے جاتے تھے یا اہلکار کسی کا نام پکارتا تھا۔ جلد ہی میں نے جان لیا کہ پاسپورٹ ایک اہلکار کے آگے ایک چھوٹی سی باسکٹ میں ڈالے جاتے ہیں اور وہ اس میں سے کسی ’’ پسندیدہ‘‘ پاسپورٹ کا انتخاب کرتا ہے اور اس کانام پکارتا ہے۔ میں فوراً اٹھا اور اپنا پاسپورٹ اس باسکٹ میں ڈال دیا، کوئی پانچ منٹ کے بعد میرا نام پکارا گیا۔ اس دوران سردار صاحب میرے خشک رویے کے باعث خاموش ہو چکے تھے اور کسی اور سے راہ و رسم بڑھانے میں مصروف ہو گئے۔ میں لپک کر آگے بڑھا،
اہلکار نے ایک نظر پاسپورٹ پر اوردوسری نظر مجھ پر ڈالی اور کہا کہ ’’اٹ از کلیر ۔۔۔۔ وائی آر یوہیئر ؟‘‘ ساتھ ہی اس نے پاسپورٹ میرے حوالے کردیا اور میں نے تشکر آمیز نظروں سے اسے دیکھا اور باہر نکل آیا۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا۔ چنانچہ میں اسی کاؤنٹر سے آگے نکل گیا جہاں پہلے مجھے کلیر کیا گیا تھا۔ اب مجھے سامان لینا تھا۔ میری فلائیٹ کا نمبر سامنے بڑی سکرین پر آ رہا تھا اور میں متعلقہِ بِلٹ کے پاس جا کر اسے تلاش کرنے لگا۔ وہ جلد ہی مجھے مل گیا اور اگلے چند لمحوں کے بعد میں اس حصے میں آچکا تھا جہاں مسافروں کو خوش آمدید کہنے لوگ کھڑے تھے۔اب میری نظریں مہربان چہروں کی تلاش میں تھیں اور جلدہی حسن الیاس صاحب کے مسکراتے چہرے پر جا ٹکیں ۔ اور ساتھ ہی مجھے استادِ محترم نظر آئے۔ میں ان کی طرف لپکا۔ اپنی قسمت پر رشک کرنے لگا کہ کہاں میں اور کہاں اسلامی تاریخ کے جلیل القدر عالم دین ۔۔۔ وہ مجھے خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ معانقہ کیا۔ تشکر کے آنسووں کو بمشکل ر وکا۔ حسن صاحب نے مجھ سے اصرار سے سامان کی ٹرالی لے لی اور ہم لفٹ کے ذریعے سے بیسمنٹ میں پارکنگ کی طرف چل دیے۔ ملیشیا کا وقت پاکستان سے 3گھنٹے آگے ہے۔ اس لیے چھ گھنٹے کی فلائیٹ کے بعد اب یہاں صبح 7بجے کے قریب کا وقت تھا۔ بہت خوشگوار موسم تھا۔ ائیر پورٹ کے اندر بہت رونق تھی۔ لیکن باہر آکر کوئی رش محسوس نہ ہوا۔ استاد محترم نے بتایا کہ ہوائی اڈہ کوالالمپور سے خاصا باہر واقع ہے اور وہ پورے ملک کی ریلوے سے جڑا ہوا ہے، اس لیے مسافروں کی کثیر تعداد ٹرین ہی کے ذریعے سے اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہوجاتی ہے۔ ہماری گاڑی اب ایک ہائی وے پرفراٹے بھر رہی تھی۔ معلوم ہوا کہ یہاں ’’ہائے وے‘‘ ویسی ہی سڑک ہے جیسی ہماری موٹر وے۔ استاد محترم اس حوالے سے بھی بھر پور معلومات رکھتے تھے۔ فرمانے لگے کہ ملائیشیا میں 30 سے زیادہ موٹرویز ہیں جنھیں یہاں ’’ ایکسپرس ویز‘‘ کہا جاتاہے ، اور ان کا شمار جنوبی ایشیا کی بہترین سڑکوں میں ہوتا ہے۔ یہ معیار میں چین، جاپان اور جنوبی کوریا کا مقابلہ کرتی ہیں۔ تمام ایکسپریس ویز مکمل کنٹرولڈ ہیں۔ یعنی ان کا تمام انتظام اورحفاظت خود کار کیمرے اور جدید طریقے سے کی جاتی ہے ۔ چنانچہ میں دیکھ رہا تھا کہ جب بھی گاڑی کسی ٹول پلازے یا بیرئر سے گزرتی ، اسے رکنا نہیں پڑتا تھا، حسن اپنا کارڈ سامنے کرتے اور رکاوٹ خود بخود ہٹ جاتی ۔ کارڈ
کے ذریعے سے ایڈوانس میں ٹول ٹیکس ادا کیا جا سکتا ہے ۔ استادِ محترم نے یہ بھی بتایا کہ آپ کارڈ کو گاڑی کے ساتھ اس طرح سے بھی فیکس کر سکتے ہیں کہ خودبخود سکین ہو جائے اور یوں کم سے کم وقت لگتا ہے ۔ بعد کی معلومات سے معلوم ہوا کہ ملائیشیا میں موٹرویز سے 1821kmے زیادہ کا فاصلہ طے ہوتا ہے ۔ اور ملائیشیانے اپنی ترقی کا سفر انھی کی تعمیر سے شروع کیا تھا۔ اور اب بھی درجنوں موٹرویز بن رہی ہیں ۔ وہ علیحدہ بات ہے کہ ان کی تعمیر اس مہارت اور ’’انسانی ‘‘ طریقے سے ہوتی ہے کہ مسافروں اور شہریوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ میں نے بعد میں خود بھی کلان ویلی میں زیر تعمیر موٹرویز کا منظر دیکھاجہاں ہمیں نہ رکنا پڑا اور نہ کسی گرد کے طوفان کو پار کرنا پڑا۔ یہ تو بڑی سڑکوں کی تعمیر کا انتظام تھا جو کہ شہری علاقے سے باہر تھا جبکہ شہر کے اندر جس خوبصورتی سے کام کیا جاتا ہے ، اس کا حال میں آگے بیان کروں گا۔ صرف یہی نہیں ملائیشیا اپنی سرزمین کو ایشیا کی بین الاقوامی موٹرویز سے ملا رہا ہے ۔ ان روڈز کو ایشیا ہائیویز کہاجاتا ہے اور اس کے تحت  8منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں ساری موٹر ویز ’’ نا اہل ‘‘ وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں بنی ہیں۔ ان کی تعداد صرف چار ہے جبکہ مزید چار زیر تعمیر ہیں ۔ اور صرف ان کا معیار بین الاقوامی ہے ۔ موجودہ موٹرویز 1010کلومیٹر پر مشتمل ہیں ،اورجب مزید چار بن جائیں گی تو یہ فاصلہ 4700 km ہو جائے گا۔اور افسوس اس کا سہرا بھی’’ نالائق‘‘ نواز شریف ہی کے سر بندھے گا۔ جیسے ہی ہم کوالالمپو ر سے ہٹ کر دوسری ایکسپر س وے پر آئے، استاد محترم نے میری توجہ سڑک کے کنارے کھمبوں کی طرف مبذول کی جو انتہائی خوبصورت تھے اوراب ان کا ڈیزائن بدل چکا تھا۔ انھوں نے بتایاکہ ہر شہر کے بعد ان کھمبوں کا ڈایزئن بدل جاتا ہے۔ سڑک کے دونوں طرف انتہائی خوب صورت پام کے درخت اور دوسرے دل آویز پودے تھے۔ مجھے بتایا گیایہ پودے اور درخت جنگل کا حصہ تھے اور جنگل کا غیر مطلوبہ حصہ صاف کر دیا گیا ہے اور خوب صورت درخت اورسبزہ رہنے دیا گیا ہے ۔ گاڑی انتہائی شان دار سڑک پر پُر سکون طریقے سے چل رہی تھی۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میں ایک چھوٹے طیارے پر بیٹھا ہوں اور سڑک پر نہیں بلکہ ہوا میں تیر رہا ہوں۔(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *