شاہ عالم کی کوئل ( سفرنامہ 4 )


ہماری منزل ریاست سلنگور کا دارالحکومت شاہ عالم تھا۔ میرا قیام اسی شہر میں واقع ہوٹل ،’’ گرانڈ بلیو ویو‘‘ میں تھا۔ ویسے توائیر پورٹ سے شاہ عالم کا فاصلہ تقریباً 31کلومیٹر تھا لیکن یہ رش ٹائم تھا۔ ا س لیے تقریباً گھنٹا بھر لگ گیا۔ دفاتر جانے کے لیے لوگ اپنے گھروں سے نکلے ہوئے تھے۔ اگر میں ہوئی اڈے پر آدھا گھنٹا ڈبل چیکنگ میں ضائع نہ کرتا تو ہم اس ہجوم سے بچ سکتے تھے۔ تاہم مجھے اس رش سے کوئی ناگواری محسوس نہیں ہورہی تھی۔ٹر یفک بہت منظم انداز میں رواں دواں تھی۔ ٹریفک کے اژدہام کے باوجود ’’ ہارن بازی‘‘ نہ ہونے کے کے برابر تھی۔ گاڑیاں اپنی جسامت کے لحاظ سے مقررہ کردہ ٹریک میں چل رہی تھی۔ ہاں کبھی کبھی موٹر سائیکل والے ضرور بے صبری کرتے دکھائی دیے۔ ملائیشیا ، پاکستان کی طرح انگریزوں کی کالونی رہا تھا، اس لیے یہاں بھی ٹریفک کے وہی اصول و ضوابط ہیں جو پاکستان میں ہیں۔ گاڑیاں بائیں ہاتھ چلتی ہیں، موٹر سائیکل انتہائی دائیں جانب۔ ہائی وے پر ان کے لیے بالکل علیحدہ ٹریک ہے جبکہ شہری علاقوں میں وہ سڑک کے مخصوص ٹریک پر آجاتے۔ موٹر سائیکل سواروں میں عورتوں کی تعداد بھی خاصی تھی۔ کوئی بھی ہلمٹ کے بغیر نہیں تھا۔ ایک مزید چیزمیں نے یہ نوٹ کی سڑکوں کے دونوں طرف اشتہاری بورڈ نہ ہونے کے برابر ہیں، اگر ہیں بھی تو وہ سڑک سے اتنی دور کہ کسی قسم کی آندھی یا طوفان یا کسی اور وجہ سے وہ ٹوٹ کر سڑک پر نہیں آ سکتے۔ شہروں میں بھی میں نے غور کیا ،بہت کم بورڈ ہیں ، دکانوں یاعمارتوں پر بہت چھوٹے سائز کے سائن بورڈ ہیں، اکثر بورڈ عمارت کا حصہ ہیں اور وہ ’’اشتہار‘‘ نہیں، بلکہ جگہ، دکان یا سنٹر کا تعارف ہے کہ بس نام لکھ دیا گیا ہے ۔
شاہ عالم پہنچنے کے بعد پہلے ہم’احسان ‘ نامی ایک ریستوران میں ناشتہ کرنے رکے۔ آس پاس اور بھی تھے لیکن یہ پاکستانی تھا ۔ ریستوران کے باہر قرینے سے بچھی ہوئی کرسیوں پر ہم بیٹھ گئے۔ یہ کوئی تجاویزات قسم کی چیز نہ تھیں بلکہ انتظامیہ کی ہی فراہم کردہ جگہ تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں پاکستانی ذائقے کے مطابق متعدد کھانے میز پر چُن دیے گئے تھے۔ بتایا گیا کہ ’ملے ‘( ملیشین )کھانے پاکستانی ذوق کے مطابق نہیں ۔ وہ میٹھے اور تکلیف دہ حد تک سادہ ہیں ۔اس لیے ان کو کھانے کا ایڈونچر آپ بعد میں کر لیجیے گا۔
اسی دوران اس وقت خوشگوار حیرت ہوتی جب معظم صفدر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ سید منظور الحسن صاحب(مدیر اشراق ) کے ایک بزنس پروجیکٹ کودیکھتے ہیں اور ساتھ تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں ۔ ان کی رہائش یہیں قریب ہی تھی۔ حسن الیاس صاحب نے بتایا کہ اس ریستوران کا انتخاب اس لیے بھی کیا گیا ہے یہ اس ہوٹل سے پیدل راستے پر ہے یہاں میرا قیام ہے اور اگر یہ ناشتہ آپ کو پسند ہے تو آپ یہیں آسکتے ہیں۔ مجھے ناشتہ بہت پسند آیا۔ اسی لیے میں نے ہوٹل میں قیام کے دوران’احسان ‘ ہی سے ناشتہ کیا۔ بلکہ اس وقت تو بہت حیران ہوا جب اگلے دن میں یہاں پہنچا تو اس کے مالک احسان صاحب نے مجھے اپنے موبائل میں میری تصویر بھی دکھائی جو کسی ٹی وی شو سے لی گئی تھی۔ احسان صاحب نے کہا کہ یہ آپ ہی ہیں ناں۔اور پھر ان سے خاصی گپ شپ رہی۔ ناشتہ کرنے کے بعد اس پہلی بیٹھک کے قیمتی اور یادگار لمحات کو تصویروں میں محفوظ کرنے کا اہتمام کیا ۔ یہ خدمت از راہ عنایت معظم صاحب نے کی ۔ اب طے ہوا کہ ہوٹل میں آرام کرنے کے بعد عصر کے بعد آج سہ پہر کو ملائیشیا کے نئے دارالحکومت’ پتراجا یا‘ کی سیر دیکھی جائے گی۔ ہوٹل گرانڈ بلیو ویو(Grand Blue Wave )واقعی بہت نزدیک تھا۔ اس کا شمار شہر کے سرفہرست ہوٹلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ اسے فور سٹار قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ کسی طرح بھی لاہور کے پانچ سٹار ہوٹل پی سی سے کم نہیں تھا۔ تیرھویں منزل پرجب حسن مجھے چھوڑ کر گئے توکمرے سے باہر؂ کا منظردیدنی تھا۔ شاہ عالم کی جامع نیلی مسجد، سیلنگور کا شاہی عجائب گھر اور شہر کے مرکزی تھیٹر کی خوب صورت عمارتیں کھڑکی سے نظر آرہی تھیں۔ میں جب جی بھر کر انہیں دیکھ چکا اور بستر پر لیٹ کر سونے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ میری نیند سے بوجھل آنکھیں ایک آواز سن کر پوری طرح کھل گئیں!
یہ کوئل کی کوک تھی ۔ اس قدر خوبصورت ، اس قدر سریلی ، اس قدر وجد آفریں کہ میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ زمانہ طا لب علمی میں ولیم ورڈز ورتھ( William Wordsworth) کی نظم ’’ دی کوکو ‘‘ یاد آگئی۔ نظم گوگل کر کے پڑھی ۔ مگر یہ ملیشین کوئل کے شایان شان نہ لگی۔ مجھے اپنے گاؤں میں بہار کے دنوں میں کوئل کی کو ک بھی یاد آئی ۔ مگر وہ اپنا سرُا لاپنے کے بعد خوف زدہ مرغیوں کی طرح کوکتی بھی تھی ، جو مجھے پسند نہ تھی۔ مگر شاہ عالم کی اس ’لتا منگیشکر ‘ کا کوئی جواب نہ تھا۔ میرا خیال تھا شاید یہ یہاں ہی ہوگی لیکن کوالالمپور میں بھی مجھے اس کی آواز نے مسحور کیے رکھا۔بعد میں معلو م ہوا کہ ملائیشیا میں کوئل کم و بیش ہر جگہ پائی جاتی ہے ۔ کوئل کے بارے میں یہ بات شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ محبت میں توحید پرست ہے۔ مادہ ہو یا نر ، دونوں ساری زندگی ایک ہی رفیق حیات کے ساتھ بسر کرتے ہیں ۔ اسی لیے یونانی اور ھندو میتھالوجی میں اسے محبت کی دیوی بھی مانا گیا ہے ۔ اور قدرت نے اس پرندے کو جو سریلی آواز دی ہے، وہ اسی لیے ہے کہ اس کے ذریعے سے وہ اپنے ساتھی کوبلاتا ہے۔نر کوئل اپنی مادہ کو ’’خصوصی‘‘ پیغام دینا چاہتا اور اسے جلد بلانا مقصود ہو تو وہ کوکتا ہے ۔
عصر کے بعد حسن الیاس کے فون پر جاگا۔ جلدی سے تیار ہوئے ۔ پہلے ہم استادمحترم کی رہائش گاہ گلین میری گئے اور پھر وہاں سے پترا جایا کے لیے روانہ ہوئے ۔ استاد محترم بتانے لگے کہ جدید دنیا میں تین قابل ذکر دارالحکومت ایسے ہیں جنھیں خاص طور پر تعمیر کیا گیا۔ ایک پاکستان کا اسلام آباد ، دوسر�آسٹریلیا کا کینبرا اور تیسرا ملائیشیا کا پترا جایا۔ ان تینوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ،پترا جایا کا کوئی جواب نہیں ۔ واقعی یوں تو پورا شہر ہی تصویر کی مانند خوبصورت ہے لیکن بغیر ستونوں کے پل ،وزیراعظم ہاؤس اور اس کے سامنے مسجد کا کوئی جواب نہیں ۔
جب مجھے بتا یا گیا کہ پترا جایا ملائیشیا کا دارالحکومت ہے تو میرا پہلا سوال تھا کی پھر کوالالمپور کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں یہ عقدہ کھلا کہ پترا جایا وزیراعظم اور اس کی کابینہ کا سیکرٹریٹ ہے یعنی وفاقی صدر مقام جبکہ کوالالمپور قومی دارالحکومت۔ میری طرح آپ کی الجھن ا بھی برقرار ہے تو ذرا تفصیل جان لیجیے ۔ ایک سطر میں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ملائیشیا میں کم وبیش وہی سیاسی نظام ہے جو برطانیہ میں ہے ۔ یعنی اس میں آئینی بادشاہت ہے ۔ کل 13 سٹیٹس ہیں ۔ اس میں نو سٹیٹس کے سربراہان بادشاہ ہیں جو موروثی طور پر چلے آرہے ہیں ۔ باقی چار سٹیٹس کا سر براہ گورنر ہے۔ اس کا انتخاب ہوتا ہے ۔ ملائیشیا ان سٹیٹس یا ریاستوں کی یونین کا نام ہے ۔ نو ریاستوں کے بادشاہوں میں کسی ایک ریاست کا سربراہ بادشاہ ہوتا ہے ۔ کوالالمپور میں بادشاہ کا صدر دفتر ہے ۔ اس کی وہی حیثیت ہے جو ہمارے پاکستان میں صدر کی ہے ۔ ریاستوں میں ہر پانچ برسوں کے بعد الیکشن ہوتے ہیں۔ اکثریت کی بنیاد پر وزیراعظم منتخب ہوتا ہے۔ پترا جایا میں وزیراعظم اور اس کی کابینہ کے دفاتر ہیں ۔ ابھی جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں ، معلوم ہوا ہے کہ (10مئی) کو مہاتیر محمد نے 92 برس کی عمر میں ملائیشیا کے ساتویں وزیراعظم کا حلف اٹھا لیا ہے ۔ یہ بتانا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ صبح انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا ہے اور چند گھنٹوں ہی کے بعد مہاتیر نے حلف اٹھا لیا ہے ۔ ہمارے دوست حسن الیاس نے خوشی خوشی ہمیں اپنی وہ تصویر بھیجی ہے جو انھوں نے مہاتیر کے ساتھ اتروائی ہے ۔یاد رہے کہ یہ مہاتیر محمد ہی ہیں جو بائیس برس ملائیشیا کے وزیراعظم رہے اور ملیشیا کی ترقی انھی کی بے مثال قیا دت کی مرہون منت ہے۔ اگر چہ ان پر نواز شریف کی طرح کرپشن کے خوف ناک الزام ہیں لیکن عوام میں انھیں بہت پذیرائی ہے ۔ ( اس پر میں علیحدہ سے کالم لکھ رہا ہوں )
پترا جایا میں وزیراعظم ہاؤس انتہائی خوبصورت عمارت ہے ۔ ایرانی طرز پر بنا یہ گھر گلابی گنبد کے ساتھ رات کو عجیب سماں پیدا کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ مسجد میں ہم نے مغرب کی نماز پڑھی ۔ نماز میں خواتین نے بھی بھرپور شرکت کی ۔ بالکل وہی سماں تھا جو میں نے حرم میں دیکھا تھا۔ بتایا گیا کہ نماز میں کئی وزراء بھی شریک ہوتے ہیں اور کئی دفعہ وزیراعظم بھی ۔ لوگ ان سے بلا تکلف ملتے ہیں ۔ کوئی ہٹو بچو کی آواز نہیں ہوتی۔ اور اس کی تصدیق یوں ہوئی کہ یہاں میں نے جمعہ کی نماز احسن تہامی صاحب کے ساتھ ادا کی تو کئی وزراء بھی تشریف لائے ہوئے تھے اور لوگ ان سے مل رہے تھے۔مسجد کے نیچے ایک وسیع جھیل ہے ۔ جھیل کی سیر کا بھی اہتمام ہے لیکن اب شام ہو چکی تھی اس لیے اسے کسی دوسرے دن کے لیے موخر کر دیا ۔رات دس بجے تک ہم پتراجایا گھومتے رہے۔ وزراء کے دفاتر کے ساتھ ایک اور مسجد بھی دیکھی جو کہ اینٹ سیمنٹ کے بجائے سٹیل کی بنی ہوئی تھی۔ طرز تعمیر میں ملائیشیامیں اس طرح کی کئی جدتیں آپ کو ملیں گی۔رات کا کھانا پھر ایک پاکستانی ہوٹل میں کھایا۔ یہ پشاوری مٹن کڑاہی تھی۔ بہت عمدہ کھانا تھا۔ واپسی پر مجھے بتایا گیا کہ کل کوالالمپور کی سیر ہوگی اور منظورالحسن صاحب بھی ہمراہ ہوں گے۔ (جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *