سندھ میں دوسرے صوبے کی ضرورت اور خواہش

یقینناً ہردور میں کچھ نہ کچھ لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں کہ جنکی سرشت میں حقائق سے انکار ہمیشہ جاگزیں رہتا ہے اور جھوٹ و افترآء پردازی جنکے ہر مسام سے جھانکتی ہے لیکن جلتے سورج کے عین نیچے کھڑے ہو کے بھی اگر کوئی سورج کے طلوع ہی نہ ہونے کا رونا روئے تو کوئی اسے کیسے سمجھائے کیسے چپ کرائے سوائے اسکے کہ اسے کھینچتا کھدیڑتا پاگل خانے پہنچا آئے ۔۔۔!! کچھ ایسا ہی معاملہ سندھ کے قوم پرست سیاستدانوں کا بھی ہے اور ان میں بھی سب سے کٹر وہ ہیں جو خود کو وفاق پرست کہتے ہیں لیکن عملاً نرے نسل پرست ہیں‌ لیکن سامنے کی حقیقتوں‌کو جھٹلاتے ہیں ۔۔۔ انہوں‌نے 45 برسوں سے صوبہ سندھ کو دوحصوں میں تقسیم کررکھا ہے ( یعنی وہ خود یہاں دو صوبوں کی ضرورت کو درپردہ تسلیم کرتے ہیں)لیکن ستم ظریفی یہ کے کمال منافقت سے پھر خود ہی دوسرے صوبے کی ضرورت کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہیں اور اس افسوسناک مگر مضحکہ خیز صورتحال میں اپنے شدید ترین متعصبانہ اقدامات کے ہوتے ہوئے بھی اس صوبے کی من گھڑت یکجہتی و فرضٰی سالمیت کے ترانے گاتے نہیں تھکتے ۔۔۔ اس بات میں کیا مبالغہ ہے کے گزشتہ پانچ دہائیوں‌ سے پی پی پی کا سندھ میں جاری اقتدار اور اسکے متعصبانہ اقدامات کے بعد ہر نئے دن یہ ثابت ہوتا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی سے بڑھ کر کوئی دوسری قوم پرست و نسل پرست جماعت روئے زمین پہ موجود نہیں ہے ۔۔۔اور یہی وہ مائنڈ سیٹ ہے کے جس کے تحت پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیراعلٰی سندھ سید قائم علی شاہ کی بیٹی نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ سندھ میں الگ صوبے کے قیام کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں اسکی کوئی خواہش موجود نہیں ۔۔۔ انکے اس بیان سے یہ بھی بخوبی پتا چلتا ہے کہ بھنگ زدہ بیانات دینے کے لیئے خود بھنگ کا صارف ہونا ضروری نہیں ، یہ موروثی بھی ہوسکتا ہے ۔۔۔۔ ورنہ وہ ایسی لغو ، فضول اور حقائق سے یکسر برعکس بات ہرگز نہ کرتیں۔۔۔ سچ تو یہ ہے کہ صؤبہ سندھ میں ایک الگ صوبے کی جتنی ضرورت اور خواہش موجود ہے ،ملک کے باقی تین صوبوں میں تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔۔۔ کیونکہ ملک کے چاروں صوبوں یہی وہ واحد صوبہ ہے کہ جسے دیہی و شہری میں تقسیم کرکے اس کی شہری آبادی کو سرکاری ملازمتوں اور سرکاری وسائل کے لیئے یکسر اجنبی بنا ڈالا گیا ہے تاریخی حقائق کی روشنی میں اس بات میں کیا شک ہے کے صوبہء سندھ میں تو عرصہء دراز سے برسر اقتدار چلی آتی پیپلز پارٹی نے شہری علاقوں کے لیئے جس قدر بدترین نسل پرستی اور تعصب کا مظاہرہ کیا ہے اسکا تو کسی مہذب و جمہوری معاشرے میں تصؤر تک نہیں کیا جسکتا کیونکہ یہ ملک کا واحد صوبہ ہے کے جہاں 45 برس سے کوٹا سسٹم کا نسل پرستانہ نظام نافذ و رائج ہے اورجہاں تعصب کی اس ننگی لاش کو آئین کا کفن پہنا کر اسکی برہنگی اور اپنےنسل پرستانہ عیوب کی پردہ دری کا سوانگ رچایا گیا ہے ۔۔۔ اس موقع پہ مجھے مرزا غالب کا یہ شعر بے طرح یاد آرہا ہے کہ
*عؔ؂ ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی *
*میں،ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا*

*یہی وہ ننگ وجود ذہنیت ہے کے جسکے تحت صوبہ سندھ کی شہری آبادی (جو کہ اب اس صؤبے کی کم و بیش دو تہائی آبادی پہ مشتمل ہے )اسے اسکے حصے کا اعلان کردہ حصہ 40 فیصد بھی نہیں دیا جارہا بلکہ شہری کوٹے کی بیشتر نشستیں و ملازمتیں بھی سندھ کی دیہی آبادیوں ہی کے افراد کو دی جارہی ہیں‌ اور اس امر کے حصول کے لیئے متعصب صوبائی `بیورو کریسی نسلی سندھیوں کو جھٹ پٹ یہاں کا ڈومیسائل بناکے دے دیتی ہےگویا عملاً دیہی و شہری دونوں طرح کی نشستیں‌ دیہی سندھ کے لیئے وافر طور پہ بک کردی گئی ہیں اور جسے میرے اس بیان پہ ذرا بھی شک ہو تو ذرا کراچی میں واقع سندھ سیکریٹیریٹ کا چکر ہی لگا آئے اور بچشم خود دیکھ لے کہ وہاں نسلی سندھیوں کے علاوہ باقی قومیتوں کا تناسب آٹے میں نمک سے بھی کم ہے اور مزید اطمینان کرنا ہو تو اندرون سندھ کے تھانوں میں جھانک لے یا پھر وہاں کے تعلیمی اداروں و محکموں میں چلا جائے یوں اگر چت بھی میری پٹ بھی میری کے قندھے قانون کااندھا راج اگر کسی کو بھرپور شکل میں دیکھنا ہو تو بناکھٹکے صوبہء سندھ دوڑا چلا آئے - اب جہان تک بات ہے نئے صوبوں کے بننے کی تو یہ نہایت ہی بہتر انتظامی سوچ ہے اور اسے انتقامی ہرگز نظر نہیں آنا چاہیئے جیسا کے اس وقت یہ ذہنیت کارفرما نظر آرہی ہے کہ پنجاب کے تو کئی ٹکڑے کرڈالو لیکن سندھ کو ہاتھ بھی نہ لگاؤ ۔۔۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں سندھ کے دو حصے نہ بنیں جبکہ یہاں تو ڈی فیکٹو بنیادوں پہ یہ ترتیب اور نقشہ تو پہلے ہی سے موجود ہے بس ایک انتظامی نوٹیفیکیشن جاری ہونے کی کی دیر ہے اور اس کا اہتمام ذوالفقار علی بھٹو پہلے ہی کرگئے ہیں اور جب کبھی دوسرا صوبہ بنا توبلاشک و شبہ اسکے بانی کے طور پہ بھٹو ہی کا نام لیا جائے گا - ویسے تو کئی برس سے سیاسی سطح پہ ، سندھ میں دوسرا صوبہ بننے کے حق میں مختلف آوازیں وقفے وقفے سے سنائی دیتی چلی آ ہی رہی ہیں لیکن انہیں‌سنجیسگی سے اس لیئے نہیں لیا گیا کیونکہ اسکی صدائیں بلند کرنے والے خود بھی اس بابت سنجیدہ نظر نہیں آتے تھے اور عرصے سے ان علاقوں میں مسلط تنظیم ایم کیو ایم نے تو اس نعرے کو صرف سیاسی بلیک میلنگ کے لیئے ہی لگایا اور اسکو چند ذاتی مفادات بٹورنے کے لیئے وقتاً فوقتاً پریشر لیور کے طور پہ استعمال کیا لیکن اب جبکہ کئی اطراف سے نئے صوبے بننے کی آوازیں بلند ہوتی سنائی دے رہی
ہیں تو یہ نہایت مناسب وقت ہے کہ صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ ملک کے چاروں صوبوں میں انتظامی بہتری کی غرض سے یہ نیک کام کرہی ڈالا جائے اور لسانی نہیں قطعی انتظامی بنیادوں پہ نئے صوبوں ‌کی تشکیل عمل میں لے آئی جائے کیونکہ جب آزادی کے بعد کے ستر برسوں‌میں ہمارے ساتھ ہی آزاد ہونے والا ہمسایہ بھارت 13 سے 29 صوبوں میں‌تقسیم کیا جاسکتا ہے تو پھر ہمارے یہاں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا- آخر صرف صوبہ سندھ ہی میں اسے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا کے کیوں رکھ دیا گیا ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ اب اس جانب عملی پیشرفت کے لیئے زیادہ تر اسٹیک ہولڈرز اکٹھے ہوکے بیٹھیں‌ اور اس جانب یہ واضح سوچ اپنائیں کہ یہ شہری علاقے کسی خاص زبان بولنے والوں کی جاگیر ہرگز نہیں اور جو کوئی ، خواہ کسی بھی زبان کا بولنے والا ہو اگر یہاں‌رہتا بستا ہے تو یہ شہری صوبہ برابر سے اسکا بھی ہوگا- بہتر ہے کے اس جانب مختلف طبقات آبادی کو بھی اعتماد میں لیا جائے اور اب سندھ میں پہلے سے موجود شہر صوبے کو پردہء اخفاء سے نکال کے سچائی کی تیز روشنی میں لے آیا جائے ،،، کیونکہ خواہ کوئی مانے یا نہ مانے، جلد یا بدیر ایسا تو ہونا ہی ہے بہتر ہے کہ یہ احسن کام بہت بڑے بگاڑ سے پہلے اور کسی بڑی خرابی اور گڑبڑ کے بغیر ہوجائے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *