نوازشریف کے بیان کی بھارتی میڈیا نے غلط تشریح کی، ترجمان مسلم لیگ ن

وزیراعظم نواز شریف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ  بھارتی میڈیا نے بیان کی غلط تشریح کی اور بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا کے ایک حلقے نے اس کی توثیق کردی۔

حکمراں جماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا کی غلط تشریح کو بدقسمتی سے پاکستان کے الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے ایک حلقے نے ارادی یا غیرارادی طور پر نہ صرف بھارتی خبروں کی توثیق کی بلکہ بیان کے مکمل حقائق کو جانے بغیر بھارتی میڈیا کے بدترین پروپیگنڈے کو تقویت دی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن ملک کی مقبول ترین قومی سیاسی جماعت ہے اور اس کے قائد کو پاکستان کی قومی سلامتی کے تحفظ اور بہتری کے لیے اپنے عزم اورصلاحیت کے حوالے سے کسی سے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ نواز شریف وزیراعظم تھے جنھوں نے پاکستان کی تاریخ میں تمام دباو کو برداشت کرتے ہوئے مئی 1998 میں ایٹمی طاقت بنانے کا قومی سلامتی کا مشکل ترین فیصلہ کیا۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) نے انتخابی مہم میں پارٹی صدر شہباز شریف کے کردار کے حوالے سے بھی واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے بھی مسلم لیگ (ن) کے قائد کے بیان کی غلط تشریح کی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شہبازشریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے منتخب صدر ہیں اور اسی حیثیت میں پہلے سے ہی پارٹی کی انتخابی مہم میں پیش پیش ہیں اور پارٹی کے پیغام کو ملک کے کونے کونے میں پہنچا رہے ہیں۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) نے شہباز شریف کے حوالے سے مزید کہا کہ اس حوالے سے مستقبل میں ان کی ذمہ داریوں پر کوئی ابہام نہیں ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے سندھ کے علاقے میرپور خاص میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا کیونکہ وہ ایسی بیانات کیسے دے سکتے۔

قبل ازیں وزیر دفاع اور وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالنے والے خرم دستگیر نے لاہور میں وزیرداخلہ احسن اقبال کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو ان کے بیان کو من وعن پیش کیا جائے۔

خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے بھارت کے حوالے سے جوبات کی ہے وہ میڈیا پرمن وعن چلنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم پر بےجا الزامات لگائے جارہے ہیں یہی بھارت چاہتا ہے لیکن نوازشریف نے اشارہ دیا ہے کہ ہمیں اپنا گھرصاف کرنا ہے۔

وزیردفاع نے کہا کہ 4 سال میں سیکیورٹی چیلنجز پرقابو پایا ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں 90 فیصد کمی آئی ہے۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیان پر اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے اور تمام جماعتوں نے اس بیان کو پاکستان مخالف بیان قرار دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *