4.9 بلین ڈالر کی کہانی اور نیب

ہمیں نیب چئیر مین کو تالیاں بجا کر داد دینی چاہییے۔ اس کے بعد انہین میڈل سے بھی نوازنا چاہیے۔ ان کی بدولت یہ ممکن ہوا کہ بھارت کو اتنی بڑی رقم جو نواز شریف نے بھیجی وہ قوم کو واپس مل گئی۔ ہمارے ملک میں بہت عرصہ سے  بڑی احتیاط سے  اکانومک  ڈویلپ منٹ کی پیروی کرتے
ہوئے   ابھی تک  میں نے ہائی سپیشل آف اسٹیٹ  کو خود اپنا مزاق اڑواتے ہوئے نہیں دیکھا ، جیسا کہ چئیر مین  صاحب نے کیا۔  یہ مسئلہ  ہوا میں بکھرے ہوئے 24 گھنٹوں سے بھی ذیادہ وقت کے بعد  NAB بلاخر ایک وضاحت کے ساتھ   سامنے آئے کہ اس بات کا کیسے یقین کیا جائے کہ $4.9 کی ترسیل رقم کو ہندوستان  بھیجا گیا اور پاکستان  سابق پرائیم منسٹر  نوازشریف کے ساتھ منی لانڈرنگ کرتا رہا جو  مبینہ طور پر  یہ راستہ اختیار کرتے رہے  تاکہ وہ ہندوستان میں اپنے بزنس پارٹنرز کو پیسہ بھیج سکیں۔ اس طرح کی وضاحت ایک اور بار تالیوں کی گونج کی حق دار ہے: کہا جاتا ہے کہ  ڈیلی اوصاف  اخبار میں  جو کالم لکھا گیا  اس سال فروری میں،   اس کی بنیاد پر NAB  نے فیصلے کی ابتدا کی ۔ اس دوران، زیادہ تر میڈیا کے پاس   کام کا دن تھا،  ایک در سے دوسرے در اس خبر کو  پھیلانے میں لگ گئے کہ NAB نے نوازشریف کے $4.9bn کے غبن اور ہندوستان میں منی لانڈرنگ پر تفتیش شروع کر دی ہے۔  اور اس  منی لانڈرنگ کے بارے میں ٹی وی پر بار بار دکھایا گیا۔  اور پاکستان کے آفیشل
ٹویٹر اکاؤنٹ تحریک انصاف نے   خوشی سے ٹویٹ کیا اور ایسا تاثر دیا کہ جیسے کہ ایک  مسئلہ حل تو سمجھو دوسرے کی شروعات ہو گی۔ یہ ایک رزمیہ بھن بھناہٹ  ہے۔ یہ ملک چلانے والے ارباب اختیار کی طرف سے غیر ذمہ داری کی انتہا ہے۔ اس سے ملک کے اداروں کے ذہن میں جو خناس بھرا ہے وہ بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے اور ملک کی کتنی بدنامی ہوئی ہے  ۔  یہ ایسی  دنیا ہے جہاں جو کچھ ڈنر پارٹی یا وٹس آیپ پر پڑھا دیکھا جاتا ہے  فورا آگے منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اور اس سے ہماری سوچ  گوگل سرچ سے بھی زیادہ متاثر ہوتی ہے ۔  پہلے تو بات سیدھی بیان کرتے ہیں : کوئی بھی * $4.9bn** کی ترسیل رقم پاکستان سے  ہندستان نہیں بھیجی گئی۔ کیوں کہ ایک خیالی خبر  جس میں $4.9bn کی ترسیل رقم کے پاکستان سے ہندوستان میں غبن   بلکل ایک غلط فہمی کی بنیاد پر بنائی گئ ۔  یہ اعدادو شمار اندازون پر مشتمل ہیں کیوں کہ اگر ہم  ان سارے مہاجروں کے بارے میں سوچیں جو 1947 میں ہندوستان سے پاکستان واپس ہجرت کر کے آئے تھے وہ معاشی  مہاجر تھے بلکل ویسے ہی جیسے  پاکستان سے گلف یا سعودی عرب  جانے والے لوگ ہیں۔  اگر وہ  مہاجر پاکستان آنے کے بعد ملازمت کریں اور واپس اپنی فیملی کو کما کر بھیجیں   تو ان کا انکم لیول $4.9bn ہی ہو گا۔ بس یہ ہی بات ہے۔  $4.9bn کی رقم اس  ٹیبل سے اٹھائی گئی جو 2016 کی ہجرت اور ورلڈ بینک کی ویب سائیٹ سے  فیکٹ بک  میں موجود تھی ۔  ٹیبل کی ہیڈنگ پر ایک چھوٹا سا ایسٹیرک کا نشان موجود ہے  جس کے تحت صفحہ کے نیچے تفصیل لکھی ہے جس میں لکھا ہے: یہ  محض اندازہ پر مبنی اعداد و شمار ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کل رقم ایک اندازہ تھا نہ کہ حقیقی اعداد و شمار۔ اب بائیلیٹرل ریمٹنس میٹرکس پر تھوڑا غور کریں۔ یہ رقوم سٹاک، گراس نیشنل انکم، جی این آئی ، اوردوسرے اعداد وشمار کو ملا کر بنائے گئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اعداد اصل سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ جہاں تک رپورٹ کے مقصد کا تعلق ہے تو اس میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ گلوبل سطح کے لحاظ سے بھی اس رپورٹ میں دلچسپ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر 2013 سے 247 ملین سے زیادہ لوگ اپنے ملک سے دوسرے ملک ہجرت کر کے رہتے ہیں۔ یہ تعداد  2000 میں 175 ملین تھی۔ سب سے زیادہ مہاجرین امریکہ ، دوسرے نمبر پر سعودی عرب، تیسر ے پر جرمنی، چوتھے پر روس، پانچویں پر یو اے ای، پانچویں پر برطانیہ، چھٹے پر کینیڈا، اور پھر سپین اور آسٹریلیاں میں موجود ہیں۔ اگر ان اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے  تو بہت حیران کن حقائق سامنے آتے ہیں۔ ایڈوانس انڈسٹریل ممالک  مہاجرین کی میزبانی میں آگے ہیں تو دوسری طرف ترقی پذیر ممالک بہت سے ملک سے باہر کام کرنے والوں کی آماجگاہ ہیں۔ ترکی، پاکستان، لبنان، ایران، ایتھوپیا، جورڈن، کینیا ، چاڈ  اور یوگانڈا ایسے ممالک ہیں جہاں
سب سے زیادہ مہاجرین  موجود ہیں۔ یہ مہاجرین اپنے گھروں کو  601 بلین ڈالر سالانہ  رقم بھیجتے ہیں جن میں سے 441 بلین ترقی پذیر ممالک کو جاتی ہے جو کہ  ترقی پذیر دنیا کے انڈسٹریل ممالک کے ترقیاتی بجٹ کے تین گنا  سے زیادہ ہے۔  لیکن ہماری حکومت میں موجود لوگوں کے لیے اس میں دلچسپی کا کوئی سامان نہیں ہے۔ جیسا کہ چئیر مین نیب کے ایکشن سے ظاہر ہے ، ہماری دلچسپی صرف مقامی تاجروں کے لیے مسائل کھڑے کرنے میں ہے۔ ہمارے ملک میں پالیسیاں بنانے والوں کے لیے تالیاں بجانی چاہیے

source : https://www.dawn.com/news/1406785

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *