پولینڈ: 18برس بعد قیدی بےگناہ قرار

پولینڈ میں 18برسوں تک ریپ اور قتل کے جرم میں قید شخص کے اوپر عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بری کردیا گیا۔

ٹوماز کومینڈا ججز کا فیصلہ سننے کےبعد فرطِ جذبات پر قابو نہیں پاسکے اور چہرہ ہاتھوں میں دےکر رونے لگے۔

پُرانے ثبوتوں کی نظرِ ثانی کیلئے نئے فورنزک ٹیسٹ کیے گئے جس سے یہ ثابت ہواکہ 1997میں پولینڈ میں نیو ایئر ایوننگ پر ہونے والے جرائم میں وہ ملوث نہیں ہوسکتے تھے۔

ٹوماز کومینڈا ، جو اب 42برس کے ہیں، کو مارچ میں استغاثہ کی جانب سے ان کا مقدمہ نظرِثانی کرنے کے بعد قید سے رہا کیا گیا۔

قید سے رہا ہوتے وقت ٹوماز کا کہنا تھا کہ پچھلے 18برسوں سے میں خود یہ سوال پوچھ رہا تھا کہ میں نے ایسی کیا غلط چیز کی ہے جو میری زندگی جہنم بن گئی ہے؟

انہوں نے کہا کہ اس تمام مدت  میں میرے ساتھ بدترین سلوک کیا گیا۔

ٹوماز  پرجنوب مغرب پولینڈ میں 1997 کی نیو ایئر پارٹی میں  ایک نوجوان کے ریپ اور قتل کا الزام تھا۔

عدالتی دستاویزات  سے معلوم ہوا کہ لڑکی کی موت خون کی کمی اور جما دینے والے درجہ حرارت کے سبب ہوئی۔

جب پولیس کو لڑکی کا جسم ملا تھا تب انہوں نے اندازہ لگایا تھا کہ اس معاملے میں متعدد لوگ ملوث ہیں جنہوں نے بڑی تعداد میں ثبوت چھوڑ دیئے تھے جس اونی ٹوپی اور اس پر موجود بال  اور لڑکی کے جسم  نشانات ملے تھے۔

اپنے فیصلے پر روشنی ڈالتے ہوئے عدالت نے کہا کہ جدید فورنزک طریقہ کار نے ثبوتوں پر نئے طریقے سے روشنی ڈالی جس نے ٹوماز کے متعلق یہ تاثر، کہ وہ قاتل ہے کو زائل کردیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *