مجھے ذرا جلدی ہے !

کچھ لوگ ہمیشہ بڑی جلدی میں ہوتے ہیں ۔انہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ ان کے پیچھے پولیس لگی ہوئی ہے وہ بھی پنجاب کی ۔ایسے لوگ گھر میں آدھا ناشتہ کرتے ہیں ، آدھا بیچ میں چھوڑ دیتے ہیں ۔ اہل خانہ معترض ہوں تو غلط ٹائی پہنتے ہوئے فرماتے ہیں ، ’’میں ذرا جلدی میں ہوں ‘‘باہر نکلتے ہیں تو یو ں چلتے ہیں جیسے دوڑ رہے ہوں ۔ لہذا عموماََ کسی نہ کسی سے ٹکرا جاتے ہیں ۔دیسی اماں جب دیسی قسم کے چند صلواتیں سنائی دیتی ہے تو اس سے معذرت کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اماں ذرا معاف کرنا .....میں ذرا جلدی میں ہوں ‘‘
ایسے لوگوں کو ہمیشہ وہی بس یا ویگن ملتی ہے جس میں سواریاں پہلے سے اتنی ہوں کہ کھڑکیوں سے ابل ابل رہی ہوں ۔نتیجاََسوار ہونے کے بعد ان کا سارا حلیہ بگڑ جاتا ہے۔ جوتوں کی پالش اور کپڑوں کی ایسی کی تیسی ہوجاتی ہے ۔کرایہ نکالنے کے لیے یہ اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو وہ کسی دوسرے کی جیب میں چلا جاتا ہے ( نتیجہ آ پ خود اخذ کر لیں ، ماشاء اللہ سمجھدار ہیں )
بس جہاں جہاں پر رکتی ہے ان کے دل پر گویا چھریاں سی چل جاتی ہیں ۔ان کا بس نہیں چلتا ورنہ اڑ کر پہنچ جائیں ۔ خیر مطلوبہ دفتر پہنچتے ہیں تو معلو م ہو تا ہے کہ جو فائل لا نا تھی جلدی میں اسے ہی بھول گئے ہیں ۔جب افسر اعلیٰ ان کی گو شمالی کرتا ہے تو نہایت رنجیدہ آواز میں جس میں سارے جہاں کا غم ہوتا ہے فرماتے ہیں ’’سوری سر !میں ذرا جلدی میں تھا ۔‘‘
بندہ پوچھے یہی ’’چن ‘‘چڑھانا تھا تو اتنے تردد کی ضرورت کیا تھی ؟؟گالیاں کھا کر بد مزہ ہو نے کی ضرورت کیا تھی ؟
کچھ لوگ آناََ فاناََ قسم کے ہوتے ہیں مثلاََ مس رفعت عاتکہ تیز تیز قدموں سے آتی ہیں ، کھٹاک سے شیشے کا دروازہ کھولتی ہیں ۔ اسی سپیڈ سے بولنا شروع کردیتی ہیں ‘‘ارشد ،تم نے ابھی تک میرے آرٹیکل کی فائل کا پرنٹ مجھے نکال کر نہیں دیا اور آپ ......آپ نے مجھے کوئی موضوع بتا نا تھا ........‘‘
بیچ میں سانس لینا تو گناہ سمجھتی ہیں ۔ وہ نیوز کاسٹر ہوتیں تو لوگ خبریں سننے کیلئے ابھی ٹیلی ویژن کھول رہے ہوتے جب وہ کہہ رہی ہوتیں ’’ یہ تھیں آج کی خاص خاص خبریں ، اگلے بلیٹن تک کے لیے اجازت دیجئے ، اللہ حافظ ‘‘
وہ جیسے آناََ فاناََ آتی ہیں ویسے ہی آناََ فاناََ چلی جاتی ہیں چونکہ آناََ فاناََ طریقے میں کام تو کبھی مکمل نہیں ہوتا اس لیے انہیں دوبارہ آنا پڑتا ہے اور ..........وغیرہ وغیرہ ۔‘‘
ان کے جھپٹنے ، پلٹنے، پلٹ کر جھپٹنے کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ ان کے کیلور یز خرچ کرنے کا ایک بہانہ ہو ۔پنجابی میں کیا خوب کہاوت ہے کہ ’’کاہلیاں اگے ٹویے ‘‘ ارشد اس محاورے کا بہت قائل ہے ۔اس کی طبیعت میں اتنی تیزی ہے کہ خدا کی پناہ !سب اسے دھیرج مہاراج کی تلقین کرتے رہ جاتے ہیں اور وہ پھٹے اکھیڑتا چلا جاتا ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے اپنی کمپوز کی ہوئی فائلوں میں اتنی غلطیاں لگانی پڑتی ہیں کہ اس کی طبیعت صاف ہوجاتی ہے ۔ہاتھوں کی دی ہوئی گانٹھیں منہ سے کھولنے کی یہ مشق وہ بار بار کرتا ہے مگر مجال ہے جو اس کی جلدی میں کوئی کمی آجائے !
جلدی سے مجھے مرحوم دلدار پرویز بھٹی کا ایک لطیفہ یا د آگیا ۔ دلدار پرویز بھٹی مال روڈ پر پیدل جا رہے تھے ۔ان کے ایک پرستار کی نظر ان پر پڑی تو انہوں نے کار ان کے قریب جاکر روکی اور کہنے لگا ’’دلدار صاحب آجائیں کار میں بیٹھ جائیں’’دلدار صاحب نے کار پر ایک نظر ڈالی ۔ کار خستہ اور پرانی تھی پھر کہنے لگے ’’نہیں ، مجھے ذرا جلدی ہے ۔‘‘
بندے کو اس طرح کی جلدی ہو جس میں اسے کچھوے سے جیتنے کا یقین ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر ویسی جلدی ہو جیسی ہمارے دوست راشد محمود کو ہوتی ہے تو پتا نہیں کیا ہو جائے ۔ راشد صاحب باہر ڈپ کی نئی زیر تعمیرتین منزلہ عمارت پر کام ہوتا دیکھ کر تیزی سے میر ی طرف آئے ۔ میں نے احتیاطََ کرسی خطِ مسقیم سے ہٹا لی ، انہوں نے بریک لگائی ، سر میں کھجایا پھر کچیچاں وٹ کر کہنے لگے ، ’’ یار! یہ عمارت شام تک نہیں بن سکتی ؟‘‘ میں نے ایک نظر عمارت پر ڈالی جس کی ابھی ایک بیسمنٹ بھی مکمل نہ ہوئی تھی پھر انہیں جھوٹی تسلی دی ’’ہاں یہ شام کو بن جائے گی ‘‘اس سے بھی ان کی تشفی نہیں ہوئی کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگے’’یار!یہ دوپہر تک نہیں بن سکتی ؟‘‘ اب میں نے پچھلی تسلی بھی واپس لے لینی مناسب سمجھی ’’ہاں یہ دوپہر تک بن جائے گی ، لیکن جنوری 2005کی کسی دوپہر کو ‘‘
اب آپ ہی بتائیے اتنے تیز رفتار لوگوں کے ساتھ بھلا کیسے گزارہ ہوسکتا ہے جب بندہ خود بھی جلدی میں رہتاہو ۔اب آپ سے کیا چھپانا ، میں بھی جلدی کا ’’مریض ‘‘ ہوں ، مجھے ہر وقت ، ہر جگہ کوئی نہ کوئی جلدی رہتی ہے ۔ ایک دفعہ فرنٹےئر پوسٹ کے دفتر میں گیا ۔ وہاں میر ے دوست اکرام صاحب کہنے لگے ’’ بیٹھ جائیے ‘‘ میں نے کہا ’’ مجھے ذرا جلدی ہے ‘‘ ایسے جلدی جلدی میں وہاں مجھے آدھ گھنٹہ گزار آیا لیکن بیٹھا نہیں ۔ تھکاوٹ بھی مجھے ہوئی ، اکرام صاحب کونہیں ۔
اچھا، میں نے جلد بازوں کو کبھی سکھی نہیں دیکھا ۔ ایک بار مجھے اوکاڑہ سے لاہور دو بجے پہنچنا تھا ۔ اے سی کوسٹر جب تیز رفتار ی سے چلی تو میں بہت خوش ہوا کیونکہ مجھے جلدی تھی لیکن رائے ونڈکی طرف رخ کرلیا ۔ جب وہ رائے ونڈ میں مولویوں کو اتا ر کر نارمل سے بھی ایک گھنٹہ تاخیر سے لاہور پہنچی تو میر ا غم و غصے سے برا حال تھا ۔
حقیقت یہ کہ جلدی کا کام چونکہ شیطان کا ہوتا ہے اس لئے اس میں کبھی برکت نہیں ہوتی ۔ نتیجہ یہ کہ جلدی میں کبھی جرابیں سیدھی نہیں پہنی جاتیں ، تین تین بار اُتار کر پہننا پڑتی ہیں ، اچھی بھلی بس ہمشہ راستے میں خراب ہو جاتی ہے ، خراب ہو جاتی ہے ، خراب نہ ہو تو ٹریفک جام آجاتا ہے ۔ راستے میں بے تکلف دوست مل جاتا ہے جو آدھا گھنٹہ جان نہیں چھوڑتا ۔ آپ جلدی میں دائیں بائیں سے گزر جانے کو بھی تیار ہوتے ہیں مگر شیطان کہیں نہ کہیں آپ کوضرور جپھا ڈال لیتا ہے اور مقررہ نشان کو ہاتھ لگا کر پوائنٹ حاصل نہیں کرنے دیتا ۔
احتیاطی تدابیر :
* جلدی درحقیقت ایک غفلت کا نام ہے جو آپ جلدی کے نام پر اپنے کام سے کررہے ہوتے ہیں اور آپ کو منزل پر پہنچ کر پتا چلتا ہے کہ میرا راستہ کوئی اور تھا اور یہ راستہ کوئی اور ہے ۔
* بروقت کام کرنے یا پہنچے اور جلدبازی میں ہمیشہ اتنا ہی مہین سا فرق ہوتا ہے کہ جتنا کہ محبت اور نفرت کے درمیان ۔اس مہین فرق کو پہچانئے ۔ یہی آپ کی دولت ہے ۔
* جلدی ، جلدی ، جلدی کی تکرار سے بچئے ۔ اس سے بچنا کئی مسائل سے بچنے کے مترادف ہے ۔
* ذیا بیطس افراد جلدی میں پہلے کھانا کھا لیتے ہیں بعد میں انسو لین لگاتے ہیں لہذا اُنہیں ہائیپو بھگتنا پڑتا ہے ۔
* ’’دیر ‘‘کنواں تو ’’ جلدی ‘‘اندھا کنوا ں ہے ۔ جلدی سے بچنا آپ کو ’’ ڈٹھے کھو ہ ‘‘ میں گر نے بچاتا ہے ۔ آخر میں ہم آپ کو یہ گر کی بات بتانا پسند کر یں گے کہ چونکہ جلدی سے ہمیشہ کام خراب ہو جاتا ہے اس لیے جلدی سے جلدی کو خیر آبا د کہہ دیجئے اب کالم یہیں ختم کرتا ہو ں کیونکہ ذرا جلدی ہے !!!

3دسمبر 2004 کو شائع ہوا تھا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *