رمضان بیزار

 سید قمرالدین بخاری

آپا کا صدر رمضان بیزارایک شاعرانہ خیالات رکھنے والا تاجر رہنما ہے جسے میڈیا میں آنے کا بہت شوق رہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے اس نے قومی سطح پر ایک آل پاکستان پھڑیا ایسوسی ایشن(آپا) قائم کر رکھی ہے۔ جس کے لئے رضاکارانہ طور پر انہوں نے خود کو تاحیات صدر کے منصب کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ آپا کی ملک بھر میں شاخیں پھیلتی جا رہی ہیں۔ رمضان نے انتہائی غربت میں آنکھ کھولی اور بچپن سے ہی محنت مزدوری اس کا مقدر قرار پائی۔ اسی رزق کی تلاش میں وہ اپنا تعلیمی سفر جاری نہ رکھ سکا۔ لہٰذا چار جماعتیں پڑھ کر وہ اپنے کام دھندے میں مصروف ہو گیا۔ محنت مزدوری کے ساتھ ساتھ وہ شعروشاعری کے لئے بھی وقت نکال لیا کرتا تھا تاہم وزن کی کمی بیشی کی وجہ سے وہ شاعری کا شغف تو جاری نہ رکھ سکا لیکن کامیاب تاجر ضرور بن گیا حالانکہ اس کے بہترین تاجر بننے میں بھی وزن کی کمی کا بہت عمل دخل ہے۔ رمضان بیزار اپنے بازار میں تنظیم کا صدر ہونے کی وجہ سے بہت مقبولیت کا حامل ہے۔ اب تو تمام دکانداروں نے اس کی خدمات کے اعتراف میں بازار کا نام ہی رمضان بازار رکھ دیا ہے۔ آل پاکستان پھڑیا ایسوسی ایشن کے صدر ہونے کا اسے یہ بھی فائدہ رہا ہے کہ وہ کبھی ’’پھڑیا‘‘ نہیں گیا۔ جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا ہے تو رمضان کے چہرے پر ایک عجیب سا کیف اور سرور دکھائی دیتا ہے۔ وہ یہی سمجھتا ہے کہ یہ مہینہ اس کا ہی مہینہ ہے۔ لہٰذا اپنے بازار میں وہ اس مہینے کی مناسبت سے روزہ داروں کی خدمت کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں وقف کر دیتا ہے۔ وہ یہ بات جانتا ہے کہ اس ماہ مقدس میں ایک نیکی کا ثواب 70گنا بڑھ جاتا ہے اور چونکہ رمضان بیزار کے خیال میں رزق کمانا بھی ایک نیکی ہے لہٰذا ہر تاجر کو یہ حق حاصل ہے کہ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں 70گنا تک اضافہ کر کے اپنی نیکیوں کو بڑھا لے۔ وہ اپنے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آپا کے پلیٹ فارم سے تمام دکانداروں میں قیمتوں کے حوالے سے اتحاد بین المسلمین کو یقینی بناتے ہوئے 70گنا قیمتیں بڑھا کر نیکیوں میں اضافے کا اہتمام کرتا ہے۔ وہ جب عام لوگوں کو شاعری کرتے اور کتابیں چھپواتے دیکھتا ہے تو اس کے اندر کا شاعر اور ادیب جاگ اٹھتا ہے حالانکہ وہ آپا کے صدر کی حیثیت سے شاعروں سے زیادہ شہرت حاصل کر چکا ہے اور اس کے ایک ہی اشارے پر دیکھتے ہی دیکھتے بازار بند کر دیئے جاتے ہیں۔ آج کل اسے اپنے غربت کے ان دنوں کی یاد بہت ستاتی ہے جب وہ دو دو آنے میں آزاربند بیچا کرتا تھا۔ رمضان بیزار آج نہ صرف کامیاب تاجر ہے بلکہ آپا کو کامیابی سے اپنی قیادت کے ذریعے خدمت کے لئے ایک بہترین پلیٹ فارم کے طور پر منوا چکا ہے۔ ان دنوں وہ ایک کتاب لکھنے کا سوچ رہا ہے جس میں لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے ذریعے کامیاب تاجر بننے کے گر سکھانا چاہتا ہے۔ اس کتاب کا نام اس نے ’’آزاربند سے بازار بند تک‘‘ تجویز کیا ہے۔ رمضان کے مہینے میں اپنی من مانی قیمتوں کو یقینی بنانے کے لئے رمضان پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اراکین کو کنٹرول میں رکھنے کے کئی طریقے اپناتا ہے۔ وہ انہیں روزانہ افطار پارٹیوں پر دعوت دیتا ہے، واپسی پر گھر کے لئے پھل، سبزیاں، گوشت اور اشیاء خوردونوش کے پیکٹ بطور تحفہ دے کر رخصت کرتا ہے۔ اس کے خیال میں تحفے دینے سے محبت بڑھتی ہے اور اس مہینے میں ہمیں زیادہ سے زیادہ محبتیں پھیلانی چاہیے۔ رمضان اپنے بازار میں نرخنامے آویزاں کرنے کے سخت خلاف ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اعمال نامہ اور نرخنامہ ہر شخص کا ذاتی فعل ہے جو سب کے سامنے نہیں آنا چاہیے۔ وہ آمد رمضان سے قبل اشیاء خوردونوش کا ذخیرہ اس نیت سے کر لیتا ہے کہ اشیاء کے نایاب ہونے کی صورت میں اللہ کے پیاروں کو ہر قیمت پر یہ اشیاء دستیاب ہو سکیں۔ ہر قیمت سے مراد وہ قیمت ہے جو رمضان بیزار اپنی مرضی سے طے کرتا ہے تاہم وہ ذخیرہ اندوزی کے سخت خلاف ہے اور اسے ذخیرہ اندوزخی قرار دیتا ہے۔ اس کے دو بیٹے بھی اس کی طرح پورے اخلاص کے ساتھ روزہ داروں کی خدمت کے حوالے سے والد کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ ایک بیٹے کی گوشت کی دکان ہے جو اتری ہوئی کھال والے سرکٹے جانوروں کا گوشت ارزاں نرخوں پر فروخت کرتا ہے چونکہ ’’کٹے‘‘ کی سری اور پائے اسے اپنے ساتھی قصائیوں سے مل جاتے ہیں لہٰذا اگر کوئی گاہک سوال کر لے کہ یہ کس چیز کا گوشت ہے تو وہ قسم کھا کر بتاتا ہے کہ ’’سرکٹے کا گوشت ہے‘‘۔ دوسرا بیٹا ایک پنسار کی دکان چلا رہا ہے وہ بھی خالص چیزیں صارفین تک پہنچانے کے لئے بھرپور جذبے سے کام کرتا ہے حتیٰ کہ مرچوں میں برادہ بھی کسی خاندانی درخت کا ملاتا ہے اور اسے رنگنے کے لئے خالص فوڈ کلر استعمال کرتا ہے تاکہ لوگوں کی صحت کا خاص خیال رکھا جا سکے۔ رمضان بازار میں پرائس کنٹرول کمیٹی اس لئے قدم نہیں رکھتی کہ آپا کے صدر خود پرائس کو کنٹرول کئے رکھتے ہیں تاہم وہ اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ پرائس کنٹرول کمیٹی کے اراکین کی عید تک کمیٹی نکلی رہے۔ رمضان بیزار بہت نرم گفتار انسان ہے اور عدم تشدد کا پرچار کرتا ہے اس لئے وہ ہمیشہ دکانداروں کو گاہکوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے برتاؤ کرنے کا پابند بناتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب ڈنڈی مار کر کام چلایا جا سکتا ہے تو پھر ڈنڈا مارنے کی کیا ضرورت ہے۔ لہٰذا اس کا رمضان بازار خوش اخلاقی اور خدمت خلق کے لحاظ سے روزہ داروں کے لئے ایک مثالی بازار کی شہرت حاصل کر چکا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *