’جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر سے ملنے والی گولیاں ہوائی فائرنگ کا نتیجہ تھیں‘

لاہور: پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) نے گزشتہ ماہ ماڈل ٹاؤن میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جج کی رہائش گاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ یہ ہوائی فائر تھے۔

اس ضمن ایک اعلیٰ عہدیدار نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے شواہد کا جائزہ لے کر پی ایف ایس اے کی تحقیقات کی روشنی میں ابتدائی رپورٹ مرتب کرلی ہے اور اسے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس کیپٹن (ر) عارف نواز کو حتمی جائزے کے لیے پیش کردیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹ میں جج کی رہائش گاہ پر کسی ممکنہ حملے کو مد نظر رکھتے ہوئے، جائے وقوع سے ملنے والی 2 گولیوں کا سائینٹفک تجزیہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ رواں سال 14 اور 15 اپریل کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں سپریم کورٹ کے جج اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر مبینہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، اس واقعے کے حوالے سے درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ایک فائر 14 اپریل رات 10 بج کے 45 منٹ جبکہ دوسرا فائر کچھ گھنٹوں کے بعد صبح 9 بج کر 45 منٹ پر کیا گیا۔

تاہم گفتگو کرتے ہوئے پی ایف ایس اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اشرف طاہر نے بتایا کہ گولیوں کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہوائی فائر کی گئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ مرتب کرنے سے قبل فرانزک اور پولیس کے ماہرین نے جائے وقوع پر 9 ایم ایم کے پستول کے ساتھ مختلف رینج میں فائرکر کے جائزہ بھی لیا گیا، جس کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ 40 میٹر کی حدود میں 9 ایم ایم پستول سے کیا جانے والا فائر باآسانی اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مشق سے ماہرین اس نتیجے پر بھی پہنچے کہ مذکورہ جج کی رہائش گاہ سے ملنے والی گولیاں کافی فاصلے سے فائر کی گئی تھیں، اس ضمن میں مرتب کی جانے والی پی ایف ایس اے کی رپورٹ سے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس اعجازالاحسن کو آگاہ کیا جاچکا ہے۔

انہوں نے رپورٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رپورٹ میں واضح طور پر اس واقعے کو ہوائی فائرنگ کا شاخسانہ قرار دیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *