پردے میں رہنے دو

حاجی صاحب کروڑوں کی جائیداد کے مالک تھے، کچھ زرعی اراضی، ایک کیمیکل فیکٹری، شہر کے وسط میں دو پلازے، ہائی وے پر ایک پٹرول پمپ اور ڈیفنس میں دو کنال کے پلاٹ کے علاوہ ماڈل ٹاؤن میں رہائشی کوٹھی تھی۔ حاجی صاحب جب فوت ہوئے تو اُن کے پانچ بیٹوں میں جائیداد کی تقسیم کا تنازع پیدا ہو گیا، یہ طے ہی نہ ہو پایا کہ کون سی پراپرٹی کس کے حصے میں آئے گی، کوئی ایسی تقسیم ہی ممکن نہ تھی جس پر سب راضی ہو سکیں، قریب تھا کہ سب ایک دوسرے کے خلاف بندوقیں تان لیتے کہ ایک سیانے نے مشورہ دیا کہ تم پانچوں میں سے کوئی ایک بیٹا جائیداد کے بٹوارے کا ذمہ اٹھا لے اور پوری پراپرٹی کو پانچ حصوں میں تقسیم کردے مگر شرط یہ ہو کہ خود اسے علم نہ ہو کہ اُس کے حصے میں کیا آئے گا، یعنی پراپرٹی کے حصے کرنے کے بعد ہر حصے کی تفصیل خفیہ طریقے سے پرچیوں پر علیحدہ علیحدہ لکھ دی جائے اور پھر ہر بیٹا باری بار ی ایک پرچی اٹھائے جس میں اُس کے حصے میں آنے والی جائیداد کی تفصیل لکھی ہو، آخر میں بچ جانے والی پرچی اُس بیٹے کی ہو جس نے جائیداد کی تقسیم کا فارمولہ بنایا تھا، یوں پوری جائیداد منصفانہ طریقے سے تمام بیٹوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ انصاف کو یقینی بنانے کا یہ طریقہ گو کہ پرانا ہے مگر اسے جدید لبادہ 1971میں ایک فلسفی نے پہنایا، اس تصور کو Veil of Ignorance(ناشناسی کا پردہ)کہتے ہیں، فلسفی کا نام John Rawls تھا اور کتاب کا نام Theory of Justice۔ یہ تصور خاصا دلچسپ ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہ کسی بھی معاملے میں انصاف کرنے کا اصول یہ ہے کہ خود پر وہ اصول لاگو کر کے دیکھ لیا جائے۔ مثلاً اگر چند عاقل و بالغ لوگوں کا ایک گروپ بنایا جائے جس کے ذمہ ایک ایسا زیرو میٹر، نیا اور خالص معاشرہ تخلیق کرنے کا کام ہو جو سراسر انصاف پر مبنی ہو، جہاں دولت اور طاقت کی منصفانہ تقسیم ہو، جہاں ہر شہری کو برابر کے حقوق حاصل ہوں، جہاں کوئی رنگ، نسل، عقیدے، زبان یا مسلک کی بنیاد پر افضل یا کمتر نہ ہو اور جہاں مرد اور عورتیں برابر بااختیار ہوں تو دانا لوگوں کا گروپ کیسے اپنا یہ مقصد حاصل کرے گا! یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہو گا اگر اِس گروپ کے لوگ خود سے نا آشنا ہوں اور انہیں علم ہی نہ ہو کہ وہ کس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں پتہ نہ ہو کہ اُن کی شخصیت کیا ہے اور وہ اس بات سے بھی لاعلم ہوں کہ اپنے ہی تشکیل کردہ نئے معاشرے میں خود اُن کا کیا مقام ہوگا۔ سو جب ایسے لوگ نیا معاشرہ تشکیل کرنے بیٹھیں گے تو یہ سوچ کر بیٹھیں گے کہ نئے معاشرے میں تمام طبقات کے حقوق و فرائض، اختیارات اور مراعات، پابندیاں اور آزادیاں ایسے وضع کی جائیں کہ کسی بھی قسم کی نا انصافی کا احتمال نہ رہے کیونکہ آخر میں خود اُن کو بھی اِس معاشرے کا حصہ بننا ہوگا جسے انہوں نے انصاف کے اصولوں پر کھڑا کیا ہوگا اور وہ اِس سے ناآشنا ہوں گے کہ اپنے ہی بنائے ہوئے معاشرے میں اُنہیں کیا مقام حاصل ہوگا۔ اب فرض کریں کہ اِس گروپ میں کوئی مرد عاقل یہ کہتا ہے کہ نئے معاشرے میں دس فیصد لوگوں کو غلام بنایا جا سکے گا یا عورتوں کو ووٹ دینے کی اجازت نہیں ہو گی تو پھر وہ شخص سوچ رکھے کہ اُس معاشرے میں وہ غلام بھی بن سکتا ہے اور ایسی عورت بھی جس کے پاس ووٹ کا حق نہیں ہوگا۔ سو لامحالہ کوئی بھی دانا شخص ایسی تجویز نہیں دے گا جس کی زد میں وہ خود بھی آرہا ہو گا۔ گویا دانا لوگوں کا یہ گروپ ایک قسم کے لاعلمی کے پردے کے پیچھے بیٹھ کر نئی سوسائٹی تشکیل دے گا اور وہ اِس بات سے نا آشنا ہوگا کہ پردے کے پار بنائی جانے والی سوسائٹی میں وہ کہاں پھینکے جائیں گے۔ اسی صورت میں ایک بے عیب اور منصفانہ نظام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ حقیقت کی دنیا میں ممکن نہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ زمین کا کوئی خطہ انسانوں سے خالی کروا کے وہاں ایک نیا معاشرہ بنانے کا تجربہ کیا جائے اور پھر لوگوں کو مختلف طبقات میں دھکیل کر تجربے کے نتائج کا مشاہدہ کیا جائے۔ ایسے میں ناشناسی کے کلیے کو کہاں اور کیسے آزمایا جائے؟
یہ کلیہ ہر جگہ آزمایا جا سکتا ہے۔ آپ اگر صاحب اختیار ہیں اور کوئی ایسا فیصلہ کرسکتے ہیں جو لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے تو سب سے پہلے خود کو اُس شخص کی جگہ پر رکھ کر اس فیصلے کے مضمرات محسوس کرنے کی کوشش کریں۔ مثلاً جو لوگ کسی مخصوص طاقت یا برتری کی بنیاد پر دوسروں کی تقدیر کے فیصلے صادر کرتے ہیں، ایک لمحے کے لئے اُن لوگوں کو بھی اپنے فیصلوں کو خود پر اُسی طرح منطبق کرنے کی ضرورت ہے جیسے وہ اُن کا اطلاق دوسروں پر چاہتے ہیں، ایسے انصاف کی فراہمی یقینی ہو جائے گی۔ بقول بنجمن فرینکلن :
Justice will not be served until those who are unaffected are as outraged as those who are۔ اسی طرح کسی ملک میں فیصلہ سازی کرنے والا گروہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ملک کے فلاں حصے میں آپریشن کرکے علاقہ دہشت گردوں کے تسلط سے پاک کروایا جائے گا تو فیصلہ کرنے والا کم ازکم دو منٹ کے لئے یہ ضرور سوچے کہ اگر وہ خود ایسے کسی علاقے کا مکین ہو اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ وہاں رہائش پذیر ہو جہاں ایسا آپریشن کیا جانا ہو تو کیا پھر بھی آپریشن کا فیصلہ ایسا ہی ہو گا یا اُس میں کوئی ایسی تبدیلی کی جائے گی کہ بے گناہ شہری نہ مارے جائیں! حکومت میں بیٹھے طاقتور افراد اکثر پالیسیاں بناتے ہیں اور نہایت اطمینان سے اُن پر عملدرآمد کے احکامات جاری کرتے ہیں کیونکہ اول تو انہیں علم ہوتا ہے کہ یہ پالیسیاں اُن کی صحت پر کوئی براہ راست اثر نہیں ڈالیں گی اور اگر اثر انداز ہوئیں بھی تو مثبت انداز میں ہی ہوں گی۔ سو اگر ایسے پالیسی سازوں کو ناشناسی کے پردے کے پیچھے بٹھا دیا جائے اور انہیں کہا جائے کہ ان کی بنائی ہوئی حکمت عملی سب سے پہلے خود انہی پر آزمائی جائے گی تو یقیناً نتائج بہتر برآمد ہوں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے کرپشن پکڑنے والے افسر کو کہا جائے کہ وہ ایسے منصفانہ انداز میں تحقیقات کرے کہ اگر تحقیقات کا یہ انداز خود اُس پر بھی لاگو کیا جائے تو اسے کوئی اعتراض نہ ہو۔
ہم میں سے اکثر لوگ اخلاقیات کے معاملات پر اپنی ایک رائے رکھتے ہیں اور اس کا بلا کھٹکے اظہار بھی کرتے ہیں جیسے کہ عورتوں کا لباس کیا ہونا چاہئے، ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت ہونی چاہئے یا نہیں، اسقاط حمل کی مخالفت کرنی چاہئے یا نہیں، غلامی ہونی چاہئے یا نہیں۔ یہاں بھی ناشناسی کے پردے کا کلیہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی معاملے کی حمایت یا مخالفت کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ اگر وہ خود آپ پر ٹھونس دیا گیا تو کیسا لگے گا، مثلاً غلامی کی حمایت بڑے شوق سے کریں مگر خود غلام بننے کے لیے تیار رہیں، اسقاط حمل پر کوئی رائے دینے سے پہلے ایسی عورت بن کر سوچیں جو نہ چاہتے ہوئے حاملہ ہو گئی ہو اور ملک میں خونی انقلاب کی دعائیں مانگنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ ایسے انقلاب میں دس بیس لاکھ بندہ مرتا ہے تو کیا آپ اُن شہیدوں میں اپنا نام لکھوانا چاہیں گے!
نوٹ:اس کالم میں بیان کی گئی ایک آدھ مثال ہاورڈ کے کسی پروفیسر کے مضمون سے مستعار لی گئی ہے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *