جنسی حملوں سے بچائو کا طریقہ

علی  چغتائی

حال ہی میں کراچی کی طلبات نے سوشل میڈیا پر جنسی حراستگی کے بارے میں  آواز اٹھائی، ان کے مطابق انہیں ،ساتھیوں، اساتذہ اور سکول ایڈمنسٹریشن   سے اس چیز کا سامنا  کرنا پڑتا ہے۔ ان کا ایسا بولنا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انہیں واضح طور پر ایک باقائدہ جنسی حراستگی کے خلاف اسکولوں میں ایک پالیسی چاہیے۔ یہ بلکل صحیح وقت ہے اس قانون کو کھوج نکالنے کا جو اس معاملے میں ملک  میں بنانا پڑا ہے اورکہاں اس کا استعمال نہیں کیا جا رہا اور  اس مسلئے کو حل کرنے کے لیے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ بہت سے فیڈرل قوانین موجود ہیں پاکستان میں جو بچوں کی بھلائی کے سلسلے میں بہت   اہم کردار ادا کر  رہےہیں۔ لیکن ایسا کوئی قانون نہین جو سکولوں میں  جنسی حملوں کے  خلاف لاگو ہو سکے۔  موجودہ حالات مین جس بچے پر اپنے ساتھی ، کئیر ٹیکر یا اساتذہ کے ہاتھوں جنسی  حملہ ہوتا ہے اس کے لیے  صرف کریمینل لاء کی عام دفعات ہی موجود ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ  پورے ملک میں نافذ ہوتا ہے اور یہ جنسی حراسگی  کے کیسسز کے سلسلے میں وسیع العمل ہے۔   سیکشن506 کے تحت جنسی حراستگی کو ناجائز قرار دیا جاتا ہے  اور جرم کرنے والے کو  مجرم قرار دیتا ہے۔  اب، PPC کے  کریمینل لاء کے 2016 کے ایکٹ سیکشن 377۔a  کے تحت    18 سال سے کم عمر کے بچوں کے ساتھ   جنسی حملوں کو باقائدہ ایک جرم قرار دیا ہے۔  اسی لئے  جب بھی ایک بچہ سکول میں  جنسی تشدد کا شکار ہوتا ہے تو ان کے پاس سیدھا مجرم کے خلاف  رپورٹ  فائل کروانے کا راستہ  نہیں اور یہ ان کا پروویثن آف کریمینل لاء کے تحت  حق ہے۔ اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ  اس طرح کی رپوٹ  درج کرواتے ہوئے کوئی کن احساسات کی اذیت سے گزر رہا ہے اس بچے کو FIR  لکھوانی ہوتی ہے ۔ اور   کریمینل پروسیجر کوڈ سیکشن 164 کے تحت بچے کو  اپنا بیان ریکارڈ کروانا
ہوتا ہے۔ FIR کو فوری طور پر  کسی تاخیر کے بغیر درج کروانا ہوتا ہے ورنہ کیس ناقص ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ  ڈاکیومنٹری یا  کوئی بھی عینی شاہد ، گواہ  ضرور چاہئے ہوتا ہے تاکہ کیس کو کلیم کے قابل بنایا جائے۔ اس سارے سلسلے میں ایک پورے  مقدمے کی سماعت ہوتی ہے جس میں شاہد اور گواہوں کو ریکارڈ رکھ لیا جاتا ہے۔  عینی شاہدوں اور تجربہ کاروں کو بلایاجاتا ہے اور کراس اگزامن کیا جاتا ہے تاکہ  کلیم کیے گئے  معاملے کی تصدیق ہو سکے۔ اس سب چیزوں کی وجہ سے بے چارے مظلوم   پر مصیبتوں کا انبار ٹوٹ پڑتا ہے اور اسے اپنی نجی زندگی  کھو دینے کا خدشہ لاحق ہو جاتا ہے۔  اور وہ نہ چاہتے ہوئے  خود پر یقین کھو بیٹھنے کی اذیت سے گزرتا ہے اور  بے آبرو اور بد نام ہو جاتاہے۔ اس دوران  جو تھیوری کے مطابق بچے کے تحفظ کے بارے میں   ذمہ دار ی کا یقین دلاتی ہے اسے مزکورا بالا قانون کے آپریشن کے  تحت  چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یعنی بچے کے سکول اور سکول کی  ایڈمنسٹریشن کو۔

غیر محفوظ بچے

کوئی ایسا باقاعدہ قانون  نہیں مہیا کیا گیا  جس میں کئیر ٹیکر کی غفلت اور عدم نگرانی کو جرم قرار دیا جائے جس وجہ سے بچے پر جنسی حملہ ہو پایا۔  PPC  کے سیکشن 328۔ A کے تحت  سکول بھی مجرم ہو سکتا ہے، جبکہ   جس نے بھی بھول کی ہے اور   جس کے پاس بھی بچے پر ذہنی اور جنسی حراساں کرنے کا اختیار تھا  اور اس نے ایسا کیا تو اسے ایک سال کی جیل   ہو سکتی ہے۔  لیکن وہ سب شواہد پھر بھی چاہیے  ہونگے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔  بچے کو اسی سب اذیتوں سے گزرنا پڑے گا جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔، تاکہ وہ اپنا کلیم درج کروا سکیں۔  سول ریمیڈی کے طور پر سکول کے خلاف ٹیچرز کی بھرتیون میں لا پرواہیی کے الزام میں کاروائی ہو سکتی ہے۔ لیکن اس طرح کی کاروائی بہت کم دیکھنے کوملی ہے۔

سکول بھی ورک پلیس کی طرح ہی ہیں۔

ایک اہم قانون جو سکول کے بچوں کا تحفظ یقینی بنا سکتا ہے وہ ہے پروٹیکشن اگینسٹ ہیرسمنٹ آف وومن ایٹ ورک پلیس ایکٹ 2010 جس کے تحت جنسی حملوں کا شکار کام کرنے والی خواتین کو تحفظ یقینی بنایا گیا ہے۔  اس ایکٹ کی سیکشن 2 ایچ میں ہیرسمنٹ کی تعریف یوں کی گئی ہے: کوئی بھی ناقابل قبول جنسی حرکت، جنسی خواہشات کی تکمیل کا اظہار، یا ایسا زبانی یا تحریری  پیغام جو جنسی تعلقات سے کسی بھی صورت میں متعلق نظر آتا ہو۔ اس ایکٹ میں پورا نظام بنایا گیا ہے کہ ورک پلیس ہیرسمنٹ کے واقعات کی رپورٹنگ اور کاروائی کیسے عمل میں لائی جائے گی۔ اس قانون میں شامل لفظ آرگنائزیشن سکول جیسے اداروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت ہر آرگنائزیشن کا یہ فرض ہے کہ وہ ایک اندرونی ہیرسمنٹ کمیٹی بنائے جو معاملات پر تحقیقات کر کے سزا دے۔ اس ایکٹ میں اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ بچوں اور مظلوموں کو ذہنی تکلیف سے گزارنے سے گریز کیا جائے  اور ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری انکوائری کمیٹی پر ہو۔  ایکٹ مظلوم کو حق دیتا ہے کہ وہ گناہ گار کے سامنے اپنا تحفظ یقینی بنائے ۔ اس لیے اس ایکٹ کے تحت معاملہ کریمنل پروسیجر کوڈ اور ایویڈنس ایکٹ سے  مختلف ہوتا ہے۔ ورک پلیس میں جنسی حملوں  کا تعلق صرف جوان لوگوں تک محدود نہیں ہے ۔ بچوں کو بھی جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے اور انہیں سکولوں اور دوسرے کام کرنے والی جگہوں پر  جنسی حملوں اور ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ورک پلیس ہیرسمنٹ کا قانون تعلیمی اداروں میں بچوں پر جنسی حملوں کے واقعات پر لاگو نہین ہوتا۔ اس معاملے  میں سکولون کو ریگولیٹ کرنے والے قوانین کے بغیر  اس وقت سکول  کے
منتظمین جس طرح سے کیسز کو خود ہینڈل کر رہے ہیں اس سے کچھ حد تک بچوں کو ریلیف مل پا رہا ہے۔ یہ بہتری کا ایک محض دھوکہ دہی والا مفروضہ ہے  اور کلاسز کسی بھی طرح بچوں اور بچیون کےلیے محفوظ جگہ قرار نہیں دی جا سکتیں۔

سب سے اہم ضرورت

فرینکلن بمقابلہ گونیٹ کاونٹی پبلک سکول کے عدالتی حکم میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے کہا کہ جس طرح ایک ملازم کا حق ہے کہ وہ اپنے مالک کے جنسی حملوں سے محفوظ رہے اسی طرح ایک طالب علم کو بھی اپنے ٹیچر کے جنسی حملوں سے محفوظ رہنے کا پورا حق ہے۔  امریکہ میں جنسی حملوں کا شکار بچے عدالت کا رخ ورک پلیس ہیرسمنٹ قانون کے تحت ہی کرتے ہیں۔ ہمارے سکولوں میں بھی وہی قانون لاگو ہونا چاہیے  جو ورک پلیس ہیرسمنٹ کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف تعلیمی اداروں میں بچوں پر جنسی حملے کم ہون گے بلکہ بچوں کو ٹرائل کے مراحل سے بھی نہیں گزرنا پڑے گا  جس کی وجہ سے بچے انصاف سے محروم رہ جاتے ہیں۔ قانون کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ کمزور کو مضبوط کے تسلط سے بچائے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم نے کمزور کو نظر انداز کر رکھا ہے  اورخاص طور پر سکول کے بچے بہت تکلیف دہ صورتحال کا شکار ہیں۔

source : https://www.dawn.com/news/1408478/what-recourse-do-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *