کیا آزاد امیدوار کنگ میکر ہوتے ہیں؟

طاہر مہدی

حال ہی میں پیپلز پارٹی کے شریک چئیر مین آصف زرداری نے کہا کہ الیکشن میں آزاد امیدوار حکومت بنانے کے عمل میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب بڑی پارٹیوں کو برابر مینڈیٹ ملے اور بہت بڑی تعداد میں آزاد امیدوار بھی جیت جائیں اور پھر یہ تعداد کسی پارٹی کے ساتھ ملکر حکومت بنانے کا فیصلہ کرے۔ یہ بہت زیادہ مفروضے ہیں ان سب کا پورا ہونا ایک فیکٹر کی صورت میں ممکن ہے اور وہ ہے الیکٹیبلز زاور پارٹیز کے بیچ بڑھتے ہوئے تعلقات۔ تو سوال یہ ہے کہ ایسا کب ہوتا ہے جب کوئی الیکٹیبل پارٹی سے علیحدہ ہو کر آزا د امیدوار کے طور پر الیکشن جیتنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمارے انتخابی نظام میں آزاد امیدواروں کو اجازت ہوتی ہے کہ ہو نتائج سامنے آنے کے بعد کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں۔ وہ اکثر حکومت بنانے والی پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ 2013 میں بائیس حلقوں میں آزاد امیدوار جیتے جن میں سے 19 ن لیگ میں شامل ہو گئے۔ 2008 میں 19 میں سے 9 ارکان پیپلز پارٹی میں جب کہ 4 ن لیگ میں شامل ہوئے۔ اکثریتی پارٹی کے لیے ایسے امیدوار من و سلوا ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف براہ راست اکثریتی پارٹی کے ارکان کی تعداد بڑھاتے ہیں بلکہ ان کی وجہ سے ریزرو سیٹ پر بھی اکثریتی پارٹی کی گرفت مضبوط ہو جاتی ہے ۔ پچھلے دو الیکشن میں آزاد امیدواروں نے ایسی پارٹیوں کا راستہ چنا جن کے پاس ان کے بغیر بھی حکومت بنانے کے لیے سیٹیں موجود تھیں۔ البتہ 2002 میں ق لیگ ان کے بغیر اکثریت نہیں لے سکتی تھی۔ کیا یہ آصف زرداری کی توقعات کے مطابق 2018 کے الیکشن میں حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں؟ 2013 میں آزاد امیدوار ہر پانچویں حلقے میں یاتو جیتے یا رنر اپ رہے ۔ اصل تعداد بتائی جائے تو 2013 کے الیکشن میں 56 جب کہ پچھلے 2 الیکشن میں بالترتیب 46 اور 40 آزاد امیدوار تھے۔ اس بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود حلقوں اور الیکٹیبلز کے آزاد امیدوار ہونے کا آپس میں کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ یہ حقائق مد نظر رکھیے کہ صرف ایسے دو حلقے تھے جہاں وہی آزاد امیدوار دوبارہ جیتا۔ سمینا بھروانا 2002 میں اور 2008 میں این اے 190 جھنگ 5 سے جیتیں جب کہ علی محمد مہر ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے این اے 201 گھوٹکی 2 میں جیت پائے۔ انہیں 2013 میں بھی کامیابی ملی لیکن تب وہ پی پی کے کینڈیڈیٹ تھے۔ بھروانہ کو
2013 میں ن لیگ کی کارکن کی حیثیت سے شکست ہوئی۔ اس کے علاوہ اسی صرف چار قومی سیٹیں ہیں جن میں آزاد امیدوار جیت پائے ہیں لیکن ہر بار جیتنے والا امیدوار مختلف تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ایسے بہت کم حلقے ہیں جہاں ہر بار آزاد امیدوار کے جیتنے کی امید کی جا سکتی ہے۔ کوئی الیکٹیبل بھی پارٹی ٹکٹ کے بغیر جیتنے کا زیادہ امکان نہیں دیکھ پا رہا۔ الیکٹیبلز آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینےسے قبل سیاسی صورتحال کا بغور جائزہ لیتےہیں۔ ان کے فیصلے کی کیا بنیاد ہوتی ہے؟ بڑھتی ہوئی عوامی رائے ان کے لیے اس طرح کے فیصلوں میں آسانی پیدا کرتی ہے ۔ عوام کے اندر ایک رائے بن جاتی ہے کہ فلاں پارٹی اس بار حکومت بنا رہیی ہے ۔ اسی پارٹی کے ٹکٹ الیکٹیبلز بھی لینے چل پڑتے ہیں۔ اگر نہ ملے تو پھر مجبوری انہیں آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنا پڑتا ہے۔ اگر ہوا کسی ایک طرف نہ خاص دباو کے ساتھ نہ چل رہی ہو تو تو پھر الیکٹیبل کسی پارٹی کے ٹکٹ لینے میں ہچکچاتے ہیں اور آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑنا بہتر سمجھتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ان کے پاس ایک واضح وجہ ہے کہ وہ کسی پارٹی مین شامل ہوں کیونکہ ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آنے کے امکانات ہیں اس لیے کوئی بھی الیکٹیبل نہیں چاہے گا کہ وہ اس موقع کو کھو دے۔ کچھ پارٹیوں کے اندونی تنازعات کی وجہ سے مسائل بھی پیش آ رہے ہیں ۔ اپوزیشن میں بھی اہم سیٹیں بک ہو چکی ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے بھی الیکٹیبلز کی صورتحال غیر یقینی بن چکی ہے۔ کچھ حلقوں کے آپس میں مل جانے کی وجہ سے ای ہی پارٹی کے لوگ آپس میں مخالف بننے پر بھی مجبور ہو چکے ہیں۔ کیونکہ پارٹی صرف ایک امیدوار کو ہی ٹکٹ جاری کر سکتی ہے۔ دوسرے کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے ہی الیکشن لڑنا پڑے گا۔ یہ رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں کہ ن لیگ کے الیکٹیبلز کو طاقت ور ذرائع مجبور
کر رہے ہیں کہ وہ پارٹی بدل لیں۔ حکومتی پارٹی کی الیکشن مہم مذہبی پارٹی کی طرف سے شدت پسندی کا بھی شکار ہونے کے خطرے سے دو چار ہے۔ اس لیے بہت ممکن ہے کہ بہت سے ن لیگی الیکٹیبلز آزاد امیدوار کی حیثیت سے ہی لڑنے میں عافیت جانیں۔ اگرچہ الیکٹیبلز ایکسپرٹ حضرات کی پیشین گوئیوں پر نظر رکھتے ہیں اور خفیہ رہنمائی بھی لیتے ہیٰں لیکن اس کے باوجود وہ ہوا کے رخ کو دیکھنا نہیں بھولتے۔ ان کا آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑنا پہلا انتخاب نہیں ہوتا کیونکہ پارٹی ووٹ کھو دینے سے ان کی جیت کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ 2013 میں آزاد امیدواروں کی جیت میں ووٹ کا تناسب 13201 تھا جب کہ جن لوگون نے پارٹی کے ساتھ کھڑے ہو کر الیکشن لڑا ان کی جیت کا مارجن 32728 تھا۔ اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ آزاد امیدوار کےلیے جیتنا پارٹی امیدوار کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک الیکٹیبل چاہے آزادانہ لڑے یا پارٹی ٹکٹ پر لڑے، 2002 کے الیکشن میں اس کا کوئی اثر نہ تھا لیکن اس کے بعد الیکشن میں پارٹی سیاست میں میچورٹی آئی اور پارٹی ٹیکٹ پر لڑنے سے واضح فرق سامنے آیا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس بار پنجاب میں الیکشن مہم سب سے زیادہ سخت ہو گی اور آزاد امیدواروں کےلیے میدان زیادہ سخت ہو گا۔ ایسا ممکن ہے کہ بہت سے الکٹیبل آزاد انتخابات لڑنے پر مجبور ہوں لیکن اس کا جیتنا یقینی نہیں ہو گا اس طرح آصف زرداری کی ڈیل کرنے کی قابلیت جو انہوں نے سینٹ الیکشن میں آزمائی تھی وہ اگلی حکومت بننے میں شاید کار گر ثابت نہ ہو پائے

source : https://www.dawn.com/news/1408637/independents-as-kingmakers

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *