لاہور میں سکھوں کا گاؤں

ہارون خالد

ڈیرا چاہال اس گاؤں کا نام ہے جہاں بلکل وسط میں  ایک تاریخی گردوارا موجود ہے اور اسے سب اطراف سے گھیرے میں کر لیا گیا ہے۔  ڈسٹرکٹ لاہور میں موجود بیدیاں روڈ  کبھی امرتسر  سے جڑی ہوئی تھی  اور اسے بہت عرصی قبل امرتسر کو ہلچل والے شہر لاہور سے الگ کر دیا گیا تھا۔
لیکن ڈفینس ہاؤسنگ اتھارٹی  کے یہاں پھیلے علاقے میں ڈیرا چاہال کا زرعی علاقہ آتا ہے اور اس کے ساتھ دوسرے گاؤں بھی  جن میں سے کئی گاؤں برسوں  پہلے کے ہیں۔ بعدازاں اس علاقے میں ہونے والی ترقی کے باعث 2011 میں گردواراہ  میں روشنیاں بھر دی گئیں۔  جب گلاب سنگھ  جو کہ ایک پاکستانی  ٹریفک پولیس کے ساتھ  کام کرتے تھے انہوں نے  آصف ہاشمی کے خلاف ایک رپورٹ درج کروائی جو ایک اویکوی ٹرسٹ بورڈ کے چیف تھے۔ انہوں نے آصف  پر الزام لگایا تھا کہ اآصف نے  پراپرٹی ڈویلپرز کو غیر قانونی طور پر  گردوارہ   بیچ ڈالا ہے۔  1960 میں ایک گورنمنٹ بورڈ کا ارتقا ہوا تھا جن کے ذمے ان غیر مسلم پراپرٹیوں کو  محفوظ اور قائم رکھنا تھا،   جو پارٹیشن کے دوران  الگ الگ ہو گئے تھے۔  جنوری میں سپریم کورٹ میں ہاشمی کا جرم ثابت ہو گیا۔ گردوارہ ، پاکستان میں  سکھوں کا ایک اہم عبادت گاہ  ہے۔  یہ اس جگہ  موجود ہے
جہاں ان کے پہلے سکھ گرو، گرو نانک کا گھر تھا ۔  یہ مانا جاتا ہے کہ بی بی نانکی جو کہ گرو نانک کی چھوٹی بہن تھیں وہ یہاں پیدا ہوئی تھیں۔  اس لیے اس گردوارے کو گردوارہ بیبی نانکی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ گاؤن کے بلکل بیچ میں ہے اس لیے اس کا گنبد دور سے بھی نظر آتا ہے،۔ 1947
میں الگ ہونے کے بعد  اور کئی مزاروں ،  مندروں اور تاریخی  عمارتوں کی طرح خراب ہو رہا تھا۔  1990 کے وسط میں پرائم منسٹر معراج خالد کے حکم سے اسے دوبارہ بنایا گیا۔ بعد ازاں یہ گردوارہ سکھوں کی زیارت کے لئے کھلوا دیا گیا۔  اور بہت سے لوگ ہندستان سے خاص طور پر اپنے تہوار منانے یہاں آتے ہیں۔ مہربان کی کہانی  ایک خاص تاریخی  روایت کے تحت گرو نانک تلویندی  جسے آج کل ننکانہ   صاحب میں نہیں بلکہ ڈیروہ چاہال میں پیدا ہوئے تھے۔   یہ  تفصیل مہربان کی لکھی کہانی جنم ساکھیس میں لکھی ہوی ہے۔  رسمی سکھ کتب میں پریتھی چاند اور اس کے پیروکاروں کو مینا کے نام سے پکارا جاتا ہے جو دھوکے با زتھے اور انہوں نے گرو نانک کے چھوٹے بھائی  سے یہ روحانی گدی چھیننے کی کوشش کی تھی۔ اپنے چھوٹے بھائی کو انہوں نے اپنا گدی نشین بنایا تھا۔ اور بعد میں یہ بھائی گرو ارجن دیو کے نام سے جانے گئے۔  پریتھی چاند نے  گرو ارجن دیو کو چیلنج کیا تھا۔  بہت سے واقعات بھی تحریری طور پر ملتے ہیں جن میں لکھا ہے کہ کیسے کئی بار انہوں نے گرو ارجن کے بیٹے ہرگوبند کو بھی  مارنے کی بھی کوششیں کیں جو چھٹے گرو بنے۔ کچھ تو 1606 میں مغل حکمرانوں پر بھی پریتھی چاند کے ساتھ مل کر  ان کو پھانسی دینے کا الزام لگاتے ہیں ۔  میناس نے سیکھ گرو کے لئے گرو ارجن دیو کی زندگی میں بھی اور بعد میں بھی بہت ساری مشکلات   پیدا کیں۔ رمداس پر یعنی امرتسر سے نکال دینے کے بعد  پریتھی چاند ہائیر نام کے گاؤں میں جا بسے۔  جو ڈیرا چاہال سے کچھ ہی میلوں کے فاصلے پر تھا۔  یہاں انہوں نے اپنے مخالف ہرمندائیر صاحب  کی مرضی  کے خلاف ایک مزار قائم کیا۔ جسے گولڈن ٹیمپل کہتے ہیں۔  اس مزار کی بچی کھچی بچا  ہوئی عمارت آج بھی بیدیاں روڈ پر  نظر آتی ہے ۔  جب پریتھی چاند ناکا  ہو گئے تو  ان کے بیڑے مہربان اس مخالف تحریک کے صدر بن گئے۔
ان کی ایک بہت بڑی کامیابی وہ تحریر ہے جسے لکھنے میں وہ کامیاب ہو گئے اور اس کو گروہ نانک کی  جنم ساکھی کہا جاتا ہے۔ ان کی زندگی کی کہانی ان کے معجزوں کی تفصیل بیان کر کے بتائی گئی۔  سابق سکھ گرو  نے مریتھی اور مہربان کی کہانی میں  اہم کردار ادا کیا اور گرونانک  کی میراث کو درست     کیا۔ مہربان کی تحریر پہلے گروہ تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے محمد ﷺ کے  بارے میں بھی کتابیں تحریر کیں اور ہندو بھگوانوں پر بھی بہت لکھا جن میں رام بھی شامل ہیں۔  ان  میں سے کچھ پہلی تحریریں سکھ کلچر   کی عکاسی کرتی ہیں۔ سکھ اتھاریٹیز  کی روایت کے تحت  گرو ارجن دیو نے عادی گرانتھ کی تدوین شروع کی۔ جو سکھ صحیفوں کی پہلے مذہبی کتاب تھی ۔ ایسا انہوں نے  مہربان کی تحریروں
کے ردعمل میں  کیاتاکہ مہربان گرو نانک کی میراث کو اپنا  کہنے کا دعوی نہ کر لے ۔ انیسویں صدی کی تحریر  تجویز کرتی ہے کہ  میناز نے رمداس یعنی امرتسر پر ہاوی ہونا شروع کردیا تھا اور قابض ہونے کے بعد   مہربان کے بیٹے ہارجی تک شہر پر  ان کا اثرورسوخ رہا۔ اس وقت میناس تحریک کی اہمیت کم ہوتے ہوتے گم ہی ہو چکی تھی اور گرو گویند سنگھ  جو دسویں اور آخری گروہ ہیں  نے انہیں رامداس پور سے بلکل بے دخل کر دیا۔ میناس تحریک اس طرح کئی گروہوں میں بٹ گئی اور  ان کے پیروکار انیسویں صدی کے قریب سیکھ کمیونٹی کی سرحدوں میں شامل ہونے لگے۔ متنوع سکھ مذہبی تحریکیں اگرچہ سکھ لٹریچر کے مطابق گرو ارجن دیو اور پریتی چند کے تعلقات  ولن طرز کے تھے لیکن کچھ دوسرے ذرائع کے مطابق ایسی کوئی چیز سکھ تاریخ کا حصہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک ذریعہ میں بتایا گیا ہے کہ گرو ہرگوبند مہربان سے گوالیور جیل سے آزادی کے بعد ملے  جہاں انہیں جہانگیر بادشاہ نے گرفتار کروایا تھا ۔ انہوں نے مہربان سے پریتھی چند کی وفات پر اظہار تعزیت کیا۔ بعد میں دونوں اکھٹے ہرمندر صاحب میں داخل ہوئے۔  ایک اور عقیدہ یہ ہے کہ گرو تیغ بہادر جو 9ویں سکھ گرو تھے کو ھرمندر صاحب کے باہر اس وقت گرفتار کیا گیا جب یہ میناوں کے قبضہ میں تھا۔ گرو اس کے باہر جہان اب گردوارہ تھرا صاحب آباد ہے  وہاں کھڑے انتظار کرتے رہے۔ ایک اور روایت اس کو رد کرتی ہے ۔ اس کے مطابق گرو تیغ بہادر تھرا صاحب پر  اپنی مرضی سے بیٹھے رہے تا کہ  وہ ہرجی اور اس کے بیٹے سے مل سکیں۔ 1699 میں گروگوبند سنگھ نے جب خالصہ کی بنیاد رکھی  تو میناوں کو پنج میل کا نام دیا گیا ۔ یہ ایسا گروپ تھا جس سے خالصہ کو دور رہنے کی ہدایت تھی۔ لیکن تاریخ میں ایسے شواہد موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہےکہ کچھ ایسے کارکنان اس تحریک میں تھے جنہوں نے مہاراجا رنجیت سنگھ کی سیاسی کامیابی میں کردار ادا کیا تھا۔ یہمختلف مذہبی تحاریک سکھ کمیونٹی کا حصہ 19ویں صدی میں بھی رہیں۔
اس طرح جب خالصہ تنظیم بنائی جا رہی تھی تب بھی کچھ گروپ سکھ فولڈ کا لازمی حصہ مانے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر ہزاروں نانک پنتھی ہندو  آج بھی سندھ میں موجود ہیں۔ ایک اور مثال صاحب سنگھ بیدی کے پیروکاروں کی سندھ میں موجودگی ہے جو کہ گرو نانک کی اولاد میں سے ہیں جنہوں نے رنجیب سنگھ کے ماتھے پر تلک لگایا تھا۔ بیدی کی اولاد بیدیاں گاوں میں بس گئی جو کہ ڈیرہ چہال کے قریب واقع ہے  اور جن کی وجہ سے گاوں اور روڈ کو یہ نام ملا ہے۔ 19ویں صدی کے اختتام کے قریب سکھ کمیونٹی میں اتحاد میں مضبوطی آئی  ، خاص طور پر اس وقت جب سنگھ بابا موومنٹ کا آغاز ہوا  جو کہ آریا سماج موومنٹ سے ملتی جلتی تھی ۔ یہ موومنٹ سکھ ازم کی پاکیزگی کی تبلیغ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ سکھوں اور مسلمانوں کے بیچ ایک تلخی کو باقی رکھنے کے لیے تاریخ کو مسخ کیا گیا اور ہندو رسموں کو ترویج دی گئی۔ اس وقت کی کمیونل شناخت کے دور میں اپنی علیحدہ شناخت بنانا بہت ضروری تھا۔ اسی وجہ سے اگلے چند سالوں میں بہت سی سکھ موومنٹس کا آغاز ہوا جنہیں پھر ایک ہی شناخت کے تحت یکجا کر دیا گیا۔ گردوارہ ڈیرا چہال  اور ہیر اور بیدیاں گاوں اسی ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔

source : https://www.dawn.com/news/1408696/this-village-near-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *