روزہ خور تنظیم

قمر بخاری
دفتر کا دروازہ کھلا تو ایک پیٹ دھماکے دار انٹری کے ساتھ نمودار ہوا تو اس کے پیچھے ایک بڑی مونچھوں اور خوفناک خدوخال کا حامل چہرہ بھی تھا۔ علیک سلیک کے بعد اپنا تعارف کراتے ہوئے کہنے لگے ناچیز کو شرافت خان کہتے ہیں۔ ان کے جثے کو دیکھ کر لگتا بھی تھا کہ شرافت خوب پھیل رہی ہے۔ ان کے ہاتھ میں ایک مقدس پمفلٹ تھا جسے وہ بار بار چومتے اور عقیدت سے اپنے سینے سے لگاتے تھے۔ آتے ہی انہوں نے ٹھنڈے پانی کی فرمائش کی۔ میں نے یاد دلایا کہ رمضان کا مہینہ ہے لہٰذا ٹھنڈا پانی یہاں دستیاب نہیں۔ مکروہ ہنسی چہرے پر سجاتے ہوئے بولے آپ کے بارے میں پوری تحقیق کر کے آیا ہوں کہ آپ کتنے بڑے روزہ دار ہیں۔ ہمیں ان کی بے تکلفی پسند نہیں آئی تاہم فریج سے وہ خاص ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر ان کے سامنے رکھ دی جو ہم نے روزوں کے مہینے میں کلی کرنے کے لئے رکھی ہوتی ہے۔ یہ الگ بات کہ ہم نے کلی کے لئے منہ میں ڈالا گیا پانی کبھی واش بیسن میں واپس ڈالنے کا تردد نہیں کیا۔ پانی کی پوری بوتل ایک ہی گھونٹ میں غٹاغٹ حلق سے اتارنے کے بعد ایک زوردار کھٹی ڈکار مار کر فرمانے لگے میں آپ کو اپنے حلقہ شرافت میں لانے کے لئے حاضر ہوا ہوں حالانکہ ان کی شخصیت واضح طور پر شرافت کی بجائے شر اور آفت کے حسین امتزاج کی حامل دکھائی دیتی تھی۔ اپنے حلقہ شرافت کی وضاحت کرتے ہوئے کہنے لگے وہ ایک سرکاری شعبے میں خدمت خلق کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور اس خدمت کے لئے چونکہ بہت زیادہ بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے اس لئے روزے رکھنا ان کے بس میں نہیں۔ شرافت خان نے اس مقصد کے لئے ایک ’’روزہ خور تنظیم‘‘ (رخت) بھی قائم کر رکھی ہے جس کی تاحیات چیئرمین شپ کا بوجھ انہوں نے خود ہی اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ ہمارے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ اس تنظیم میں وہ تمام سرکاری اہلکار شامل ہیں جو معمولی سا چائے پانی لے کر لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔ کچھ ناہنجار لوگ چائے پانی کو رشوت کا نام بھی دیتے ہیں لیکن ہم لوگ چونکہ نیک نیتی سے یہ سارا کام مشن کے تحت کرتے ہیں اس لئے ہمیں لوگوں کی باتوں کی ذرا بھی پرواہ نہیں۔ شرافت نے بتایا کہ ان کی تنظیم روزہ خوری کے حوالے سے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرتی ہے تاکہ اخلاقی اور قانونی لحاظ سے کسی کے اعتراض کی گنجائش نہ رہے۔ اس مقصد کے لئے وہ تمام ممبران کے لئے میڈیکل سرٹیفکیٹ رمضان کے آغاز سے قبل ہی بنوا لیتی ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آ سکے۔ خدمت خلق کی وضاحت کرتے ہوئے کہنے لگے کہ لوگوں کے لئے یہ خدمت خلق ہے لیکن درحقیقت ہمارے لئے یہ خدمت ’’حلق‘‘ ہے۔ ہم اس مہینے میں لوگوں سے نقدی کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی چیزیں بھی وصول کرنے سے احتراز نہیں کرتے کیونکہ لوگ یہ سب کچھ ثواب کی نیت سے کرتے ہیں۔ شرافت خان نے بتایا کہ رخت کے ممبران کے لئے کھانے پینے کا وافر انتظام کیا جاتا ہے تاکہ تمام ممبران بلاخوف و خطر روزہ خوری کی سہولت سے پوری طرح لطف اندوز ہو سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری تنظیم میں شرعی عذر کے حوالے سے روزہ نہ رکھنے والے شامل نہیں کئے جاتے البتہ ’’شّری‘‘ عذر والوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کہنے لگے شر تو آپ کا بھی بہت ہے اس لئے آپ کو بھی اس تنظیم میں شامل کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ شرافت خان کی تنظیم کا سلوگن بڑا دلچسپ ہے
یہی ہے رختِ سفر میرے کارواں کیلئے
شرافت کا کہنا ہے کہ ہم سب اپنے وسائل بڑھانے کے لئے کوششیں کرتے ہیں اس مقصد کے لئے لوگوں کو مسائل میں گھیر کر انہیں سائل بنا کر ساری زندگی چوکوں چوراہوں میں مانگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ رخت کے ممبران رمضان کے مہینے میں چائے پانی کی بجائے افطاری کے نام پر لوگوں سے نذرنیاز وصول کرتے ہیں اور ’’سی پیک‘‘ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ سی پیک سے مراد کھانے پینے کے وہ پیکٹ ہیں جن میں سی والی چیزیں پیک کی ہوتی ہیں مثلاً چاکلیٹ، کیک اور کڑاہی گوشت وغیرہ۔ موصوف پھر پمفلٹ چومنے لگ گئے جب ہم نے اس مقدس پمفلٹ کے بارے میں دریافت کیا تو کہنے لگے کہ یہ ممتاز مزاح نگار گل نوخیز اختر کی مشہور زمانہ تحریر ’’روزہ خوروں کی نشانیاں‘‘ ہے جس میں بہت خوبصورت انداز میں انہوں نے کامیاب روزہ خوری کی لازوال تراکیب شامل کی ہیں۔ اپنے پھیلاؤ کے بارے میں کہنے لگے کہ جغرافیائی لحاظ سے ان کا جسم تجاوزات کے زمرے میں آتا ہے تاہم معالج کی ہدایت پر خود کو محدود رکھنے کے لئے ’’چ‘‘ والی چیزوں مثلاً چینی، چاول، چکنائی اور چاکلیٹ وغیرہ سے پرہیز کے لئے خود کو تیار کر لیا ہے اب تو چہلم کی تقریبات کا بھی بائیکاٹ کر دیا ہے جبکہ اپنی اہلیہ کو میں پیار سے چندہ کہا کرتا تھا اس لئے آج کل اس سے بھی پرہیز چل رہا ہے۔ شرافت کا کہنا ہے کہ انسان کو چوری کی بجائے چھینازوری پر توجہ دینی چاہیے۔ شرافت کے خیال میں لوگوں کو اتنا تنگ کرنا چاہیے کہ وہ آپ کے لئے وسائل کا منہ کھول دیں اس لئے شرافت کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاتھ چڑھنے والے سائل اکثر ذہنی دباؤ کی وجہ سے دل کی تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
روزہ خور تنظیم کے اراکین روزے سے اس لئے بھی پرہیز کرتے ہیں کہ ان کے ہاتھ پاؤں، آنکھیں اور نیت سب کے سب اس معیار پر پورا نہیں اترتے جو کہ روزہ دار کے لئے لازم قرار دی گئی ہیں۔ ہم نے شرافت کو ان کی تنظیم کا نام رخت سے کرخت رکھنے کا مشورہ دے کر انہیں احترام سے رخصت کر دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *