آئیے مزید سچ بولیں !

غدارسیزن جب سے شروع ہوا ہے ،ہر طرف’’ محب الوطنوں‘‘ کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ ہر ایک کی زبان پر صرف سچ ہی سچ ہے۔ ا س عالم میں جی میں آیا ہے جھوٹ پر لعنت بھیج کر صرف سچ بولے جائیں ۔ آئیے ذرا شروع سے شروع کرتے ہیں ! اسلام میں کیونکہ یہ حکم دیا ہے کہ اپنی شناخت علیحدہ بناؤ، دوسرے مذاہب سے ہر پہلو سے مختلف نظر آؤ، اس کو تبلیغ کے بجائے، تلوار سے پھیلاؤ یعنی دل نہیں ، سرفتح کرو ، ا س لیے ہم نے دو قومی نظریہ ایجاد کیا۔تاکہ ہندووں کی ایسی تیسی کرنے کے بعد انھیں مسلمان کیا جائے۔ آخر ہم نے ہندستان میں اپنی ایک ہزار برس کی حکومت میں انھیں تبلیغ ہی تو کی ہے اور وہ ناہنجار مسلمان نہ ہوئے ، اس لیے اب انھیں پاکستان بنا کر سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔  پاکستان کیونکہ اسلام کے نام پر بنا تھا، اس لیے مسلمان دنیا کے جس مرضی خطے کا ہو ، ہم اسے اپنے ملک کی قومیت دے دیتے ہیں ۔ بنگالی بہاری، اور افغانی پٹھان اس کی روشن مثال ہیں ۔
* مسلمان کیونکہ منافق ہوتے ہیں ، اس لیے خدشہ تھا کہ وہ عملی زندگی میں لاکھ اسلام کا دم بھریں ، لیکن اجتماعی اور سیاسی معاملے میں ضرور لادین ہوں گے، اس لیے ان کی ا س منافقت کو لگام دینے کے لیے قرارداد مقاصد پاس کی ۔ ویسے بھی جب جناح صاحب نے جوگندر ناتھ منڈل جیسے شودر کو وزیر قانون اور کافروں سے بھی بڑے کافر سر ظفراللہ کو وزیرخارجہ بنا دیا اور پھر کچھ کسر رہ گئی تھی تواسمبلی کے پہلے اجلاس میں وہ منحوس تقریر کر ڈالی جس میں موصوف نے برملا کہا کہ مذہبی تفریق کے بغیر سب شہریوں کے حقوق برابر ہوں گے ۔ پاکستانی ہونے کے اعتبار سے اب نہ کوئی ہندو ، ہندو ہے نہ مسلمان، مسلمان۔ اگر اسلامی تاریخ کے پہلے مسلم اینکر اوریا مقبول جان اور پہلے مجاہد دفاعی تجزیہ کار زید حامد ہوتے تو جناح کے گریبان پر ہاتھ ڈال کر پوچھتے کہ ابے دین سے پیدل لیڈر ، یہ دوقومی نظریے کی تلاوت کیا اورنگ زیب عالمگیر کی روح کو بخشوانے کے لیے کرتے تھے ؟  قدرت اللہ شہاب جیسے ’گجے پیروں ‘ کی دعاؤں کے باوجود جب ملٹری اورسول بیو روکریسی کی وجہ سے تخت کے لیے موزیکل چیئر نامی کھیل نہ رک کاتو جنرل ایوب خاں نے کلمہ طیبہ بلند کرتے ہوئے ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کر دیا۔ تب پاکستان کے پہلے ’محبِ وطن ‘ لیڈر کو یہ احساس ہوا کہ یہ جمہوریت وغیرہ کی عیاشی کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے ۔ا س کے لیے عوام کا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے ۔چنانچہ جب تک یہ کام نہیں ہوتا ، حکومت کا استرا ’بلڈی سولین بندروں‘ کو تھمانے کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا ۔ اور نہ ہی برسوں کی شہنشاہی کی وجہ سے اس کا کوئی کلچر یہاں فروغ پا سکا ہے ۔ محمد بن قاسم سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک ، سب ’ ہیرو ورشپ‘ کی کہانی ہے ۔اب یک دم جمہوریت کہاں سے آجائے گی؟ یہ جناح صاحب کوذرا سی اس کی لٹک تھی ۔ اور ان کی باقیات ان کی بہن ہے مگر مزاجاً فاطمہ جناح بھی جھانسی کی رانی ہے ۔ ا س کاعلاج ہے ۔پراپوگنڈا !اور سب سے بڑا الزام ہے کرپشن کا ۔ اور پراپوگنڈا کی سائنس یہ ہے کہ اسے تواتر سے کیا جائے ۔ اتنا کیا جائے کہ ملک کے درودیوار وہی کہانی سنائیں جو ہم سنانا چاہتے ہیں ۔ جمہوری بیماری کا دوسرا علاج ون یونٹ والا وفاقی آئین بنا کر کیا ۔ انگریزوں نے تو لائل پور کا گھنٹا گھر بنایا تھا، ہم نے وہی تجربہ آئین بنا کر کیا، بس گھنٹا گھر کی جگہ ایوب خاں کو کھڑا کر دیا۔ مستقبل کے لیے یہ پالیسی بنائی گئی کہ بلڈی سویلین سیاست دانوں کی نرسری اگائی جائے ۔ جو پودا ذرا جان والا دکھتا ہو، اسے اپنے نگرانی میں پروان چڑھایا جائے ۔ بھٹو صاحب اس کا پہلا تجریہ تھے۔لیکن وہ بہت چالاک نکلا۔آپریشن جبرالٹر کے مشورے میں شامل تھا، داؤ الٹا پڑ گیا تو مکر گیا۔ اس نے بہت ناجائز فائدہ اٹھایا۔اسی لیے اس کے گرد لال دائرہ لگا دیا ۔  65ء کی جنگ کے بعد ساری ترقی بر باد ہوگئی تو اس کا علاج پراپوگنڈے سے کر دیا کہ دشمن کو تہس نہس کر دیا ہے ۔ اور اس نے جو منہ اندھیرے ہم پر وار کیا تھا ، اسے اس کا خوب مزا چکھایا ہے ۔ اس بیانیے کو قومی بیانیہ بنا دیا گیا۔ برا ہو بعض پرانے بوٹوں اور پلپلے منہ والے بیورو کریٹس کا، سارا بھانڈا پھوڑ دیا کہ یہ توایک ’ مس ایڈونچر ‘ تھا ، جس نے پاکستان کو صنعتی ایشین ٹائیگر سے دوبارہ بکری بنا دیا ۔لیکن اللہ کا شکر ہے عام عوام کو اس’ جھوٹ ‘کی ہوا بھی نہ لگنے دی۔
* ناہنجار بھٹو نے تاشقند سے واپسی پر ایسا دھوبی پٹخا دیاکہ بالآخر ایوب خاں جیسے محب وطن کو استعفا دینا پڑا ،اس نے ساتھ ہی ایسی سیاسی پارٹی بنائی ، جس نے بعد میں یحییٰ کو بہت تنگ کیا۔ یہی وہ پارٹی ہے جس نے بعد میں پاکستان کو جمہوریت کی بیماری لگانے میں سب سے نمایاں کام کیا۔ حالانکہ ایوب خاں کو مہلت ملتی تو اس کو بھی اسی غداری کے الزام بہت پہلے پھانسی پر چڑھا دیا جاتا جس کا الزام آج کل نواز شریف پر لگا یا جا رہا ہے ۔ کیا یہ حقیقت نہیں ’’تاشقند لیکس‘‘ ڈان لیکس سے کسی طرح کم نہیں تھیں ؟  فضول میں کہا جاتا ہے کہ ایوب خاں نے یحییٰ خاں کے آگے ہتھیار ڈ الے اور ایک انتہائی نالائق جرنیل کے ہاتھ پاکستان کا مستقبل تھما دیا۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ اس نے پہلے منصفانہ انتخابات کرائے ۔ کیونکہ اس کے نتائج تباہ کن نکلے ،اس لئے فیصلہ کیا گیا آئندہ یہ غلطی کبھی نہیں کرنی ۔ بھٹو منحوس کو اس کی ناگزیر باری دیناپڑی ۔ گھر سے ایک ہزارمیل کی دوری پر لڑنا کوئی آسان کام تھا؟اور یہ بنگالی کبھی اس قابل نہیں رہے تھے کہ ان کو حکومت دی جاتی۔ذرا ان کا قد کاٹھ دیکھا ہے ؟ کہا جاتا ہے کہ ان کو فوج میں کوئی اہم عہدہ نہیں دیا گیا۔ ان کا کوئی فرد بھی عام سپاہی بننے کے قابل نہیں ہوتا۔ اسی لیے بختیار خلجی نے چند سواروں کی مدد سے بنگال پر فتح پالی تھی۔ان یر کانی بنگالیوں سے جو سلوک کیا گیا ، وہ اسی کے لائق تھے۔ رہی بات شکست کی تو ہمارا کسی نے 65ء کی جنگ پر کیا اکھاڑ لیا تھا جو ا س پر اکھاڑتا۔ جیت ہار تو ہوتی ہی رہتی ہے ، چاہے کھیل کامیدان ہو یا جنگ کا ۔ ایک نے تو ہارنا ہی ہوتا ہے ۔ اور حمودالرحمان کمیشن کی بات کرتے ہیں ۔۔۔ ہوا کیا ؟ کمیشن کی رپورٹ سامنے آئی ۔ اور جتنی آئی اس کے آنے سے پہلے اس کمیشن کو بنانے والا ذلیل ہو کر پھانسی پر لٹک گیا۔ ان گدھوں کو آج تک عقل نہ آئی کہ اس طرح کے کمیشن پانی میں مدھانی ہوتے ہیں ۔ کوئی بتائے گا کہ اوجڑی کیمپ ،ایبٹ آباد میں اسامہ کے مسئلے پر بنا کمیشن کسی نتیجے پر پہنچا؟ * اسد درانی نے اپنے انڈین یار دولت کے ساتھ جو کتاب مل کر لکھی ہے ، اس پر تو ابھی بڑی خاک اڑنی ہے ۔ لیکن دیکھ لیجیے گا ، کچھ نہیں ہوگا۔ ذرا سو چیے ،ا س طرح کاکام کوئی سولین کرتا تو اس کی کیاکھال نہ اتار لی جاتی؟وجہ صرف یہ ہے کہ غدار صرف سولین ہی ہو سکتا ہے کیونکہ وہ بلڈی ہوتا ہے ، باقی بھلا ملک کا فوجی بھی غدار ہو سکتا ہے؟ کبھی سوچیے گا بھی نہیں ! ایک حقیقت اور جان لیں۔ پاکستان دوقومی نظریے پر بنا ہے ۔ اور ان دو قوموں میں ایک مسلمان ہے، اور سب سے مضبوط مسلمان فوجی ہوتا ہے ۔ وہ ایوب ہو، جس نے غلام احمد پرویز ہویا احمدی سب کی سرکاری سرپرستی کی ،( اور مولوی جیسا خونخوار بھی ا س کا بال بیکا نہ کر سکا۔) یحییٰ ہو جو ایک وقت میں کئی کئی نازنینوں اور آنٹیوں پر اپنی مردانگی کے جھنڈے گاڑنے کا عملی مظاہرہ کرتا تھا ، ضیاء ہو جو ٹی وی کی خواتین کو دوپٹے اوڑھاتا اور غیر ملکیوں کے لیے شراب و کباب کی محفلیں سجاتا تھا یا مشرف ہو جو ہر فن مولا تھا ۔۔۔۔مسلمان، انتہائی پکا مسلمان ہی ہوتا ہے ۔کیونکہ قوم کے وسیع تر مفاد کے لیے سب کچھ جائز ہوتا ہے۔ اس لیے اصول یاد رکھیں :یہ ملک ان کے لیے بنا ہے ، کسی اور کے لیے نہیں ۔ احتساب کی بات بھی اچھی طرح سمجھ لیں ۔ ایوب کی حکومت ختم ہوئی ، ملک کس حالت
میں تھا ؟ یحییٰ گیا ، کیا حال تھا ؟ ضیا بے چارا ہوا میں پھٹا ، کوئی والی وارث بچا ؟ پرویز مشرف گیا، خود کہہ کر گیا کہ اب اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے ۔
لوڈشیڈنگ کا عذاب آگیا ،( جو اس نواز شریف جیسے نااہل اور کرپٹ وزیر اعظم نے پتا نہیں کس کس سے قرضے لے کر ختم کی) دھماکوں کا وبال آگیا ۔کسی نے آج تک سوال اٹھایا کہ ایسا ان ہی کے ادوار مقدسہ کے آخر میں کیوں ہوا ؟ اس لیے اصول یاد رکھیں : احتساب صرف انتخابی وزیراعظم ہی کاہوگا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ابھی تک کوئی مائی کا لال اپنی مدت پوری نہیں کر کا ۔بے ایمان کہیں کے!! ابھی اور بھی متعدد سچی کہانیاں ہیں ، لیکن ابھی انھی پر اکتفا کریں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *