ملک میں نئے صوبے بننے ہیں تو اس کیلئے قومی اتفاق رائے ہونا چاہیے، وزیراعظم

وزیراعظم وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کا نعرہ لگانے والے مشرف کے دائیں بائیں بیٹھے تھے،اس وقت صوبہ کیوں نہیں بنایا؟مزید صوبے ضرور بنیں لیکن اتفاق رائے سے بنیں۔

موٹر وے کے سکھر شجاع آباد سیکشن کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دھرنے دیے گئے اور عدالتوں میں گھیسٹا گیا لیکن ہم نے کسی امپائر کا انتظار نہیں کیا، ترقی کا سفرجاری رکھا۔

انہوں نے کہا کہ آج پورے پاکستان میں کہیں بھی جائیں آپ کو مسلم لیگ ن کے کام نظرآئیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہن لیگ کی حکومت نے مشکل وقت میں کام کر کے دکھایا اور صرف منصوبے شروع ہی نہیں کئے مکمل بھی کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام حکومتوں کے پاس وسائل تھے، لیکن کمی سوچ اور نیت کی تھی،پرویزمشرف اور آصف زرداری نے اپنے دور میں بجلی کا کوئی کارخانہ نہیں لگایا،کیا دس سال رہنےوالی آمریت کے پاس بجٹ نہیں تھا،ہماری حکومت نے اتنی بجلی پیدا کی کہ اگلے بیس سال تک ملک میں بجلی کی کمی نہیں ہو گی ۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ہونے والے کام 65 سال میں نہیں ہوئے، موجودہ حکومت نے دس ہزار چار سو میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں صوبہ پنجاب کو سب سے زیادہ پیسہ ملتا ہے حالانکہ حقیقیت یہ ہے کہ سب سے کم بجٹ صوبہ پنجاب کا ہے اور اس میں ہی شہباز شریف نے سڑکوں کا جال بچھا کر دکھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایسا کام کیا ہے جو آج کے لیے بھی ہے اور آنے والے کل کے لیے بھی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر ترقی کسی صوبے میں ہوئی تو وہ پنجاب میں ہوئی جسے عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف وہ سیاست ہے جس کے پلیٹ فارم سے گالی، الزامات اور کسی خیر کی توقع نہیں ہے جب کہ دوسری طرف مسلم لیگ ن ملک کی ترقی ،عوام کی خدمت کا پلیٹ فارم ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *