رمضان، قرآن اور ہم

روزہ ایک ایسی ریاضت کا نام ہے جو انسان کی نفسانی خواہشات و دیگر تقاضوں کو دبانے کی عادت ڈالتا ہے۔

پہلی امتوں کو بھی روزے کا حکم دیا گیا تھا۔ جب کہ ان کے روزوں کے احکامات اور مدت میں خاص حالات و ضروریات کے لحاظ سے کچھ فرق بھی تھا۔ مگر امت محمدیؐ کے لیے سال میں صرف ایک ماہ کے روزے فرض کیے جو انسان کے لیے انتہائی معتدل اور مناسب وقت ہے۔

اگر اس وقت میں کمی یا زیادتی کرکے دیکھا جائے تو بھی انسان وہ مقاصد حاصل نہیں کرسکتا جو طلوع سحر سے غروب آفتاب کے درمیان اپنے نفس کی تربیت اور ریاضت کرکے حاصل کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان اس مبارک ماہ میں اپنے رب کی خوش نودی کو حاصل کرنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر چل کر سحر و افطار، عبادت و ریاضت کا خصوصی اہتمام کرتے ہوئے سعادت و نیک بختی کے راستے پر گام زن ہیں۔

رسالت مآب ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے : ’’ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنّات جکڑ دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے سارے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی دروازہ بھی کھلا نہیں رہتا۔ اور جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، اور اللہ کا منادی پکارتا ہے کہ اے خیر اور نیکی کے طالب قدم بڑھا کے آگے آ، اور اے بدی اور بدکاری کے شائق رک، آگے نہ آ! اور اللہ کی طرف سے بہت سے گناہ گار بندوں کو دوزخ سے رہائی دی جاتی ہے۔ اور یہ سب رمضان کی ہر رات میں ہوتا ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

حضرت سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں کہ ماہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ ﷺ نے ایک خطبہ دیا۔ جس میں فرمایا، مفہوم: ’’ اے لوگو! تم پر عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے۔ اس مبارک مہینے کی ایک رات (شب قدر ) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس مہینے کے روزے اللہ تعالی نے فرض کیے ہیں۔ جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی غیر فرض عبادت ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانے کے فرضوں کے برابر اس کا ثواب ملے گا۔ اور اس مہینے میں فرض ادا کرنے کا ثواب دوسرے زمانے کے ستّر فرضوں کے برابر ملے گا۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ یہ ہم دردی اور غم خواری کا مہینہ ہے، اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔

جس نے اس مہینے میں کسی روزے دار کو افطار کرایا تو اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا، اور اس کو روزے دار کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالی یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسی پر یا صرف پانی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرادے۔

پھر فرمایا کہ جو کوئی کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلا دے اس کو اللہ تعالی میرے حوض یعنی (حوض کوثر) سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی یہاں تک کہ وہ جنت میں پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد فرمایا: اس ماہ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آتش جہنم سے آزادی ہے۔ پھر فرمایا: جو آدمی اس مہینے میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف اور کمی کر دے گا اللہ تعالی اس کی مغفرت فرما دے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دے گا۔‘‘

(شعب الایمان )

حضرت ابوہریرہ ؓروایت فرماتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے عبادت کرے، تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے۔‘‘ (ابن ماجہ) رمضان کریم کو جہاں اور بہت سی خصوصیات نمایاں کردیتی ہیں ان میں سے ایک قران کریم کا اس ماہ مبارک میں نازل ہونا بھی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ رسالت مآبؐ اور ان کے صحابہ کرامؓ عام ایام کی نسبت رمضان المبارک میں قرآن پاک کی تلاوت کا خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! روزہ اور قرآن دونوں بندے کی سفارش کریں گے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: مجھے قرآن سناؤ، میں نے عرض کیا کہ آپؐ مجھ سے سننا چاہتے ہیں جب کہ قرآن پاک آپ ؐپر نازل ہوا ہے۔ آپ ؐنے فرمایا: ہاں! دل یہی چاہتا ہے کہ قرآن کسی اور سے سنوں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں میں نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کردی، جب اس آیت کریمہ پر پہنچا کہ اس وقت کیا حال ہوگا جب کہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کو حاضر کریں گے۔ تو آپؐ نے فرمایا: اب بس کردو! میں نے آپؐ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو آپؐ کی مبارک آنکھوں میں آنسو بہہ رہے تھے۔‘‘ (بخاری)

ایک رات حضرت عمر ؓ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کے قرآن پڑھنے کی آواز سنائی دی۔ آپؓ نے سواری روکی اور کھڑے ہوکر سننے لگے۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے۔ ’’بے شک آپ کے رب کا عذاب واقع ہو کر ہی رہے گا، اس کو کوئی دفع کرنے والا نہیں‘‘ تو حضرت عمرؓ کی زبان بے ساختہ یہ الفاظ نکلے: ’’رب کعبہ کی قسم سچ ہے۔‘‘ پھر آپ ؓ سواری سے اتر ے اور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ یہاں تک کے چلنے پھرنے کی طاقت بھی نہ رہی۔

حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر ؓاس آیت کو سننے کے بعد ایسے بیمار ہوئے کہ کم و بیش ایک ماہ تک بستر علالت پر پڑے رہے۔ یہ تو وہ بزرگ، مقدس و مطہر شخصیات تھیں جن سے اللہ رب العزت راضی ہو نے کا اعلان خود قرآن میں کرچکے تھے، مگر اس کے باوجود بھی ان کا یہ حال تھا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج ہم مسلمان ہونے کا دعوی کرنے کے بعد کس موڑ پر کھڑے ہیں؟ کیا ہم نے اس طرح قرآن کریم میں تفکر کرکے اس کے رموز اسرار کو پانے کی کوشش کی؟ کیا ہماری نوجوان نسل شعور قرآنی کو حاصل کرنے کی خواہاں ہے؟ کیا ہماری خواتین مسائل قرآنی کو سمجھنے کی طلب گار ہیں؟

آئیے! اس ماہ رمضان میں عہد کیجیے کہ نبی آخر الزماں ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر چل کر اللہ رب العزت کے دیے گئے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *