اسد درانی، اے ایس دُلت اور جیرا

کل (اٹھائیس مئی) آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی جی ایچ کیو پنڈی میں بتائیں گے کہ انھوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دُلت کے ساتھ چار پانچ ملاقاتوں میں جو گفتگو کی اس کی کتابی شکل میں اشاعت سے حاضر و ریٹائرڈ فوجیوں پر لاگو ضابطہِ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی کہ نہیں۔ اور یہ کہ اس شائع گفتگو میں ان کی جانب سے کی گئی بہت سی باتیں غیر حقیقی ہیں یا نہیں؟ یہ اطلاع فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ کے آفیشل ٹویٹر پر جاری کی گئی ہے۔ اب ایک ٹویٹ میں یہ وضاحت بھی ہونی چاہئیے کہ اگر جنرل درانی نے غیر حقیقی باتیں کی ہیں تو وہ فوجی ضابطہِ اخلاق کی خلاف ورزی کیسے ہو گئی اور اگر یہ باتیں فوجی ضابطہِ اخلاق کی خلاف ورزی ہیں تو پھر غیر حقیقی کیسے ہو گئیں؟ سرحد کے دوسری طرف بھارت میں بھی متعدد حلقوں کی جانب سے یہی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا را کے سابق سربراہ کو آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ کے ساتھ ایسی حساس گفتگو کرنا چاہئیے تھی جس سے ملکی مفادات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تاہم انھیں بھارتی وزارتِ دفاع نے اب تک وضاحت کے لیے طلب نہیں کیا۔ ابھی پچھلے برس اکتوبر میں لندن سکول آف اکنامکس میں آئی ایس آئی کے ایک اور سابق سربراہ جنرل احسان الحق نے ’دی سپائی ماسٹرز سپیکس‘ کے عنوان سے ایک مذاکرے میں نہ صرف امرجیت سنگھ دُلت کے ہمراہ حصہ لیا بلکہ دونوں کی جپھی ڈال کے مسکراتی تصویر بھی شائع ہوئی۔ تب کوئی غیر سویلین ٹویٹر ہینڈل حرکت میں نہیں آیا۔ جہاں تک مجھے علم ہے کوئی بھی سرکاری افسر یا جنرل ریٹائرمنٹ کے دو برس بعد قومی و سٹرٹیجک امور پر رائے دینے کے لیے آزاد ہے۔ لیکن جنرل پرویز مشرف تو اتنے دلیر ہیں کہ انھوں نے حاضر سروس صدر اور چیف ہوتے ہوئے اپنی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ میں فرمایا کہ ہم نے مطلوب بندے امریکہ کے حوالے کیے اور پیسے بھی لیے۔ اس وقت کس کی جرات تھی کہ پوچھ لیتا ’سرکار ریٹائر ہونے کا تو انتظار کر لیتے۔‘

فائل فوٹو: جنرل مشرفجنرل پرویز مشرف تو اتنے دلیر ہیں کہ انھوں نے حاضر سروس صدر اور چیف ہوتے ہوئے اپنی کتاب 'ان دی لائن آف فائر' میں فرمایا کہ ہم نے مطلوب بندے امریکہ کے حوالے کیے اور پیسے بھی لیے

اور ریٹائر ہونے کے بعد مشرف صاحب نے دھڑلے سے فرمایا کہ اسامہ بن لادن، زواہری، طالبان اور حافظ سعید ہمارے ہیرو تھے اور کشمیر میں ہماری بنائی تنظیمیں مظلوموں کی مدد کر رہی تھیں۔ مگر اب وقت بدل گیا ہے۔ اس بابت جب ایک صحافی نے آئی ایس پی آر کے ترجمان سے پوچھا تو جواب یہ نہیں ملا کہ جنرل صاحب کو حقائق کا مکمل علم نہیں بلکہ یہ ملا کہ یہ جنرل صاحب کے ذاتی خیالات ہیں۔ وہی ان کی وضاحت کر سکتے ہیں۔ فوج کا ان کے خیالات سے کوئی لینا دینا نہیں۔ انہی صدر مشرف کے دور میں دو ہزار سات میں جب دفاعی امور کی سویلین محقق عائشہ صدیقہ کی عسکری کمرشل ایمپائر کے موضوع پر کتاب ’ملٹری انک‘ شائع ہوئی تو اسلام آباد میں اوپر سے نیچے تک ہڑاہڑی مچ گئی اور کسی ہوٹل نے انھیں کتاب کی تقریبِ رونمائی منعقد کرنے کی اجازت نہ دی ۔اس کے بعد سے ان کا نام ’خطرناک بری عورتوں‘ کی سلامتی فہرست میں آ گیا اور اب انھیں بیشتر وقت پاکستان سے باہر گذارنا پڑتا ہے۔ سابق جی او سی مری، کرگل آپریشن کے وقت آئی ایس آئی کے تجزیاتی ونگ کے ڈی جی، سابق ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز، سابق کور کمانڈر لاہور، سابق چیرمین نیب لیفٹٹنٹ جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز نے دو ہزار تیرہ میں اپنی کتاب ’یہ خاموشی کہاں تک‘ میں کہا کہ سوائے چار جنرلوں کے کسی کو کرگل آپریشن کا نہیں پتہ تھا اور یہ آپریشن یوں ناکام ہوا کیونکہ دشمن کے ممکنہ ردِعمل کا درست اندازہ نہیں لگایا گیا ( پینسٹھ میں بھی یہی ہوا تھا)۔ بقول جنرل شاہد نائن الیون کے بعد جنرل مشرف نے پہلے تو اعلی فوجی قیادت سے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امریکی کارروائی کی صورت میں سختی سے غیر جانبدار رہے گا۔ اس کے بعد تین فضائی اڈے بالا بالا امریکہ کے حوالے کر کے اعلی فوجی قیادت کو بتایا کہ بھائیو میں نے یہ کام کر دیا ہے۔ کیا اس کے بعد ایک کرگل کمیشن یا پرویز مشرف اور شاہد عزیز کی بھی جی ایچ کیو میں طلبی بنتی تھی کہ نہیں؟

فائل فوٹوپاکستان میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے حق میں بھی مظاہرے ہوتے رہے ہیں

حمود الرحمان سے لے کر ایبٹ آباد تک قائم تمام ریاستی کمیشنوں کی رپورٹیں تو کسی غیر ذمہ دار سویلین یا نان سویلین کے قلم سے نہیں نکلیں۔ مگر ان رپورٹوں سے بھی اب تک ممنوعہ یا خطرناک کتابوں جیسا سلوک کیوں؟ میں نے بھی ’سپائی کرانیکل‘ پڑھی ہے۔ میں اس میں کچھ دلچسپ ذاتی تجربات کے سوا کوئی ایسا نیا راز، بیانیہ یا تجزیہ ڈھونڈتا ہی رہ گیا جو پہلے کسی نے کسی اور رنگ میں نہ کیا ہو۔ ویسے بھی بھارت اور پاکستان کے بنیادی مسائل کی طرح بنیادی راگ بھی سات ہی ہیں۔ بھلے موسیقار اے ایس دُلت اور اسد درانی ہی کیوں نہ ہوں۔ ارے ہاں! اگر را اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہوں کو بھی پورے حقائق کا نہیں پتہ اور ان کی ایک بات یا تجویز بھی پالیسی سازوں کے لیے قابلِ غور نہیں تو پھر ان میں اور میری گلی کے جیرے دودھ فروش کی گپ میں آخر کیا فرق ہے؟ :۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *