کیا واقعی ایک ’’فادر ڈے‘‘ بھی ہوتا ہے؟

پرسوں ایک تقریب میں براہ رسم احمد بلال محبوب نے گفتگو کے دوران برسبیل تذکرہ بتایا کہ آج ’’فادر ڈے‘‘ ہے، میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا فادر نام کی کسی چیز کا وجود بھی ہمارے معاشرے میں ہے ۔کیونکہ مدر ڈے تو سنا ہے، ویلنٹائن ڈے کی بھی بہت دھومیں ہوتی ہیں ، مگر فادر ڈے پر نہ دکانوں پر تحفے تحائف کے حوالے سے ’’اسپیشل سیل فارفادر ڈے‘‘ کا کوئی اعلان نظر آیا نہ کسی ’’فادر‘‘نامی مخلوق نے بتایا کہ اس کے بچوں نے اسے یہ تحائف دئیے ہیں۔ ذہن پر زور دیا تو یاد آیا کہ ہاں ہر گھر میں ایک فادر ہوتا تو ہے ۔ جو صبح صبح محنت مزدوری کرنے گھر سے نکلتا ہے اور گھر پہنچنے پر بیو ی کی جھڑکیں کھاتا ہے۔ بچے اس کے قریب نہیں پھٹکتے فادر نامی مخلوق نے ان کے لئے جن آسائشوں کا اہتمام کیا ہوتا ہے، وہ اس میں مگن رہتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں اگر قدر ہے تو ماں کی ہے یا محبوب کی۔محبوب کی قدر دیکھنا ہو تو ویلنٹائن ڈے پر دیکھیں ۔ پھولوں اور تحائف کی دکانوں پر اس طرح خریداری ہوتی ہے اور اتنی رونق ہوتی ہے جو صرف عید کا خاصا ہے۔ مدر ڈے پر بھی مائوں کو تحائف سے لاد دیا جاتا ہے۔ مجھے ایک مولوی صاحب کا نام یاد نہیں رہا، انہوں نے ’’فادر‘‘ کی بے قدری پر بڑے مزے کی تقریر کی تھی خصوصاً ان کی اس بات کا تو جواب نہیں تھا کہ باپ بیٹے کو ستر ہزار روپے کا موٹر سائیکل خرید کر دیتا ہے اور بیٹا اس پر لکھواتا ہے ’’یہ سب ماں کی دعائوں کا اثر ہے‘‘
لطیفہ اگرچہ پرانا ہے مگر حقیقت حال کی اس سے بہتر عکاسی ممکن نہیں، باپ بیمار ہوتا ہے تو بیٹے کو کہتا ہے مجھے ڈنگر اسپتال لے جائو ۔بیٹا کہتا ہے آپ تو انسان ہیں ، جانوروں کے اسپتال کیوں جانا چاہتے ہیں باپ جواب میں کہتا ہے بیٹے میں کہاں انسان ہوں۔ صبح اٹھتا ہوں، تو گھوڑے کی طرح ہوتاہوں ، سارا دن گدھے کی طرح کام کرتا ہوں، شام کو گھر آتا ہوں تو میرے ساتھ کتے والی ہوتی ہے اور رات کو میں بھینس کے ساتھ سو جاتا ہوں، بس تم مجھے ڈنگر اسپتال لے چلو۔کچھ اولادیں باپ کی خدمت کے دوران اس امر کی متمنی بھی ہوتی ہیں کہ پیشتر اس کے کہ اس کے سرہانے سورۃ یٰسین پڑھنے کا وقت آئے وہ اس سے پہلے وکیل کو بلوا کر جس کا جتنا بنتا ہے وہ اس کے نام لکھوا دے ۔ایک میراثی بستر مرگ پر پڑا تھا اور اس کے سارے بیٹے اس امید پر اس کے سرہانے کھڑے تھے اس دوران اس نے اپنے داہنے ہاتھ کی درمیانی دو انگلیاں فضا میں بلند کیں اور بہت دھیمے لہجے میں کچھ کہا ، سب بیتابی سے آگے بڑھےاور کان اس کے ہونٹوں کے قریب لے جا کر سننے کی کوشش کی وہ کہہ رہا تھا میرا آخری وقت آ پہنچا ہے پیشتر اس کے عزرائیل آئے ، مجھے سگریٹ کا ایک’’شوٹا‘‘ تو لگوا دو ‘‘
ایسے بات کو ستم ظریف باپ ہی کہا جا سکتا ہے۔
مجھے ایک اور بات بھی یاد آئی ، باپ ساری عمر دن رات محنت کر کے اپنی اولاد کو اچھی تعلیم دلواتا ہے ان کے لئے اچھا ماحول پیدا کرتا ہے وہ انہیں اپنی زندگی میں کسی اعلیٰ مقام پر دیکھنے کا متمنی ہوتا ہے مگر اس کے علاوہ اس کی ایک اور ڈیوٹی بھی ہوتی ہے وہ جب کام پر گیا ہوتا ہے پیچھے بچے ماں کو تنگ کرتے ہیں ، تو وہ انہیں ڈرانے کے لئے کہتی ہے کہ تمہارا باپ آ لے میں تمہیں اس سے پٹوائوں گی اور پھر پٹواتی بھی ہے ۔ چنانچہ باپ کو گھر میں ایک بدمعاش کی حیثیت ہی حاصل ہوتی ہے اور اس کی امیج بلڈنگ پولیس کو مطلوب ایک اشتہاری ملزم کی طرح کی جاتی ہے اب آپ خود ہی بتائیں کہ بچے ماں سے پیار کیوں نہ کریں جو ان کی شرارتوں پر انہیں صرف دھمکی دیتی ہے انہیں پٹواتی باپ سے ہے۔ اس کے بعد ہی بعض بے وقوف قسم کے باپ پوچھتے ہیں کہ ’’یار لوگ کہتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے اور مدر ڈے کی طرح ایک فادر ڈے بھی ہوتا ہے، کیا یہ سچ ہے یا بس ایسے ہی سنی سنائی بات ہے‘‘۔
آخر میں میں اپنے اس کالم پر ان تمام بچوں سے معافی مانگتا ہوں جن کے باپ ان کے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے اور ان بیوائوں سے بھی جو دن کو بچوں کے رزق کا اہتمام کرتی ہے اور ان کی محرومیوں پر کسی کو نے میں چھپ کر روتی اور اپنے دوپٹے سے اپنے آنسو خشک کرتی ہے ۔ میں نے بھی ابھی کچھ اور باتیں بھی کرنا تھیں مگر یہ سطور لکھتے ہوئے کچھ جذباتی سا ہو گیا ہوں ، لہٰذا اس مسئلے پر باقی باتیں پھر کبھی کریں گے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *