ممتاز مزاح نگار مشتاق یوسفی انتقال کر گئے

کراچی: اردو ادب کی شان معروف مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی انتقال کرگئے- یوسفی صاحب کی عمر 90 سال سے زیادہ تھی اور وہ طویل عرصے سے صاحب فراش تھے - مشتاق یوسفی کا نام اردو مزاح کا ایک بہت بڑا حوالہ ہے ، مشتاق احمد یوسفی, ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز، ڈی لٹ (اعزازی) کا شمار اردو زبان کے عظیم ترین مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔مشتاق احمد یوسفی کی پیدائش 4 ستمبر، 1921ء ریاست ٹونک، راجھستان، ہندوستان میں ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم راجپوتانہ، ایم-اے (فلسفہ) آگرہ یونیورسٹی، ایل ایل بی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) سے حاصل کی۔ تقسیم ہند کے بعد کراچی تشریف لے آئے اور مسلم کمرشل بینک میں ملازمت اختیار کی۔مشتاق احمد یوسفی ایک بلند پایہ طنز و مزاح نگار ہیں۔ 1950 میں مسلم کمرشل بینک میں تعینات ہوئے اور ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدے تک پہنچے۔ 1965 میںالائیڈ بینک بطور مینیجنگ ڈائریکٹر جوائن کیا۔ 1974 میں یونائیٹڈ بینک کے صدر بنے۔ 1977 میں پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئرمین بنے۔اب تک ان کی پانچ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔

چراغ تلے (1961ء)
خاکم بدہن (1969ء)
زرگزشت (1976ء)
آبِ گم (1990ء)
شامِ شعرِ یاراں (2014ء)[1]

ممتاز مزاح نگار مشتاق یوسفی انتقال کر گئے” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *