مشتاق احمد یوسفی کے چند خوبصورت پرمزاح جملے

1- بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں ذرا فرق نہیں، سوتے میں بھی
ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے

2- پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں

3- دشمنوں کے حسب عداوت تین درجے ہیں: دشمن، جانی دشمن اور رشتے دار

4- مسلمان کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں

آ5- دمی ایک بار پروفیسر ہوجائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے، خواہ بعد
میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے

6- مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کرلیتے ہیں مگر عورتیں اس لحاظ سے
قابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کے علاوہ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا
ہے

7- مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے

8- لفظوں کی جنگ میں فتح کسی بھی فریق کی ہو، شہید ہمیشہ سچائی ہوتی ہے

9ٓ- جو ملک جتنا غربت زدہ ہوگا، اتنا ہی آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہوگا

10- حجام کی ضرورت ساری دنیا کو رہے گی تاوقتیکہ ساری دنیا سکھ مذہب
اختیار نہ کرلے اور یہ سکھ کبھی ہونے نہیں دیں گے

11- امریکا کی ترقی کا سبب یہی ہے کہ اس کا کوئی ماضی نہیں

12- محبت اندھی ہوتی ہے، چنانچہ عورت کے لیے خوبصورت ہونا ضروری نہیں، بس
مرد کا نابینا ہونا کافی ہوتا ہے

13- فقیر کے لیے آنکھیں نہ ہونا بڑی نعمت ہے

14- گالی، گنتی، سرگوشی اور گندہ لطیفہ اپنی مادری زبان ہی میں مزہ دیتا ہے

15- سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو رہتے ہیں

16- ہارا ہوا مرغا کھانے سے آدمی اتنا بودا ہوجاتا ہے کہ حکومت کی ہر بات
درست لگنے لگتی ہے

17- مرض کا نام معلوم ہوجائے تو تکلیف تو دور نہیں ہوتی، الجھن دور ہوجاتی ہے

18- جس دن بچے کی جیب سے فضول چیزوں کے بجائے پیسے برآمد ہوں تو سمجھ
لینا چاہیے کہ اب اسے بے فکری کی نیند کبھی نہیں نصیب ہوگی

19- انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے

20- یہ بات ہم نے شیشم کی لکڑی، کانسی کی لٹیا، بالی عمریا اور چگی داڑھی
میں ہی دیکھی کہ جتنا ہاتھ پھیرو، اتنا ہی چمکتی ہے

21- آسمان کی چیل، چوکھٹ کی کیل اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے، ننگا
کرکے چھوڑتے ہیں

22- بدصورت انگریز عورت نایاب ہے، بڑی مشکل سے نظر آتی ہے، یعنی ہزار میں
ایک۔ پاکستانی اور ہندوستانی اسی سے شادی کرتا ہے

23- ہم نے تو سوچا تھا کراچی چھوٹا سا جہنم ہے، جہنم تو بڑا سا کراچی نکلا

24- آپ راشی، زانی اور شرابی کو ہمیشہ خوش اخلاق، ملنسار اور میٹھا پائیں
گے کیونکہ وہ نخوت، سخت گیری اور بدمزاجی افورڈ ہی نہیں کرسکتا

25- فرضی بیماریوں کے لیے یونانی دوائیں تیر بہدف ہوتی ہیں

26- عشق و عاشقی صرف ایک ہی مرتبہ کرتا ہے، دوسری مرتبہ عیاشی اور اس کے
بعد نری بدمعاشی

27- قبر کھودنے والا ہر میت پر آنسو بہانے بیٹھ جائے تو روتے روتے اندھا ہوجائے

28- خون، مشک، عشق اور ناجائز دولت کی طرح عمر بھی چھپائے نہیں چھپتی

29- تماشے میں جان تماشائی کی تالی سے پڑتی ہے، مداری کی ڈگڈگی سے نہیں

30- لذیذ غذا سے مرض کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ اور طاقت پیدا ہوتی ہے

31- نام میں کیا رکھا ہے؟ دوست کو کسی بھی نام سے پکاریں، گلوں ہی کی خوشبو آئے گی

32- جس بات کو کہنے والے اور سننے والے دونوں ہی جھوٹ سمجھیں اس کا گناہ نہیں ہوتا

33- یورپین فرنیچر صرف بیٹھنے کے لیے ہوتا ہے جبکہ ہم کسی ایسی چیز پر
بیٹھتے ہی نہیں جس پر لیٹا نہ جاسکے

34- مطلق العنانیت کی جڑیں دراصل مطلق الانانیت سے پیوست ہوتی ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *