ہور کی حال اے !


میں اس وقت دفتر میں بیٹھا ایک ضروری کام کررہا تھا ، مجھے واقعتاسر کھجانے کی بھی فرصت نہیں تھی جب فون کی گھنٹی بجی ۔ میں نے فون اٹھا یا تو دوسری طرف میرے ایک پرانے اور بے تکلف دوست تھے ۔کچھ دیر تو حال احوال ہوتا رہا ، پھر اس چھوٹے سے کام کا تذکرہ ہوا جو انہیں مجھ سے تھا ۔میں نے انہیں یقین دلایا کہ میں ان کا یہ کام کردوں گا ۔ اب میرے خیال میں گفتگو ختم ہونا چاہیے تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں ایک اہم اسائمنٹ پر کام کررہا تھا جسے مجھے ایک گھنٹے میں مکمل کر کے اپنے باس کو پیش کرنا تھا مگر جہاں میرے خیال میں نقطہ اختتام تھا ، وہاں سے ان کا نقطہ آغاز تھا ۔انہوں نے کہا ’’ ہور کی حال اے ‘‘میں نے کہا ’’ٹھیک ہوں ‘‘ان کی تشفی نہیں ہوئی ۔کہنے لگے آواز بہت باریک اور کمزور سی لگ رہی ہے ۔نصیب دشمناں خیر تو ہے ....اور اس کے بعد انہوں نے اپنا حال تفصیلاََ بتانا شروع کردیا ۔مجھے طوہاََوکرہاََ سننا پڑا۔ تقریباََ دس منٹ بعد جب وہ حالِ ، حالِ جگر، حالِ پتا ، حالِ سجی وکھی ، حالِ کھبی وکھی وغیرہ وغیرہ بتا چکے تو از راہ مروت مجھ سے پھر پوچھا ’’ ہور کی حال اے ‘‘۔ میں انہیں اپنا حال کیا بتا تا ......کہ میرا کام ان کی طولانی گفتا ر کی وجہ سے کتنا متاثر ہو رہا ہے اور اس وقت میری حقیقی کیفیات کیا ہیں ؟ لیکن وہ کونسے اناڑی تھے ، حال پوچھتے ہی ایک نئے موضوع کو جا لپکے ’’یا ر شعیب اختر کا حال بہت خراب ہے ، اس سے تو کل باؤلنگ ہی نہیں کروائی گئی .....تم نے دیکھا ،وہ توبیچارا ......‘‘اور بات جو چھڑی تو آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا ۔
میں دل ہی دل میں پیچ و تا ب کھا رہا تھا مگر میری مروت آڑے آرہی تھی لیکن اس بار جب وہ ’’ہور کی حال اے ‘‘کے مرحلے پر پہنچے تو میں پہلے ہی تیار تھا ’’ میرا حال ٹھیک ہے ۔ آپ کا حال بھی ٹھیک ہے ، سار ی دنیا کا حال ٹھیک ہے ......باقی خبریں آئندہ ، اللہ حافظ ۔
آپ نے بھی ایسی گفتگو بار بار سنی ہو گی بلکہ شاید کی بھی ہو گی ۔ آخر یہ ہمار ا سماجی اور قومی رویہ ہے ۔باتیں ، باتیں ، باتیں ....ہمارا ان سے دل کبھی بھر نہیں پاتا ۔ اگر کوئی کہہ ہی دے کہ یا رکچھ کام شام بھی کر لیا کروتو ہم جھٹ سے کہتے ہیں ’’ بڑا بر ازمانہ آگیا ہے ، دل کی بھڑا س بھی نہیں نکالنے دیتے۔‘‘بندہ پوچھے کہ آخر آپ کے اندر بھڑا س ہی بھڑا س ہے ؟
جس طرح سے ’’مجھے تم سے پیا ر ہے ‘‘ فقرے کو دنیا کے مسحور کن جملوں میں شامل کیا جا سکتا ہے اسی طرح ’’ ہور کی حال اے ‘‘کو دنیا کے گمراہ کن ترین فقرات میں شامل کرنا کوئی ناانصافی نہ ہو گی ۔
مجھے یاد ہے کہ ایف ایس سی کے زمانے میں ،ہر شام کمبائنڈ سٹڈی کے نا م پر میں اپنے دوست سلیم کے پاس جا یا کرتا تھا ۔ بات نصاب سے شروع ہوتی تو کہیں کی کہیں پہنچ جاتی۔سیاست ، ملکی حالات ، کھیل ،غیر حاضر دوستوں کی خوب برائیاں کرتے کرتے رات کے دس بج جاتے ۔ میں اٹھنے کی تیاری کرتا لیکن ’’ہور کی حال اے ‘‘ مجھے مزید آدھا گھنٹہ اٹھنے نہ دیتا ، خدا خد ا کرکے اٹھ جاتا تو ایک اور ’’ ہور کی حال اے ‘‘مزید آدھا گھنٹہ میرے قدم پکڑ لیتا ، دروازے سے نکلتا تو ایک اور ’’ ہور کی حال اے ‘‘مجھے ’’جپھا ‘‘ ڈالنے کے لئے تیار ہوتا اور میں نہایت خوشی سے اسے یہ موقع دیتا ، بارہ بجے کے بعد ہم بیٹھک کے باہر کھڑے گفتگو کرتے پائے جاتے اور اس کے بعد ہمارا اپنے اپنے گھر جانا مجبوری بن جاتا کہ گھرو الوں کا احتساب بیورو ایکشن میں آنے کے لیے تیار ہو جاتا !
نتیجہ یہ نکلا کہ محمد سلیم انجینئر بننے کی بجائے بینک آفیسر بن گیا اور میں ڈاکٹر کی بجائے صحافی ۔اب سوچتا ہوں کہ میں بھی ڈاکٹر ہوتا تو ڈاکٹر صداقت علی کی طرح لمبی گاڑی اور عالیشان کوٹھی کا مالک ہو تا ۔ اس مدھم روشنی میں پروف تو نہ پڑھنے پڑھتے ! کہاں نسخے کے چند ’’جھریٹوں ‘‘کا یہ نتیجہ ، کہاں ، ہزاروں الفاظ لکھنے ، سنوارنے کی مشقت ! میرے خدایا میری گستاخیاں اکھیاں کتھے جا لگیا ں !
لیکن جب میں اپنے ارد گرد نظر دوڑاتا ہوں تو میرے کلیجے میں گویا ٹھنڈ سی پڑ جاتی ہے۔جب میں مس رفعت عاتکہ کو لمبی لمبی باتیں کرتے دیکھتا ہوں تو میرا دل خوشی سے بلیوں اچھل رہا ہوتا ہے اور جب میں توصیف کو چٹر پٹر باتوں میں مشغول دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اس تیر بہدف نسخے سے بھینس میر ے اکیلے کی ہی نہیں مری ، ان کی بھی مر گئی ہے ۔ انہی پر کیا موقوف مجھے ہر طرف ایسے بہت سے لوگ نظر آتے ہیں جن کے بعد مجھے یقین ہو جا تا ہے کہ شیطان کے بھائی بند اور بھی ہیں .....اور ماشااللہ دو تہائی اکثریت سے ہیں ۔
جی ہاں ! پاکستان کے 80%سے زائد لوگ اپنا وقت بے کار باتوں میں ضائع کرتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ اسے خوشگوار کام بھی سمجھتے ہیں لیکن درحقیقت یہ ایک گھن کی طرح کی بیماری ہے جو بہت میٹھی ، بہت مزے دار مگر نقصانات کے حساب سے اتنی خطرناک ہے کہ سارے ’’ وٹ ‘‘ نکال دیتی ہے بلکہ چچا غالب سے تھوڑی سی معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ
’’باتوں ‘‘نے نکما کر دیا غالب
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
ہمارے ہاں کار پوریٹ کلچر ابھی اسی لئے پوری طرح سے پیدا نہیں ہو پایا کہ ہم باتوں پر زیادہ ، کام پر کم یقین رکھتے ہیں ۔ہم زندگی کے اہم مراحل میں اکثر اس لئے بھی نا کام ہو جاتے ہیں کہ ’’ہور کی حال اے ‘‘سے بروقت پیچھا نہیں چھڑا پاتے ۔گفتگو کے وقت گفتگو نہیں کرتے ، کام کے وقت کام نہیں کرتے!وقت ضائع کرنے کی یہ بیماری ایسے ایسے ذہین لوگوں کو خاک بنا دیتی ہے کہ ہم کہہ اٹھتے ہیں کہ ’’ بندہ تو بہت ذہین ہے ، پر زندگی میں مقام نہیں حاصل کر پایا ۔‘‘
وہ مقام اس لئے نہیں حاصل کر پا یا کہ وہ وقت کے مقا م کو نہ پہچان سکا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ ہم کامیابی کی ریل گاڑی کو دیکھتے رہیں اور پھر بھی گفتگو میں مشغول رہیں ۔کامیابی کی ریل گاڑی آپ کو باقاعدہ ہارن بجا کر متنبہ بھی کرتی ہے لیکن جو لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے وہ بالآخر قسمت کا رونا رؤتے پائے جاتے ہیں اور بد قسمتی سے ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔
کبھی کبھار ایک منٹ بھی ایک ملین ڈالر کا ہوتا ہے اور کبھی ایک گھنٹہ ایک ٹکے کا بھی نہیں ۔ اس ’’ایک منٹ ‘‘اور ایک ’’ گھنٹے ‘‘ کو پہچانئے ۔اگر وہ ایک منٹ آپ فضول گفتگو میں ضائع کربیٹھے تو آپ کے آئندہ کئی گھنٹے ٹکے کے بھی نہیں رہیں گے ۔ اور رہا وقت ،تو وہ نٹ کھٹ ، شریر بچہ آپ سے کہ رہاہو گا’’ ہن آرام اے ۔‘‘
احتیاطی تدابیر
* جب گفتگو’’ہور کی حال اے ‘‘پر پہنچ جا ئے تو کان کھڑے کر لیجئے ۔ چوکنے ہو جائیے کہ یہی گفتگو آئیڈیل کا نقطہ اختتام ہے ۔اسے نقطہ آغاز مت بننے دیجئے ۔
* گفتگو مختصر ، ٹودی پوائنٹ اور مناسب انداز میں کیجئے ۔
* ہمیشہ ہوشیار رہےئے کہ کوئی ’’ہو ر کی حال اے ‘‘ کہہ کر آپ کے وقت پر ڈاکہ تو نہیں ڈال رہا ۔
* خود بھی لٹنے سے بچئے اور دوسروں کو بھی بچائیے ۔
* وقت ایک خزانہ ہے ، اس کی حفاظت اسی طرح کیجئے جس طرح بنیا اپنی نسوانیت اور بنیا اپنی تجوری کی حفاظت کرتا ہے ۔
* وقت کے معاملے میں کنجوس رہنے میں کو ئی حرج نہیں ، ہاں فیاض ہو نے میں بہت سا حر ج ہوتا ہے ۔
* لمبی گفتگو کرنے سے پہلے یہ یا د رکھئے کہ آپ اپنی دولت ہر گزرتے منٹ کے ساتھ کھو رہے ہیں ۔غریب ہونا آپ کو پسند ہے تو پھر یہ شوق جاری رکھئے ، ورنہ تر ک کر دیجئے ۔
* ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ ’’ہو ر کی حال اے ‘‘سے آپ کے ’’حال‘‘کو نقصان پہنچتا ہے ۔لہٰذا گفتگو میں یہ نہ ہی ہو تو بہتر ہے ۔ کہئے پسند آیا میرا کالم ؟ شکریہ آپ کا جواب مجھ تک پہنچ گیا ، ویسے تکلف بر طرف ’’ ہور کی حال اے !‘‘

شائع کردہ 18 نومبر2004

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *