قاسمی صاحب اور 25کروڑروپے 

آج کل انصاف کے نام پر تماشا لگا ہوا ہے اور قومی شخصیات کی پگڑیاں اُچھالی جارہی ہیں ۔ اد ب کی نامور شخصیت عطاء الحق قاسمی صاحب کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے ۔ فرمایا گیا کہ وہ 25کروڑ واپس کردیں تو جیل سے بچ جائیں گے ۔کونسے 25کروڑ روپے جنابِ والا ؟ وہ جو پی ٹی وی کے خزانے سے خرچ ہی نہیں ہوئے ۔میں بتاتا ہوں کہ یہ 25کروڑ روپے کس طرح مفروضہ طور پر گھڑے گئے ۔
1۔ہر ٹی وی پروگرام کے پرومو ہر ٹی وی چینل پروگرام کی مارکیٹنگ کے لئے چلاتا ہے ،یہ فرض کیا گیا کہ اگراس کی جگہ کوئی بھی اشتہار چلتا تو فی منٹ اتنے لاکھ روپے کے حساب سے اتنے کروڑ روپے بن جاتے حالانکہ اس کی تردید خود ساختہ آڈٹ رپورٹ نے خود ہی کردی ہے کہ ایک روپے کا اشتہار بھی ان پروموز کی وجہ سے ڈراپ نہیں ہوا ۔پھر یہ کروڑوں کے خرچ کا واویلا کس لیے ؟مزید سنےئے آج تک ٹی وی چینلز کی تاریخ میں اور خصوصاََ پی ٹی وی کی تاریخ میں کبھی کسی چےئر مین سے اس کے دور میں چلنے والے پروگرام کے پروموز کے پیسے نہیں مانگے گئے ۔ پھر یہ نظرِ کرم عطاء الحق قاسمی صاحب پر کس لئے ؟اس لئے کہ انہوں نے اپنی تحریروں میں جمہوریت کی حمایت کی یا اس لئے کہ وہ مشکل وقت میں میاں نواز شریف کے حق میں کالم لکھتے رہے اور دیگر کالم نگاروں کی طرح قلابازی نہیں کھائی ، یا اس لیے کہ ایون فیلڈریفرنس میں تو میاں نواز شریف کو پھنسانے کے لیے کوئی ثبوت /گواہ میسر نہیں تو اب اس نئے کیس میں پھنسا دیا جائے یا ڈان لیکس والا غصہ ابھی اترا نہیں کہ درویش صفت پرویز رشید کو اس بہانے نا اہل کیا جائے ؟
ان 25کروڑ روپوں میں قاسمی صاحب کے پروگرام ’’کھوئے ہوؤں کی جستجو‘‘پر آنے والے اخراجات بھی شامل کیے گئے ہیں تو کیا سپریم کورٹ یہ سمجھتی ہے کہ ٹی وی پروگرام بننے پر کو ئی خرچ نہیں آنا چاہیے ؟ یہ مفت میں بننے چاہیے؟ حالانکہ فی پروگرام ایک لاکھ روپے سے بھی کم خرچ آیا ۔ حضورِ والا پتہ تو کریں، نجی ٹی وی چینلز پر اس سے کئی گنا خرچ اٹھ جاتا ہے ٹی وی پروگرام کے بننے پر ۔
کئی کروڑ روپے کافرضی تخمینہ اس پروگرام کو نشر کر نے کالگا یا گیا ہے جو ایک بے سروپا اور بے معنی بات ہے ۔کیا پروگرام نشر کرنے کے لئے نہیں ہوتے ؟ اگر یہی فارمولا پاکستان کے بڑے بڑے اینکرز کے پروگراموں پر لگایا جایا تو ہمارے تمام ٹی وی اینکرز کو کروڑوں روپے پلے سے دینے پڑ جائیں ۔فرمایا گیا کہ اخراجات ذاتی تشہیر پر ہوئے ۔جب سے ہوش سنبھالا ہے عطاء الحق قاسمی صاحب ملک کی مقبول و معروف شخصیت ہیں، مشہورِ زمانہ عطا ء الحق قاسمی صاحب کو بھی گو یا تشہیر کی ضرورت ہے ؟ الزامات تو کچھ سوچ سمجھ کر لگائیں جنابِ والا !
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عطاء الحق قاسمی پی ٹی وی کے چےئر مین بننے کے اہل نہیں تھے اس لئے ان کی تقرری نا جائزہے ۔واہ سبحان اللہ !یعنی ملک کے ممتاز ترین ادیب ، مقبول ترین ڈرامہ نگار اور مشتاق یوسفی صاحب کی رحلت کے بعد اُردو مزاح کے سب سے بڑی شخصیت پی ٹی وی کے چےئر مین بننے کے لئے اہل نہیں ؟حالاں کہ قومی ٹی وی چینلز /نشریاتی اداروں کے لئے ہمیشہ ایسی شخصیات کا انتخاب کیا جاتا ہے جن کا ادب سے رشتہ ہو ۔دور کیوں جائیے جناب ذوالفقار بخاری آل انڈیا ریڈیو اور پھر پاکستان ریڈیو کے سربراہ رہے ۔کیوں نا اس انگریز وائسرائے پر بھی مقدمہ چلنا چاہیے کہ ادبی شخصیت کو سربراہ کیوں بنایا ؟
قاسمی صاحب کی شخصیت اور ان کے علمی کام پر لوگ پی ایچ ڈی کر چکے اور کر رہے ہیں اور سپریم کورٹ میں معمولی باتوں پر ان کا ٹھٹھہ اُڑایا جاتا ہے ۔لوٹا بھی پی ٹی وی کے پیسے سے آیا کہہ کرطعنے دیے جاتے ہیں ۔ذرا یہ تو بتائیں کیا سپریم کورٹ کے واش روم سرکاری خرچ پر چلتے ہیں یا ہر فرد اپنا ذاتی صابن لے کر آتا ہے ؟کیا سپریم کورٹ کی گاڑیاں سرکاری پٹرول پر نہیں چلتیں؟کیا سرکاری گھروں کی تزئین و آرائش پر سرکاری خرچ نہیں لگتے ؟کیا ان چھوٹے چھوٹے معاملات کو اداروں کے سربراہ دیکھتے ہیں یا ماتحت ملازمین ؟
انصاف کے نام پر قومی شخصیات کی تضحیک اور میڈیا ٹرائل کا کوئی حق نہیں بنتا ۔ خدارا پاکستان کو تماشوں کی سرزمین مت بنائیں ۔ 70کی دہائی میں چودھری ظہور الہٰی پر گھوڑی یا بھینس چوری کا مقدمہ درج ہوا ۔ اس طرح کے تماشے اکیسویں صدی کے پاکستان میں اچھے نہیں لگتے ۔ قوم اور تاریخ خود طے کر لے گی کہ کس کا نام روشن رہے گا اور کس کا نام تاریک خانو ں میں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *