خلائی مخلوق

خلائی مخلوق بد عنوان، جرائم پیشہ اور بزدل لوگوں کی سرزمین کو اپنے مکمل قبضے میں لی چکی ہے۔ثبوت ملاحظہ فرمائیں۔ پی ایم ایل (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا کیونکہ وہ اپنے بیٹے سے وصول ہو سکنے والی ایک معمولی سی رقم بطورِ تنخواہ ظاہر کرنا بھول گئے تھے۔اب اسی جماعت کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی اس بنیاد پہ مسترد کر دئیے گئے ہیں کہ انھوں نے اپنے ایک اثاثے کی قیمت (جج صاحب کے مطالبے کے برعکس) بازار کی شرح کی بجائے (FBRکے تقاضوں کے تحت) اصل لاگت کے مطابق ظاہر کی تھی۔ ان کے علاوہ نون لیگ کے ترجمان دانیال عزیز بھی انتخابات کے لئے نا اہل قرار دے دئیے گئے ہیں کیونکہ انھوں نے بھی بعض متنازعہ عدالتی فیصلوں کو چیلنج کرنے کی جرأت کی تھی۔امکان ہے کہ نون لیگ کے ایک اور بے باک جنگ جو طلال چوھدری کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا، بلکہ سابق وزیر داخلہ احسن اقبال سمیت نون لیگ کے کئی ایک لیڈروں کا انتخابات سے قبل یا مابعد یہی حال ہونے والا ہے۔دوسری طرف میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز شریف کو بھی تیس سال قبل ہونے والی مبینہ منی لانڈرنگ کے کیس میں تقریباً ہر روز عدالتوں میں بلایا جاتا رہا ہے۔ان کے وکیل کی جانب سے سماعت کو قواعد کے مطابق آگے بڑھانے کی تمام درخواستیں مستر د کی گئی ہیں۔ لندن میں شدید علیل کلثوم نواز کی عیادت کے لئے جانے کی اجازت حاصل کرنے کے لئے دونوں کو عدالت کی منت کرنا پڑی تھی۔سوال یہ ہے کہ ان حالات میں کون نون لیگ کی انتخابی مہم کی قیادت سنبھالے گا ؟دوسری طرف پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کو بھی بے شمار سوالوں کا جواب دینے کے لئے ہر دوسرے دن نیب کی جانب سے بلایا جا رہا ہے۔سابق وزیرا علیٰ کے پرنسپل سیکرٹری احد چیمہ نیب کی جیل میں ہیں حالانکہ ان کے خلاف تحقیقات تاحال مکمل نہیں ہوئی ہیں۔یہ نیب قوانین سے ایک غیر معمولی قسم کا انحراف ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد پر بھی نیب نے مقدمے قائم کر رکھے ہیں اور ان کے ملک سے باہر جانے پہ پابندی لگائی گئی ہے۔اب تو نیب نے نون لیگ کے مقبول امیدوار قمر الاسلام راجہ کو بھی کسی قسم کی تحقیق کے بغیر گرفتار کر لیا ہے اور یوں نون لیگ کے باغی رہنماء چوھدری نثار کی فتح کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔پھر اسی پہ بس نہیں بلکہ خلائی مخلوق تو اتنخاب جیتنے کا امکان رکھنے والے امیدواروں کو نون لیگ سے توڑ کر آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے پہ مجبور کر رہی ہے۔یہی سرگرمی جنوبی پنجاب میں زیادہ زور و شور سے جاری ہے اور مقصد اس کا یہ ہے کہ انتخابات کے بعد مناسب وقت پہ ان لوگوں کی درجہ بندی کر دی جائے گی۔
وزارتِ عظمیٰ کے لئے جسٹس (ر) ناصر الملک جیسے بااصول شخص کے چناؤ کے باوجود مختلف وزراء کے تقرر میںیکساں طور پر تعصب اور امتیاز روا رکھا گیا ہے۔خاص طور پر موجودہ چیف جسٹس کے سمدھی ،پی پی پی کے ایک شدیدحامی اور خلائی مخلوق کے ایک ریٹائرڈ اور خود کو بڑا پارسا سمجھنے والے ایک ایسے افسرکی تقرر ی سے تو یہ بات مزید واضح ہوتی ہے جسے ایک منتخب وزیرا عظم نے غیر قانونی اقدام، بد عنوانی اور اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی بنیاد پہ سیکرٹری دفاع کے عہدے سے بھی بر خاست کر دیا تھا۔پنجاب کی عبوری انتظامیہ میں تو خاص طور پر نون لیگ کے مخالف عناصر کو جگہ دی گئی ہے۔سندھ میں حکمران پی پی پی اور حزب اختلاف کی جماعت ایم کیو ایم نے مل کر عبوری حکومت میں اپنے من چاہے لوگوں کی تقرریاں کروائی ہیں۔ ایم کیو ایم تو خلائی مخلوق کی ہر بات پہ سر تسلیم خم رکھنے کا رجحان رکھتی ہے۔بلوچستان تو پہلے ہی سے ’’آزاد‘‘ امیدواروں کے لئے بد نام ہے۔خلائی مخلوق نے مذہبی جماعتوں کو بھی ایکا کرنے (جیسا کہ متحدہ مجلس عمل کی صورت میں )یا پھر نون لیگ کے ووٹرز کو توڑنے کے لئے انفرادی طور پر(حافظ سعید کی لشکر طیبہ یا خادم رضوی کی زیر قیادت لبیک یا رسول اللہﷺ) انھیں اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کا اشارہ کررکھا ہے۔ لبیک والے تو خاص طور پر خلائی مخلوق کے منظور نظر ہیں۔ ان کو نون لیگ کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے میدان میں اتارا گیا تھا اور یہ لوگ اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کو مستعفی کروانے میں بھی کامیاب ہوگئے تھے۔بعد میں اس وقت کے وزیر داخلہ احسن اقبال پہ قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا تھا۔اب پنجاب کی عبوری حکومت نے ایک غیر معمولی اقدام کے تحت دہشت گرد وں کی فہرست میں شامل تنظیموں سے پابندی اٹھا دی ہے۔ان میں سپاہ صحابہ اور اہل سنت والجماعت بھی شامل ہے۔ اس جماعت کے لیڈر مولانا احمد لدھیانوی کے اثاثے بھی غیر منجمد کر دئیے گئے ہیں۔اس سے قبل کے پی کے میں عمران خان کی حکومت نے بھی اکوڑہ خٹک کے دارالعلوم جامعہ حقانیہ کے مولانا سمیع الحق کو نہ صرف مالی امداد دی تھی بلکہ اب ان کے ساتھ انتخابی اتحاد بھی قائم کیا ہے۔یہ بالکل صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ملک بھر میں تمام ادارے، سیاسی جماعتیں، سماجی گروپس، مذہبی تنظیمیں اور سول انتظامیہ خلائی مخلوق کا شکار بن چکے ہیں۔ ہمارا میڈیا جو کبھی آزاد تھا ، اب اس پہ بھی پابندیاں لگا کر اسے خلائی مخلوق کی مرضی کے مطابق چلنے پہ مجبور کیا جا رہاہے۔ان تمام حالات میں بھی اگر نون لیگ اپنے گھائل، بے بس اور لاچار لیڈر نواز شریف کے حمایت کے لئے اس کے پیچھے کھڑی ہے تو یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔اگر تو انتخابات سے قبل تک کا یہ سارا عرصہ میاں صاحب لندن میں گزارتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ انھوں نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں اور خلائی مخلوق سے کوئی سودا کرنا انھوں نے منظور کر لیا ہے۔ اس صورت میں ان کے خلاف مقدمات کے فیصلے انتخابات سے بعد اس وقت تک کے لئے مؤخر کئے جا سکتے ہیں جب تک کہ خلائی مخلوق پورا سروے کر کے نئی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ابھرنے والے نئے سیاسی منظر نامے کا جائزہ لے کرامن و امان کے حوالے سے ایک نیا فریم ورک مرتب نہیں کر لیتی۔تاہم اگر نواز شریف واپس آکر پہلے ہی کی طرح سرگرمی سے انتخابی مہم چلاتے ہیں تو پھرانھیں جیل بھیج دیا جائے گا اور ان کی جماعت زبردستی انتخابی شکست سے دوچار کر دی جائے گی۔

ّ(یہ کالم رائٹ ویژن میڈیا سینڈکیٹ کی جانب سے مجاز اخبارات کو جاری کیا جاتا ہے جن میں یہ مؤقر روزنامہ بھی شامل ہے۔ اس کی کسی بھی صورت میں کہیں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *