محبت ختم ہوتی جارہی ہے

فنا صرف حیات کو نہیں صرف دنیا کو نہیں صرف انسان کو نہیں، وقت کو بھی فنا سے دوچار ہونا پڑتا ہے، لمحہ بہ لمحہ گھٹتے سائے اور
گزرتے موسم وقت کی عمر گھٹا رہے ہیں لیکن ایک شے کو ایسا سمجھا جاتا تھا جو ختم ہو کر بھی ہمیشگی کا درجہ پائے گی اور وہ محبت تھی لیکن میں سمجھتی ہوں کہ محبت بھی اب ختم ہوتی جا رہی ہے، جذبے ماند پڑتے جا رہے ہیں، لوگ دور ہوتے جا رہے ہیں، اپنے ناراض ہوتے جا رہے ہیں، دوست بدظن ہوتے جا رہے ہیں، فاصلے سمٹتے جا رہے ہیں اور دل دور ہوتے جا رہے ہیں،  ہوائیں حبس پیدا کر رہی ہیں اور چراغ اندھیرے بانٹ رہے ہیں، دریا سوکھ رہے ہیں اور جھیلیں آلودہ ہوتی جا رہی ہیں، ذہن تخریب کے سفر پہ روانہ ہیں تو دلوں پہ مہریں ثبت ہوتی جا رہی ہیں، خون مفت بہایا جا رہا ہے اور پانی بیچا جا رہا ہے، بچے بھوک سے مر رہے ہیں اور کتے صوفوں پہ بٹھائے جا رہے ہیں، عورتیں برہنہ ہوتی جا رہی ہیں اور حیا ختم ہوتی جا رہی ہے، دنیا اپنے انت کی طرف رواں دواں ہے اور ہم ہیں کہ اپنے آپ میں گم تماشا دیکھ رہے ہیں اور یہ تماشا ایک دن ہمیں بھی تماشا ہی بنا دے گا
ہم سوچنے کی طاقت کھو رہے ہیں، ہم سمجھنے کا فہم گنوا چکے اور برداشت کرنے کی سکت ختم کر چکے لیکن اب بھی ہم زندہ ہیں تو اس کے پیچھے کوئی راز تو ضرور پوشیدہ ہیں،  لیکن اس راز کو جاننے کے لیے ہمارے پاس نہ وقت ہے اور نہ حوصلہ اور نہ. ہی ہمیں دلچسپی ہے، ہم آئے روز ایک نئے حدف کو لے کر بلندیوں کے سفر پہ نکل جاتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ہم خود کہیں بہت پستیوں میں نہ رہ جائیں یا ہمارے وہ عزیز وہ دوست وہ اپنے کہیں ہم سے بچھڑ نہ جائیں وہ کہیں تھک نہ جائیں کہیں روٹھ نہ جائیں لیکن ہمیں صرف اپنی بلند منزل کی فکر سب سے بے گانہ کر دیتی ہے اور ہم بغیر پروں کے آسمان کی طرف اڑان بھر دیتے ہیں اور کون نہیں جانتا کہ بغیر پروں والے زیادہ دیر ہوا کا دباؤ برداشت نہیں کر سکتے لیکن انسانی ذہن جس قدر چالاک اور تیز تصور کیا جاتا ہے اس سے بڑھ کر فریب کھانے والا بھی ہے اور ہم کسی اور سے نہیں اپنے آپ سے فریب کھا کر شکست پاتے رہے ہیں
میرے پڑھنے والے اکثر کہتے ہیں کہ میں اپنی تحریر کو افسانوی رنگ دے کر کچھ مبہم کر دیتی ہوں لیکن ہر سانس لیتی زندگی اپنا الگ خیال اپنی الگ کہانی اپنا الگ نصیب رکھتی ہے تو میں ان کہانیوں سے پیچھا کیسے چھڑاؤں، میرا مدعا تو سب کو معلوم ہے کہ میں کیا چاہتی ہوں سو میں مثالیں دے دے کر سمجھاتی ہوں کہ سمجھوتہ نہ کریں بلکہ اپنے آپ پہ نظر رکھیں، ہم بہت جلد اپنے ہاتھوں سے نکلنے والے ہیں اور پھر ہم اس اندھے کی طرح ہو جائیں گے جو ایک شاہراہ پہ موجود ہو اور تیز رفتار گاڑیاں دونوں جانب سے آ رہی ہوں،ایسا نہ ہو کہ ہم نہ آگے جا پائیں اور نہ پیچھے مڑ سکیں، تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم اپنی آنکھیں اپنی جلد بازی کی نذر کرنے کی بجائے اپنے پاس سنبھال رکھیں کہ بینائی بڑی شے ہے
محبت کی ضرورت اس وقت صرف مجھے نہیں آپ کو بھی ہے، محبت کی ضرورت ہم سب کو ہے، اس دنیا کو ہے اس معاشرے کو ہے اس سماج کو ہے، ہم گزرتے وقت کے ساتھ مشینوں میں گھرتے جا رہے ہیں اور یہ مشینیں ہماری رسمیں ہم سے چھین رہی ہیں، جہاں پہلے ہم عید یا کسی مخصوص تہوار پہ خصوصاً اپنوں کے ملنے جاتے تھے، لمبے سفر کے باوجود بھی ذرا تکان نہ ہوتی تھی بلکہ اپنوں کے پاس وقت گزارنے کی خوشی پورا سال تروتازہ رکھتی تھی اب وہ کام موبائل نے لے لیا ہے، ہم صرف میسج کال پہ ایک دوسرے کو تہوار کی سطحی مبارک دے کر فارغ ہو جاتے ہیں، کسی کی شادی ہوتی تو ایک مخصوص آدمی شادی کا دعوت نامہ لے کر جاتا تھا اور واپسی پر ہم اسے پھول تحفے اور شادابی کی دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتے تھے اب وہ رسم بھی گئی، اب تو شادی بیاہ فوتگی جنم دن سب کچھ دکھاوے کے لیےرہ گئے اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی رسموں کو بھول جائیں، ہم اس روایت اور رسومات کو چاہیں تو اب بھی یاد کر سکتے ہیں، اس محبت کو ہم اب بھی محفوظ کر سکتے ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ اپنا آپ کھو رہی ہے
بزرگ گھر میں برکت اور محبت کی علامت سمجھے جاتے تھے، ہمیں اب تک یاد ہے گھر میں بزرگ دادا دادی نانا نانی سے بچے چمٹ کر رہتے تھے شام ہوتے ہی سب ان کے کمرے میں کہانی سننے کے لیے اکٹھے ہوتے تھے، ان سے باتیں سیکھتے تھے ان سے لپٹ کر سو جاتے اور آدھی رات کو مائیں اپنے بچوں کو بزرگوں کے کمرے سے اٹھا کر بستر پہ سلاتی تھیِں اب مجھے آپ بتائیے کیا آج کل کہیں ایک بھی ایسا گھر ہے جہاں ایسا ہوتا ہو؟  آج کل بچے بزرگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں؟  آج کل تو بہوؤں اپنے بچوں کو بزرگوں کو اٹھانے تک نہیں دیتیں کہ وہ بیمار نہ ہو جائیں ، نوکرانی کے ہاتھ میں چھوڑ دیں گی لیکن بزرگ دادی کے پاس نہ جانے دیں گی، بزرگ اولڈ ہومز میں ہیں اور بچے نرسریوں میں، مرد دفتروں میں ہیں اور خواتیں بیوٹی پارلرز میں، اور ایک میں ہوں کہ محبت کا نام لیے آپ کے لیے ورق سیاہ کر رہی ہوں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ کوئی وقعت نہیں دینے والا کوئی مری ہاں میں ہاں نہیں ملانے والا
لیکن میں پھر بھی لکھتی رہونگی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *