جب میں ایدھی بنا

منیر پٹھان
میرا سسرال سمندر کے قریب بحریہ کے فوجیوں کی ایک کالونی میں ہے جسے نیول کالونی کہتے ہیں یہ ایک قدیم بستی ہے ہم کوکنی جو کہ سمندر سے پیار کرنے والے ہیں اس لیے فوج کہ اسی شعبے میں زیادہ تر پائے جاتے ہیں میرے سسر بھی نیوی میں تھے اور وہاں کے اکثر رہائشی کوکنی ہی تھے جن دنوں کی یہ بات ہے وہاں بنیادی سہولیتیں صرف پانی بجلی اور گیس تھیں کوئی بڑا ہسپتال ، اسکول، کالج نہ پہلے وہاں تھا نہ اب ہے آمدورفت بسوں اور منی بسوں کے زریعے رات آٹھ بجے تک تھی اس کے بعداگر کسی کی پاس ذاتی سواری ہے تو وہ کالونی آ اور جا سکتا ہے یا پھر کچھ لوگوں نے گاڑیوں کو تجارتی استعمال میں لے کر ٹیکسی کی صورت میں رکھا تھا اور ان شرایط پر کہ اگر آپ کو کہیں جانا ہے تو واپسی کا کرایہ بھی دینا ہوگا ، میں اس دن سسرال آیا تھا ان دنوں ایک پرانی سی آلٹو میرے زیر استعمال تھی ، موسم صبح ہی سے ابر آلود تھاواپسی کا سوچ ہی رہا تھا کہ بارش شروع ہوگئی میں منتظر تھا کہ یہ تھمے تو میں نکلوں لیکن لگتا تھا کہ بارش آج فرصت سے آئی ہے جانے کا نام ہی نہیں لے رہی ، جبھی مجھے کہا گیا کہ اب جانا مناسب نہیں بہتر ہے آج یہیں قیام کر لیں میرے سالے صاحب جاکر پڑوس سے گھر فون کر آئے کہ ہم آج نہیں آئینگے-

کھانا لگا دیا گیا ابھی چند لقمے ہی لیے ہونگے کہ ایک خاتوں گھبرائی ہوئی گھر میں داخل ہوئیں انتہائی پریشانی اور روتی حالت میں بتایا کہ ان کے ضعیف والد گھر میں گر گئے ہیں ان کے سر میں شدید چوٹ آئی ہے حالت نازک ہے انہیں ہسپتال لی کر جانا ہوگا انہوں نے شاید میری گاڑی باہر کھڑی دیکھی ، میری بیگم اور سسرال والوں نے میری طرف دیکھا لیکن کچھ کہ نہ سکے میرے ہاتھ میں لقمہ تھا جو منہ تک نہیں پہنچا تھا میں نے اسے وہیں چھوڑا اور اٹھ کھڑا ہوا ، چلیں ، میرے سالے صاحب میرے ساتھ آئے ہم جب گھر پہنچے تو دیکھا کہ خون کافی بہ چکا تھا وہ ایک ستر پچھتر سال کے بزرگ تھے ان پر غنودگی طاری تھی ، میں نے اور سالت صاحب نے ملکر انہیں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈالا ایک تولیے سے میرے سالے نے ان کا بہتا خون روکنے کی کوشش کی، گھر والوں نے ایک کارڈ دیا اور کہا ان کو پی این ایس شفا لےکر جانا ہوگا گاڑی تیزی سے بھگانا شروع کی ان کی حالت بہت نازک تھی مجھے احساس تھا کہ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے ، بارش کی شدت میں مزید تیزی آرہی تھی مجھے اپنے سے دو تین میٹر آگے تک کچھ نظر نہیں آرہا تھا وہ تو شکر کہ ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا جب میں گل بائی کے قریب پہنچا تو وہاں چند گاڑیاں کھڑی دیکھیں قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہاں پانی اتنا زیادہ کھڑا ہے کہ چھوٹی گاڑی اندر لے جانا ممکن نہیں ، راستہ چونکہ ایک ہی تھا سو مجبوری تھی کہ یہیں سے نکلنا تھا میں نے ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھا اور گاڑی پانی میں ڈال دی مجھے اپنے پیچھے آوازیں سنائی دیں جو مجھے متنبہ کر رہے تھے میں نے ایک سی رفتار رکھی اور اللہ کا شکر کے اس پانی سے بخیر وخوبی نکل گیا وہاں سے ماری پور ٹرک اڈا آیا جو اکثر جام ہوتا ہے لیکن آج کی بارش نے وہاں بھی ویرانی کردی تھی ٹاور سے ہوتا ہوا شاہراہ فیصل آیا میرے سالے صاحب مجھے راستہ بتاتے گئے کینٹ سے ہوتے ہوئے پی این ایس شفا میں داخل ہوا میں تیزی سے ایمرجنسی کی طرف بڑھا اور سٹریچر کے لیے آواز لگائی ، کاش ہمارے ملک کے دوسرے ہسپتال بھی پی این ایس شفا کی طرح ہوں میں نے دیکھا دو افراد تیزی سے سٹریچر لے کر آئے کچھ نہیں پوچھا مریض کو لیا اور تیزی سے اندر داخل ہوئے وہاں بھی کسی نے کچھ پوچھے بغیر انہیںاندر داخل کیا ڈاکٹر آئے کوئی فارم نہیں بھرا گیا آدھے گھنٹے بعد استقبالیہ پر بیٹھی خاتون نے مجھے بلایا اور پوچھا کہ یہ کون ہیں میں انہیں جانتا ہی نہ تھا نہ مجھے ان کا نام معلوم تھا میں نے وہ کارڈ ان کے سامنے رکھ دیا اس نے کارڈ سے ان کی تفصیلات نکالیں پھر مجھے سے پوچھا آپ ان کے کیا ہیں میں نے انہیں پوری کہانی بتائی انہوں نے کہا ان کے گھر والوں کو بلالیں ان کی حالت خطر ے میں ہے میں نے اپنے سالے صاحب سے کہا وہ فون کرے ، تقریبا" آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آئے اور خوشخبر سنائی کہ اب وہ خطرے سے باہر نکل آئے ہیں بروقت پہنچے پر اللہ نے ان کی زندگی بچالی اگر کچھ دیر اور ہوتی تو۔۔۔۔ اس دوران ان کے گھر والے بھی پہنچ گئے رات کے چار بج چکے تھے میں اپنے سالے کو لیکر واپسی کے لیے روانہ ہوا۔۔
ایدھی صاحب کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد آج مجھے یہ واقعہ پھر یاد آیا مجھے محسوس ہوا کہ میں ایدھی بنا ، اور۔۔۔۔۔ہم سب ایدھی بن سکتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *