عمران خان ....بطور حکمران اور انسان

نواز خان میرانی

قارئین ، آپ Deputatonپہ آئے ہوئے، باریش اور باکردار وباوفا، سیاستدان جو واحد سیاستدان ہیں، جنہوں نے پاکستان کے حالیہ انتخابات کا بائیکاٹ کرکے، اور عبوری حکمرانوں کو للکارکر ”اعزاز برتری“ حاصل کرلیا ہے، یہ جزوقتی دینی سیاستدان نجانے کس مصلحت اور مفاد کے تحت مستقل بنیادوں پہ وطن سے سات سمندر پار چلے گئے ہیں۔ میرے خیال میں وہ ”ڈبل نیشنلٹی“ رکھتے ہیں، اس لیے انتخاب میں حصہ تو لے نہیں سکتے، کیونکہ الیکشن کمیشن کی طرف سے نئے قوانین وضوابط کے تحت اس پہ پابندی ہے۔ یہ ”نئی صورت حال“ ان کے لیے چونکہ خاصی تکلیف دہ، اور ان کی توقع اور امیدوں کے بالکل برعکس تھی ، لہٰذا انہوں نے رانا ثناءاللہ کی تجویز کے مطابق ”سپرنگ“ اُتار کر بات کرتے ہوئے کہا بلکہ قوم پہ احسان کرتے ہوئے، انتخابات کو قبل از وقت مشکوک قرار دے کر اپنی ” بریت“ کا اظہار کردیا، اور اپنے سابقہ حلیف اور ساتھی بلکہ ”سامع“ کو پیر بدلنے پر سخت سرزنش بھی کی۔ ان کی نقالی میں اب طاہرالقادری کے منہ بولے چھوٹے بھائی کے دستِ راست اور بندہ خاص نے بھی موجودہ الیکشن پہ شک کا اظہار کردیا ہے۔ حالانکہ قوم تو عمران خان کے سابقہ پیر”کوچھوڑ کر ”نئی پیرنی“ کو مستند اور کامل سمجھتی ہے، جن کی وجہ سے عمران خان میں واضح تبدیلی نظرآتی ہے، میری بات سے شاید ان کے اتالیق خاص، ہارون الرشید صاحب اتفاق نہ کریں، مگر زمینی حقیقت یہی ہے، کہ ”تبدیلی“ آتو نہیں گئی مگر آتی جارہی ہے، چونکہ ان کا دودفعہ خانہ خراب کرنے والا کتا ”شیرو“ مرچکا ہے، لہٰذا اس کے علاوہ جو تبدیلی آئی ہے، اس کی بات کرلیتے ہیں، مثلاً وہ اب ”اوے نوازشریف“نہیں کہتے، شاید اس کی وجہ ان کی معزولی، اور قید بامشقت ہو۔ مگر اب وہ عمرے پہ جانے، اور درگاہوں اور درس لینے کو پسند کرنے لگے ہیں اور نماز پڑھنے کی تصاویر سوشل میڈیا پہ نہیں لگاتے، اور تسبیح ہاتھ میں لینے میں باقاعدگی آگئی ہے، ہمیں تو اب دیکھ کر لگتا ہے ، کہ آسودگی ازدواج نے بالآخر ”ٹھنڈ“ ڈال ہی دی ہے، کیونکہ انداز تقریر میں بھی تحمل اوربردباری آگئی ہے، اب تک ہم یہی سنتے آئے ہیں ، کہ مرد کی کامیابی کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے، مگر ذہن میں یہ سوال آیا کہ عورت کی کامیابی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہوتا ہے؟ شاید اس کا جواب بشریٰ بی بی کے سابقہ خاوند خاور مانیکا کے پاس ہو، کیونکہ وہ اب بھی اپنی سابقہ بیوی کے گن گاتے ہیں، قارئین یہ بات میری اس بات سے سمجھنے کی کوشش کریں ، میرے ایک دوست مستقل بنیادوں پر جرمنی منتقل ہوگئے، اور بعد میں وہاں سے شادی بھی کرلی، ان کی ازدواجی زندگی نہایت قابل رشک تھی، اور وہ اس سے بہت مطمئن بھی تھے، کچھ عرصے کے بعد وہ مجھے ملنے آئے، تو ان کی بیگم ان کے ساتھ نہیں تھی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اس دفعہ بیگم کو پاکستان نہیں لائے تو انہوں نے جواب دیا، کہ میں نے تو اسے طلاق دے دی ہے۔
میری حیرت اور پریشانی کو دیکھ کر بولے، کہ آپ فکر مند نہ ہوں، ہم نے باہمی مفاہمت رضامندی اور اپنی مرضی سے یہ کام کیا ہے، اس کی وجہ کچھ یوں ہے، کہ میں زیادہ زور اس بات پر دے رہا تھا، کہ میں باپ بننے کا شوقین ہوں، مگر وہ پانچ سالوں تک بالکل ماں نہیں بننا چاہتی تھی۔ کیونکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے اقوام متحدہ میں ملازمت کرنا چاہتی تھی، مگرمیں اس منصوبے کے خلاف تھا لہٰذا میں نے سوچا کہ بجائے اس کے کہ میں بیوی سے ”منہ ماری“ کرکے ادھر ادھر منہ مارتا پھروں ، اس سے بہتر ہے کہ بخوشی علیحدگی اختیار کرلوں۔

Image result for imran khan

اپنے دوست کی یہ بات سن کر میں سوچوں میں مکمل ڈوب گیا ، اور میراخیال اسلامی ملک کے بڑے آرکیٹکٹ کی طرف چلا گیا، کہ سابقہ بیوی ، سابقہ کیسے ہوسکتی ہے جب کہ ان میں اتنا اختلاف بھی نہ ہو، اس لیے طلاق کے باوجود بھی علیحدہ گھر ہونے کے باوجود وہ اکٹھے رہتے ہیں ، قارئین اگر آپ کنوارے ہیں ، تو پھر تو آج کل کے ماحول کے مطابق، آپ ہم شادی شدہ انسانوں سے زیادہ اس کا مطلب سمجھتے ہیں، بشریٰ بی بی، بلکہ بھابی کے پیروں کے مرشد سید مظفرعلی شاہ کے ایام جوانی کے یہ اشعار بطور گواہی پیش ہیں، کہ
نگاہ جاناں کا سامنا ہے
دل حزیں آج تھا مناہے
جمال صبح وصال کیسا ؟
انہیں خیالوں میں جاگنا ہے
نہ آئے برکھا، نہ بھیگے دامن
مجھے تو ملہار راگنا ہے
میری دوست کی مثال، اور ”مرشد مظفر“ کے اشعار لکھنے کا مطلب یہ ہے، کہ اگر انسان شادی شدہ ہو، اور انسان دن رات،
”کہیں دو دل جو مل جاتے
بگڑتا کیا زمانے کا ؟؟؟
گنگناتا پھرے، اس سے بہتر ہے کہ طلاق لے کر ”ری کنڈیشن“ شوہر سے شادی کرلے، کیونکہ اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے، مگر طلاق دینے ، یا لینے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ، بلکہ قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ اگر بیوی اکھڑ شوہر سے نباہ کرتی ہے، تو اس کا صلہ جنت ہے، اور اگر شوہر ناپسندیدہ بیوی سے نباہ کرتا ہے، تو اس کا صلہ بھی اللہ تعالیٰ جنت کی صورت میں دیتا ہے۔
قارئین ، کلمہ حق تو یہ ہے، کہ شک کا فائدہ اس لیے دینے کو دل نہیں کرتا، کہ وہ تو عدالتوں میں دیا جاتا ہے، مگر میرا یقین ہے کہ عمران خان کے صرف پیچھے ہی نہیں، آگے بھی اور دائیں، بائیں بھی کوئی ہے، صرف اوپر اور نیچے اس لیے نہیں کہتا کہ وہ صرف شیطان ہوتا ہے، جوکہ خون میں بھی ہوتا ہے۔ قارئین، عمران خان کے حق میں جب وہ پہلی دفعہ منظر عام پہ آئے تھے، جس کو صحافیانہ زبان میں ”رونمائی“ کہتے ہیں، تو میں نے ان کے حق میں کچھ کالم بھی لکھے تھے۔ جوتحریک انصاف کی فیس بک پر بھی لگائے گئے تھے، مگر بعد میں میرا ذہن چند سوالات پر اٹک گیا، مثلاً ان کی زبان درازی پر تفاہم اخلاقیات پر، عورتوں کے ساتھ مخلوط اکٹھ پر، ان کے انداز گفتگو پر اور حرکات جسمانی پر، ان کے بارے میں ”الزام مئے“پر اور ان کی بخیلی پر سنا ہے، کہ وہ اپنے ملنے والوں اور والیوں کو چائے تک نہیں پوچھتے، اور بخیل کے بارے میں فرمان ہے، کہ جو حضرت علی ہجویری ؒ نے ایک واقعہ میں بڑی خوبصورتی سے بتایا ہے، کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ ایک بار کسی نخلستان میں ایک جماعت سے ملے، دیکھا کہ ایک حبشی غلام بھیڑ بکریاں چرارہا ہے، ایک کتا اس کے نزدیک بیٹھ گیا، غلام نے روٹی نکال کر کتے کے آگے ڈال دی، اور پھر اسی طرح دوسری اور تیسری روٹی بھی کتے کو کھلا دی، عبداللہ ؓ نے غلام سے پوچھا، تمہیں کتنی روٹیاں ہرروز ملتی ہیں، غلام نے جواب دیا جتنی آپ نے دیکھی ہیں، آپ نے کہا ساری روٹیاں تو آپ نے کتے کو کھلا دیں، غلام نے جواب دیا کہ خبر نہیں کہ وہ کتنی دور سے اس امید پر آیا ہے اور میں اس کی دور سے چل کر آنے کی تکلیف کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا، حضرت عبداللہؓ کو غلام کی یہ بات اتنی پسند آئی کہ آپ نے غلام کو بھیڑبکریوں اور نخلستان سمیت خریدلیا، اور پھر غلام کو خدا کی رضا کی خاطر آزاد کرکے سب کچھ اس کے حوالے کردیا، غلام نے آپ کو دعا دی، اور پھر غلام نے بھی بھیڑ بکریاں وغیرہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیں، اور خود وہاں سے چلا گیا۔
پیغمبر رسول ﷺ نے فرمایا کہ سخی بہشت سے قریب، اور دوزخ سے دور اور بعید ہوتا ہے ،جبکہ بخیل دوزخ کے قریب، اور بہشت سے بعید ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا، جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو پیدا فرمایا، جو ایسی ہے، اس میں جو نعمتیں ہیں، نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں کبھی آئی ہیں اور پھر اس جنت کو اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ نے فرمایا کہ تم کچھ بولو، جنت بولی، ایمان والے بے شک فلاح پا گئے، اللہ رب العزت نے فرمایا کہ مجھے میری عزت کی قسم ہے، کہ میرے اندر کوئی بخیل داخل نہیں ہوگا، جو یہاں داخل ہوگا، میرا پڑوسی ہوگا، اور بخیل میرا پڑوسی نہیں ہوسکتا۔ قارئین کرام، اس حوالے سے امید ہے، آپ میری رائے اور میرے ذہن میں آنے والے سوالات پہ معترض اس لیے نہیں ہوں گے، کہ بیس کروڑ مسلمانوں پہ حکومت کرنے والے، اور امت مسلمہ کے ایک بڑے ملک کی نمائندگی کے لیے کوئی پیمانہ کوئی اصول اور کسوٹی تو ہوگی، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پہ ہمارا کونسا سیاستدان پورا اترتا ہے؟ یا اس پیمانے کے نزدیک کون آتا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *